
Sign up to save your podcasts
Or


فکر و نظر والے جاندار سیشن کے اختتام پراسی سے متعلق ’’ہندتوا انتہا پسندی نظریاتی کشمکش اور مسلمان ‘‘ امیر جماعت کی اس چشم کشا کتاب کا کنوینر صاحب نے تعارف کرایا۔معلوم یہ ہوا کہ اس اجتماع ارکان میں اس کی متعددکاپیز فروخت ہوئیں۔
اس کے بعد 7 متوازی سیشنز تیار تھے۔سب سے اہم بات یہ کہ خواتین کو کسی بھی سیشن میں اپنی دلچسپی کے مطابق شرکت کی آزادی تھی۔ ہم نے’معمار جہاں تو ہے‘ خصوصاً برائے خواتین میں شرکت کو پسند کیا۔ ہر سیشن کی بریفنگ ، متعلقہ گروپ لیڈر نے پروگرام کے تیسرے دن پیش کی۔مغرب کےبعد موضوعاتی سیشن تھا۔اس میں جملہ چار تقاریر رہیں۔سب ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔
پہلی تقریر قیم جماعت محترم ٹی عارف علی نے’’ باطل قوتیں اور منصوبہ بند کوششیں‘‘ اس عنوان کے تحت پوری تاریخ پیش کی۔ ’’ آزمائشی حالات میں ہمارے اعتقادی نظام کا کردار ‘‘ جناب ضمیر قادری کی تھی۔دونوں تقاریر کا آپس میں مجھے خاص تعلق لگا۔پہلے مقرر نے حقیقت کو بے نقاب کیا، باطل کی منصوبہ بند سازشوں سے پردہ اٹھایا۔
ساتھ ہی دوسرے مقرر نے باطل سے نبردآزما ہونے کے لیے اعتقادی نظام کے مضبوط کردار کو بہت ہی پرسکون انداز میں پیش کیا۔آپ نے کہا :’’اللہ رب العزت پر جو ایمان رکھتا ہے ، وہ سب سے زیادہ بہادرا ور نڈر انسان ہوتا ہے۔‘‘طاقت کے بارے میں کہا:’’ ہمارا Imagination جہاں ختم ہوتا ہے وہیں سے اللہ کا Super power شروع ہوتا ہے۔‘‘مجھے مقرر کے تین نکات:(1)تزکیۂ علم و عمل(2)منصوبہ بندی(3)مضبوط قوت نافذہ؛ بہت اچھے لگے۔کوئی سونا اس وقت تک وقت تک کندن بن نہیں سکتاجب تک کہ بھٹی میں تپ کراس کا نکل جانا نہیں ہوتا۔
By Haadiya e-Magazineفکر و نظر والے جاندار سیشن کے اختتام پراسی سے متعلق ’’ہندتوا انتہا پسندی نظریاتی کشمکش اور مسلمان ‘‘ امیر جماعت کی اس چشم کشا کتاب کا کنوینر صاحب نے تعارف کرایا۔معلوم یہ ہوا کہ اس اجتماع ارکان میں اس کی متعددکاپیز فروخت ہوئیں۔
اس کے بعد 7 متوازی سیشنز تیار تھے۔سب سے اہم بات یہ کہ خواتین کو کسی بھی سیشن میں اپنی دلچسپی کے مطابق شرکت کی آزادی تھی۔ ہم نے’معمار جہاں تو ہے‘ خصوصاً برائے خواتین میں شرکت کو پسند کیا۔ ہر سیشن کی بریفنگ ، متعلقہ گروپ لیڈر نے پروگرام کے تیسرے دن پیش کی۔مغرب کےبعد موضوعاتی سیشن تھا۔اس میں جملہ چار تقاریر رہیں۔سب ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔
پہلی تقریر قیم جماعت محترم ٹی عارف علی نے’’ باطل قوتیں اور منصوبہ بند کوششیں‘‘ اس عنوان کے تحت پوری تاریخ پیش کی۔ ’’ آزمائشی حالات میں ہمارے اعتقادی نظام کا کردار ‘‘ جناب ضمیر قادری کی تھی۔دونوں تقاریر کا آپس میں مجھے خاص تعلق لگا۔پہلے مقرر نے حقیقت کو بے نقاب کیا، باطل کی منصوبہ بند سازشوں سے پردہ اٹھایا۔
ساتھ ہی دوسرے مقرر نے باطل سے نبردآزما ہونے کے لیے اعتقادی نظام کے مضبوط کردار کو بہت ہی پرسکون انداز میں پیش کیا۔آپ نے کہا :’’اللہ رب العزت پر جو ایمان رکھتا ہے ، وہ سب سے زیادہ بہادرا ور نڈر انسان ہوتا ہے۔‘‘طاقت کے بارے میں کہا:’’ ہمارا Imagination جہاں ختم ہوتا ہے وہیں سے اللہ کا Super power شروع ہوتا ہے۔‘‘مجھے مقرر کے تین نکات:(1)تزکیۂ علم و عمل(2)منصوبہ بندی(3)مضبوط قوت نافذہ؛ بہت اچھے لگے۔کوئی سونا اس وقت تک وقت تک کندن بن نہیں سکتاجب تک کہ بھٹی میں تپ کراس کا نکل جانا نہیں ہوتا۔