عصر کی نماز ادا کرکے مما جائے نماز پر بیٹھی دعا کرہی رہی تھیں کہ ڈور بیل کی مسلسل ڈنگ ڈانگ ڈنگ ڈانگ سے گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ نہ جانے کون بے صبرا بندہ کال بیل پر ہاتھ دھرے کھڑا ہے!‘‘ تیزی سے جا کر دروازہ کھولا تو حیرانی کی انتہا نہ رہی ۔ فرزین زار و قطار روتا ہوا کھڑا تھا۔
’’ اللہ خیر! کیا ہوا میرے بچے؟‘‘وہ فرزین کو سینے سے لگا کر اندر لے آئیں۔صوفے پر بٹھایا، رومال سے آنسو صاف کیے اور پانی پلایا۔مما نے فرزین کا چہرہ گیلے ہاتھوں سے صاف کیا، پھر بھی اس کی ہچکیاں ہی نہیں رک رہی تھیں۔مما نے اس کی ہتھیلیاں اور گھٹنے چیک کیے، کہیں چوٹ یا گرنے کے نشان بھی تو موجود نہیں تھے۔
’’فرزین بیٹا!ابھی تو مسجد گئے تھے آپ، کیا ہوا؟ ذرا بتائیے مجھے!‘‘
’’میرا کان مروڑا ہے مولانا نے۔ بہت ڈانٹا ہے سبھی بچوں کو ، اور مسجد میں آنے سے منع کیا ہے۔ اوںاوں…اب میں نہیں جاؤں گا مسجد۔‘‘ فرزین نے پھر رونا شروع کردیا۔اتنے میں دادی اماں بھی نماز سے فارغ ہوکر تسبیح لیے وہیں آگئیں۔
’’ دلہن ! میں پوچھتی ہوں کیوں چھوٹے بچے کو اکیلے مسجد بھیجتی ہو؟‘‘ وہ فرزین کی دوسری جانب بیٹھ گئیں۔
’’میرا راجہ !ابوکے آفس سےآنے کے بعد ان کے ساتھ مغرب کی نماز کے لیے مسجد جانا۔ عصر کی نماز گھر میں ادا کرنا۔ ‘‘
بس ۔فرزین کو تو یہی چاہیے تھا۔جلدی سے گھر میں عصر کی نماز ادا کرکے دوستوں کے ساتھ گراؤنڈ میں کھیلنا۔جماعت کے انتظار میں اس کے کھیلنے کا وقت جو کم ہوجاتا تھا۔عصر سے مغرب، اسی وقت تو اسے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت تھی۔
فرزین کی جینیئس مام نے غور سے فرزین کا چہرہ دیکھا۔دادی اماں کے سینے سے لگ کراپنے درد کو بھلا کر وہ نارمل ہورہا تھا۔
مما نے اب یہاں سے اٹھنا مناسب سمجھا اور کچن میں جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ ایسا تمھارے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ مولانا صاحب نے یہی درگت بنائی تھی تمھاری۔‘‘ دادی ماں نے پوتے کا کان سہلاتے ہوئےپیار کیا۔