اس کے بعد کے دلکش منظر کو میں کیسے پیش کروں؟نئے ارکان کے ساتھ ہی تمام مرد و خواتین ا راکین جماعت نے تجدید عہد کیا۔بہت ہی پر وقار مجلس تھی۔نغمۂ توحید سے مرتضی ٰپور کا وہ قطعہ ٔزمین معمور تھا۔سب نے ایک ہی خواب دیکھا تھا ، اور اس کی تعبیر کی کوشش کے لیے یہاں جمع تھے۔ اللہ کی سر زمین پر اللہ کے قانون کے نفاذ کے لیے،ظلم و نا انصافی کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لیے،اقامت دین کے لیے۔
امیر حلقہ رضوان الرحمٰن خان صاحب نے اپنے خطاب میں اسی نصب العین پر روشنی ڈالی کہ اس اجتماع میں شریک 2003 ارکان اپنے اپنے مقام پر مینار نور بنیں ۔ امیر کی سوچ، فکر اور پیغام مامورین تک پہنچے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا دین غالب ہوکر رہےگا، اللہ قوت والا عزت والا ہے ۔یہی احساس ہمارے لیے ہتھیار کا کام کرتا ہے۔قنوطیت و مایوسی اپنے اوپر طاری نہ ہونے دیں۔سب سے اہم بات سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے بغیر ہم اقامت دین کی اس عظیم کام کو انجام نہیں دے سکتے۔اس کے لیے قرآن سے مضبوط تعلق قائم کریں، ملت میں جائیں انھیں بھی رجوع کریں۔’’میرے دست و بازو تم ہو‘‘ اس عنوان کے تحت بہت دل سوزی کے ساتھ انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