
Sign up to save your podcasts
Or


رمضان کا بہت گہرا تعلق قرآن سے ہے۔ اس بابرکت مہینے میں عبادت کا تعلق بھی نماز ،قرآن ، انفاق اور سلوک سے ۔مولانا ابو الکلام آزاد’’ ترجمان القرآن‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ:
’’ جس قرآن کی عظمت کی وجہ سے اس ماہ کو برکت بخشی گئی، اسے عظمت والا مہینہ بنایا گیا، مسلمانوں نے بڑے تزک و احتشام سے رمضان کو تو لے لیا، لیکن قرآن کو یکسر بھلا دیا ۔‘‘
قرآن پر عمل کے لیے انسان میں جو صفات مطلوب ہیں ،اس کی آبیاری کا مہینہ رمضان ہے ۔تاہم آج سے بیس تیس سال پہلے کی نسبت قرآن کے تئیں،خصوصاً خواتین کے رویے میں قابل قدر تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ پچھلے وقتوں میں صرف رمضان میں ہی تلاوت کی غرض سے اہتمام سے قرآن کو کھولا جاتا ،اور وہ بھی صرف بوڑھی خواتین اس کی تلاوت کا اہتمام فرماتی تھیں ۔اسی طرح کسی کی موت پر قرآن بخشنے کے لیے کھولا جاتا ، یا نیا گھر بنالیں تو قرآن خوانی کے لیے ،کسی سکرات کے مریض قریب سورہ یٰسٓ سنانے کے لیے یا نئے گھر اور دوکان یا مکان کےافتتاح کے لیے،یا پھرر مدرسے اور مکتب میں قرآن کھلا کرتا ،تاہم اب خواتین میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے ۔
اس مضمون میں موجود متعارف ہونے والی شکلوں کے ساتھ کچھ مشورے بھی اس سے متعلق رکھے جائیں گے ۔
پہلےقرآن سے تعلق کی وہ مختلف شکلیں، جو خصوصاً رمضان میں سامنے آتی ہیں، درج ذیل ہیں :
دورۂ قرآن
قرآن مجید کو رمضان میں سماعت کا رجحان ماضی قریب میں بڑھاہے، سبھی خواتین رمضان میں صبح کے وقت جمع ہوجاتی ہیں، سب کے ہاتھ میں قرآن ہوتے ہیں، ایک خاتون بلند آواز سے صرف تلاوت کرتی ہے اور باقی سب اسے دیکھتے ہیں،پھر کوئی ایک خاتون قرآن پاک سمجھاتے ہوئے اس کی تلخیص پیش کرتی ہے ۔
سماعت قرآن مع ترجمہ
خواتین اپنے اپنے قرآن لے کر آتی ہیں۔ کسی ایک جگہ جمع ہوکر ایک خاتون بلند آواز سے ایک رکوع پڑھتی ہے، اور دوسری خاتون اسی رکوع ترجمہ سناتی ہے ،تمام بہنیں اس پر غور کرتے ہوئے سماعت کرتی ہیں ،اور درمیان میں اگرکوئی بات نہ سمجھ میں آئے یا گفتگو مقصود ہوتو خواتین سوال پوچھتی ہیں، کوئی ایک ایسی خاتون جس کا مطالعہ ہو، وہ اس کی تشریح اور وضاحت کرتی ہے۔
کہیں اگر خاتون کی بلند خوانی کا مسئلہ ہو یا شرعی عذر ہو اور کوئی دوسرا فرد پڑھنے کو تیار نہ ہوتو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ مختلف ایپس سے قرآن کی تلاوت اور ترجمہ پلے کیا جاتا ہے، سب بہنیں سنتی ہیں، جہاں ضرورت ہو وہاں روک کر وضاحت کی جاتی ہے ۔اس سماعت کے نظم کے کئی فوائد ہیں۔ تلفظ کا اشکال دور ہوتا ہے، قرآن فہمی کے ذریعہ لفظی ترجمہ سننے والی بہنوں کا اعادہ ہوجاتا ہے ، احکامات پر غور وفکر کیا جاتاہے۔
اس کا بڑا فائدہ ان خواتین اور طالبات کو بھی ہے، جو اب تک احکامات سے نابلد تھیں، جیسے: نامحرمات کی فہرست ، وراثت کی تقسیم ، اور مرد و خواتین سے قرآن کی مخاطبت کےدائرہ کار اور فرائض و حقوق سے واقفیت ہوتی ہے ۔
آن لائن قرآن کلاس
یہ ایک ماہ کا کورس کئی سائٹس نے متعارف کروایا ہے ،جو خواتین اپنے چھوٹے بچوں یا جاب کی مصروفیت یا کسی عذر یا شوہر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کہیں جاکر سماعت کی سہولت نہ پائیں ،وہ ان کاایک ماہ کا کورس جوائن کرسکتی ہیں ،خصوصاً رمضان میں:
