آج کے دن اجتماع کی کارروائی حدیث قدسی سے شروع ہوئی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ رب العالمین فرماتا ہے:
’’ میں بندے سے اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔‘‘
اس حدیث قدسی کو پیش کیا تھا ڈاکٹر مبشرہ فردوس صاحبہ نے۔میری نگاہیں مدرسہ پر جمی تھیں ، خواتین کی صفوں سے آگےآکر اسٹیج پر اعتماد کے ساتھ جاکر پورے بیس منٹ انھوں نے ہزاروں ارکان کے سامنے درس دیا۔ اور مجھے سابقہ امیر حلقہ: توفیق اسلم صاحب کی بات یاد آئی ،جو انھوں نے ’’جماعت اسلامی اور خواتین ‘‘کے تعلق سے کہی تھی،فرمایا تھا:’’جماعت اسلامی میں مختلف صلاحیتوں والی خواتین موجود ہیں۔ جماعت اسلامی ہر ایک خاتون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کچھ گوشہ نشین ہیں ،کچھ اپنی آواز کا بھی پردہ کرنا چاہتی ہیں۔ جماعت انھیں مجبور نہیں کرتی۔ کچھ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، تقریری صلاحیتیں بھی رکھتی ہیں اور بہتر طریقے سے اپنی بات پیش کرتی ہیں۔ایسی خواتین کو اسلام جو اجازت دیتا ہے، ہم ان کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، انھیں مواقع عطا کرتے ہیں۔‘‘
اجتماع ارکان میں یہ میری پہلی شرکت تھی۔ میں نے اس کو سچ جانا۔حدیث کی تشریح کیا تھی! سیرت کے البم سے خوبصورت ویڈیو کلپس۔انتہائی نا گفتہ بہ حالات ہوں پھر بھی منزل پر نگاہ ہو۔تاریکی میں بھی روشنی کی رمق ہو۔غار میں چھپے ہیں، انعام کے لالچ میںدشمن سامنے کھڑا ہے ، پھر اللہ کے رسول ﷺ کہتے ہیں :’’سراقہ! میں تمھارے ہاتھوں میں قیصر و کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔‘‘