
Sign up to save your podcasts
Or


ماحولیاتی بحران اور پر تعیش زندگی
س بحران کا اصل سبب پر تعیش زندگی ہے۔جدید تہذیب کی ایک بڑی خرابی فضول خرچی اور قدرتی وسائل کے استعمال میں بے دردی کا رویہ ہے۔بڑی کمپنیوں کو نفع پہنچانے کے لئے اور اپنی زندگیوں کو پر تعیش بنانے کے لئے وہ بے پناہ خرچ کرنے اور زیادہ سے زیادہ پر تعیش سامان استعمال کرنے کا مزاج عام کرتے ہیں۔ اشتہارات کے ذریعہ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدیں۔گذشتہ چند سالوں میں یہ جنون ہمارے ملک میں بھی بے انتہا بڑھ گیا ہے۔ خریداری محض ضروریات کی تکمیل کے لیے نہیں رہی ،بلکہ ایک شوق بن گئی۔ بازار جانا اور خریداری کرنا دلچسپ تفریح قرار پایا، اور خریداری زندگی کی علامت سمجھی جانے لگی۔اب آن لائن خریداری کی سہولتوں نے تو بچوں، بڑوں سب کے اندر فضول خریداری کا جنون پیدا کردیا ہے۔ ایک ایک گھر میں کئی کئی گاڑیاں، بچوں کے ہاتھوں میں جدید ترین ماڈل کے سیل فون، ہمہ اقسام کی قالینیں اور صوفے، باتھ رومزمیں دسیوں طرح کے صابن، شیمپو، لوشن اور کریم یہ سب اسی صارفیت پسند (Consumerist) تہذیب کی علامتیں ہیں۔ایک محتاط اندازہ کے مطابق شہروں میں متوسط درجہ کا ایک خاندان، جس کی ماہانہ آمدنی ایک اسی ہزار روپیہ ہے، اوسطاً دو ہزار روپیہ باتھ روم، اور ڈریسنگ ٹیبل پر خرچ کرتا ہے۔ان اشیا ء کی خریداری اور فضول خرچی کی وجہ سے قدرتی وسائل کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں قدرتی وسائل کی ایسی لوٹ مچی کہ حالیہ دو تین نسلوں نے قدرتی وسائل کا جتنا تصرف کیا، وہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ میں سیکڑوں نسلوں کے تصرف سے بھی زیادہ ہوگیا۔
By Haadiya e-Magazineماحولیاتی بحران اور پر تعیش زندگی
س بحران کا اصل سبب پر تعیش زندگی ہے۔جدید تہذیب کی ایک بڑی خرابی فضول خرچی اور قدرتی وسائل کے استعمال میں بے دردی کا رویہ ہے۔بڑی کمپنیوں کو نفع پہنچانے کے لئے اور اپنی زندگیوں کو پر تعیش بنانے کے لئے وہ بے پناہ خرچ کرنے اور زیادہ سے زیادہ پر تعیش سامان استعمال کرنے کا مزاج عام کرتے ہیں۔ اشتہارات کے ذریعہ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدیں۔گذشتہ چند سالوں میں یہ جنون ہمارے ملک میں بھی بے انتہا بڑھ گیا ہے۔ خریداری محض ضروریات کی تکمیل کے لیے نہیں رہی ،بلکہ ایک شوق بن گئی۔ بازار جانا اور خریداری کرنا دلچسپ تفریح قرار پایا، اور خریداری زندگی کی علامت سمجھی جانے لگی۔اب آن لائن خریداری کی سہولتوں نے تو بچوں، بڑوں سب کے اندر فضول خریداری کا جنون پیدا کردیا ہے۔ ایک ایک گھر میں کئی کئی گاڑیاں، بچوں کے ہاتھوں میں جدید ترین ماڈل کے سیل فون، ہمہ اقسام کی قالینیں اور صوفے، باتھ رومزمیں دسیوں طرح کے صابن، شیمپو، لوشن اور کریم یہ سب اسی صارفیت پسند (Consumerist) تہذیب کی علامتیں ہیں۔ایک محتاط اندازہ کے مطابق شہروں میں متوسط درجہ کا ایک خاندان، جس کی ماہانہ آمدنی ایک اسی ہزار روپیہ ہے، اوسطاً دو ہزار روپیہ باتھ روم، اور ڈریسنگ ٹیبل پر خرچ کرتا ہے۔ان اشیا ء کی خریداری اور فضول خرچی کی وجہ سے قدرتی وسائل کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں قدرتی وسائل کی ایسی لوٹ مچی کہ حالیہ دو تین نسلوں نے قدرتی وسائل کا جتنا تصرف کیا، وہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ میں سیکڑوں نسلوں کے تصرف سے بھی زیادہ ہوگیا۔