By Haadiya e-Magazineرمضان کا بہت گہرا تعلق قرآن سے ہے۔ اس بابرکت مہینے میں عبادت کا تعلق بھی نماز ،قرآن ، انفاق اور سلوک سے ۔مولانا ابو الکلام آزاد’’ ترجمان القرآن‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ:
’’ جس قرآن کی عظمت کی وجہ سے اس ماہ کو برکت بخشی گئی، اسے عظمت والا مہینہ بنایا گیا، مسلمانوں نے بڑے تزک و احتشام سے رمضان کو تو لے لیا، لیکن قرآن کو یکسر بھلا دیا ۔‘‘
قرآن پر عمل کے لیے انسان میں جو صفات مطلوب ہیں ،اس کی آبیاری کا مہینہ رمضان ہے ۔تاہم آج سے بیس تیس سال پہلے کی نسبت قرآن کے تئیں،خصوصاً خواتین کے رویے میں قابل قدر تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ پچھلے وقتوں میں صرف رمضان میں ہی تلاوت کی غرض سے اہتمام سے قرآن کو کھولا جاتا ،اور وہ بھی صرف بوڑھی خواتین اس کی تلاوت کا اہتمام فرماتی تھیں ۔اسی طرح کسی کی موت پر قرآن بخشنے کے لیے کھولا جاتا ، یا نیا گھر بنالیں تو قرآن خوانی کے لیے ،کسی سکرات کے مریض قریب سورہ یٰسٓ سنانے کے لیے یا نئے گھر اور دوکان یا مکان کےافتتاح کے لیے،یا پھرر مدرسے اور مکتب میں قرآن کھلا کرتا ،تاہم اب خواتین میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے ۔
اس مضمون میں موجود متعارف ہونے والی شکلوں کے ساتھ کچھ مشورے بھی اس سے متعلق رکھے جائیں گے ۔
پہلےقرآن سے تعلق کی وہ مختلف شکلیں، جو خصوصاً رمضان میں سامنے آتی ہیں، درج ذیل ہیں :
دورۂ قرآن
قرآن مجید کو رمضان میں سماعت کا رجحان ماضی قریب میں بڑھاہے، سبھی خواتین رمضان میں صبح کے وقت جمع ہوجاتی ہیں، سب کے ہاتھ میں قرآن ہوتے ہیں، ایک خاتون بلند آواز سے صرف تلاوت کرتی ہے اور باقی سب اسے دیکھتے ہیں،پھر کوئی ایک خاتون قرآن پاک سمجھاتے ہوئے اس کی تلخیص پیش کرتی ہے ۔
سماعت قرآن مع ترجمہ
خواتین اپنے اپنے قرآن لے کر آتی ہیں۔ کسی ایک جگہ جمع ہوکر ایک خاتون بلند آواز سے ایک رکوع پڑھتی ہے، اور دوسری خاتون اسی رکوع ترجمہ سناتی ہے ،تمام بہنیں اس پر غور کرتے ہوئے سماعت کرتی ہیں ،اور درمیان میں اگرکوئی بات نہ سمجھ میں آئے یا گفتگو مقصود ہوتو خواتین سوال پوچھتی ہیں، کوئی ایک ایسی خاتون جس کا مطالعہ ہو، وہ اس کی تشریح اور وضاحت کرتی ہے۔
کہیں اگر خاتون کی بلند خوانی کا مسئلہ ہو یا شرعی عذر ہو اور کوئی دوسرا فرد پڑھنے کو تیار نہ ہوتو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ مختلف ایپس سے قرآن کی تلاوت اور ترجمہ پلے کیا جاتا ہے، سب بہنیں سنتی ہیں، جہاں ضرورت ہو وہاں روک کر وضاحت کی جاتی ہے ۔اس سماعت کے نظم کے کئی فوائد ہیں۔ تلفظ کا اشکال دور ہوتا ہے، قرآن فہمی کے ذریعہ لفظی ترجمہ سننے والی بہنوں کا اعادہ ہوجاتا ہے ، احکامات پر غور وفکر کیا جاتاہے۔
اس کا بڑا فائدہ ان خواتین اور طالبات کو بھی ہے، جو اب تک احکامات سے نابلد تھیں، جیسے: نامحرمات کی فہرست ، وراثت کی تقسیم ، اور مرد و خواتین سے قرآن کی مخاطبت کےدائرہ کار اور فرائض و حقوق سے واقفیت ہوتی ہے ۔
آن لائن قرآن کلاس
یہ ایک ماہ کا کورس کئی سائٹس نے متعارف کروایا ہے ،جو خواتین اپنے چھوٹے بچوں یا جاب کی مصروفیت یا کسی عذر یا شوہر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کہیں جاکر سماعت کی سہولت نہ پائیں ،وہ ان کاایک ماہ کا کورس جوائن کرسکتی ہیں ،خصوصاً رمضان میں: