Haadiya e-Magazine

میں بھی حاضر ’تھی‘ وہاں تحسین عامر


Listen Later

جب حالات سازگار ہوئے، اجتماع کا پلان سامنے آیا۔دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ الحمدللہ رب العالمین۔پروگرام Pdf کی شکل میں واٹس ایپ پر پہنچ چکا تھا۔ ہم نے پہلا کام یہ کیاکہ اس کا پرنٹ آؤٹ نکلوایا ۔اشارات زندگی نو کا مطالعہ لاک ڈاؤن میں شروع کرچکےتھے،جو ہمارے لیے قابل فہم تھے(راستہ اور منزل والے ) سچی بات تو یہ کہ اس کے بعد والے اشارات کو سمجھنے کے لیے کافی محنت کرنی پڑی،ا سٹڈی سرکل اور گروپ ڈسکشن ارینج کیے گئے۔

’’عقلمند پر لازم ہے کہ زمانہ شناس ہو۔‘‘پروگرام کاپی میں یہ پڑھ کر اور روبرو سوالات وجوابات سن کر ایسا گمان ہورہا تھا ،گویا امیر جماعت (یک استاد کی طرح ) ارکان شرکاء سے اسٹیج سے سوالات کریں گےاور ہم کو جواب نہ آئے تو رکنیت سے خارج کر دینگے۔
اللہ ! ہم نکمے سہی ،پر جماعت سے وابستہ رکھنا کہ جماعت سے ہم عشق رکھتے ہیں۔اللہ جزاے خیر عطا فرمائے عبدالجلیل سر کو۔ منتخب اشارات کی فوٹوکاپی ہمیں فراہم کیا۔ہم خواتین نے بھی خوب اسٹڈی کی۔ مشکل الفاظ لکھ لیے، ایک عنوان کو سمجھنے کے لیے تو شہریت پڑھی، گوگل کا سہارا لیا۔بقول بچوں کے: ہماری امیاں تو اجتماع ارکان کی ایسی تیاری کر رہی ہیں گویاNEET کا امتحان درپیش ہو۔
بروز پیر دوپہر 1 بجے ہمارا سفر بذریعہ ٹرین شروع ہوا ۔ ناندیڑ ارکان کا باہمی خلوص و محبت کا عملی مظہر سامنے آیا۔ناظم ِسفر کا نظم اور ناظمہ صاحبہ ملکہ فردوس باجی کا ہر ایک کا خیال دیدنی تھا۔اللہ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ الحمدللہ رات 9 بجے ہم مرتضیٰ پور پہنچ گئے۔انتظامات کےکیا کہنے! ذمہ داران کی محنت و مشقت کا ثمرہ اللہ دونوں جہاں میں عطا فرمائے۔اجتماع کو کامیاب بنانے میں انھوں نے کوئی کسرنہیں چھوڑی،اور امیر جماعت کا یہ قول یاد آگیا :’’اچھی تقریروں سے، اچھے انتظامات سے ،اچھے اسکرین سے ،لذیذ کھانوں سے اجتماعات کا میاب نہیں ہوتے بلکہ ارکان کے کردار سے جماعت سے تعلق میں مضبوطی کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں۔‘‘( زاد راہ ،نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا )

...more
View all episodesView all episodes
Download on the App Store

Haadiya e-MagazineBy Haadiya e-Magazine