Haadiya e-Magazine

میں بھی حاضر تھی وہاں قسط:۲ تحسین عامر


Listen Later

سچ بتاؤں تومجھے عنوان سمجھ میں نہیں آیا تھا۔بس مقرر محترم محی الدین غازی فلاحی کو سننے کا شوق تھا۔ اب تک مولانا کو آن لائن سناتھا، خوشگوار خاندان اور قرآن سے تعلق کے موضوعات پر،آج محترم کو آف لائن سننا ایک اعزاز لگ رہا تھا۔

جب دھیرے دھیرے موصوف نےبولنا شروع کیا تو ایسا لگاگویا قطرہ بھی دریاکانچوڑ ہے۔ میرے نوٹ بک کے صفحات معلومات سے رنگین ہونے لگے۔کلاسیکل لٹریچر کا تزکیہ سے تعلق سمجھ میں آنے لگا۔گفتگو جاری تھی:
’’کلاسیکل لٹریچر دل پر کاری ضرب لگانے والے ، ذمہ داریوں کا احساس دلانے والے ، اشعار واقوال حکمت سے پر اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔بنو امیہ کے زمانے میں خوشحالی آئی اور اپنے ساتھ بہت ساری آفتیں لے کر آئی ۔شراب، شباب اور کباب کی باتیں کرنے والے شعراء ماحول پر چھانے لگے، ایسے میں بعض شعراء نے اپنے آپ کو زہد کی شاعری کے لیے وقف کیا ، یہ بہت بڑاچیلنج تھا ۔ایسی شاعری کی جو دل کے تاروں کو راست چھیڑتی اور خشیت الہی پیدا کرتی تھی ۔ کلاسیکل لٹریچر کے بڑے بڑےا سٹارہیں، ان کا حوالہ زیادہ تر غیر تحریکی حلقوں میں ملتا ہے، بلکہ بسا اوقات اہل بدعت کے پاس ملتا ہے ۔جیسے عبدالقادر جیلانی ؒ، جنید بغدادی ؒ، اویس قرنی ؒ ، رابعہ بصریؒ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے یہاں تحریکی اور تربیتی لحاظ سے غیر معمولی انقلابی نوعیت کی چیزیں پائی جاتی ہیں ،جن سے تحریک کو استفادہ کرنا چاہیے۔ ‘‘

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine