
Sign up to save your podcasts
Or


حدیث سے صاف واضح ہے کہ وہ قلّت بہتر ہے جو فائدہ مند ہو ، بہ نسبت اس کثرت کے جو بے کار ہو۔قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالی نے آزمائشوں میں پورا اترنے والوں اور انبیاءکرام علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کا ذکر کیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ الّا قلیلا کا لفظ استعمال کیاگیا ہے ۔کہ حق کے سامنے سینہ سپر ہونے والے اورحق کو قبول کرنے والے ہمیشہ تعداد میں کم تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ قلیل تعداد ہمیشہ تاریخ میں نمایاں کیوں ٹھہری ؟ اور ہمیشہ اکثریت پر غالب کیسے رہی؟ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ یہ تعداد میں کم ضرور تھے، لیکن اللہ پر توکل اورایمان کے عظیم سرمائے سے لیس ، عمدہ اوصاف کے مالک، انتھک کوششوں کے حامل ، اعلی تدابیر ، اعلی سوچ اور بے لوث خدمات پیش کرنے والے عناصر تھے ۔ ایک اور حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابی کے عمدہ اوصاف پر یوں تبصرہ فرمایاکہ:
By Haadiya e-Magazineحدیث سے صاف واضح ہے کہ وہ قلّت بہتر ہے جو فائدہ مند ہو ، بہ نسبت اس کثرت کے جو بے کار ہو۔قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالی نے آزمائشوں میں پورا اترنے والوں اور انبیاءکرام علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کا ذکر کیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ الّا قلیلا کا لفظ استعمال کیاگیا ہے ۔کہ حق کے سامنے سینہ سپر ہونے والے اورحق کو قبول کرنے والے ہمیشہ تعداد میں کم تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ قلیل تعداد ہمیشہ تاریخ میں نمایاں کیوں ٹھہری ؟ اور ہمیشہ اکثریت پر غالب کیسے رہی؟ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ یہ تعداد میں کم ضرور تھے، لیکن اللہ پر توکل اورایمان کے عظیم سرمائے سے لیس ، عمدہ اوصاف کے مالک، انتھک کوششوں کے حامل ، اعلی تدابیر ، اعلی سوچ اور بے لوث خدمات پیش کرنے والے عناصر تھے ۔ ایک اور حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابی کے عمدہ اوصاف پر یوں تبصرہ فرمایاکہ: