
Sign up to save your podcasts
Or


انسان، اللہ رب العالمین کی تخلیق ہے، ہر انسان اپنی جسمانی ساخت اور صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جو بچے عمومی اعتبار سے کچھ مختلف پیدا ہوتے ہیں، انھیں معذور یا Special child کہا جاتا ہے ۔معذوری (Disability) کو سماجی سطح پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ معذور بچوں کے تئیں والدین کو شرمندگی کا احساس گہرا ہوتا ہے،تا ہم ایک بات واضح رہے کہ ذہنی معذوری کا نام آٹزم (Autism) ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب کوئی ایسی معذوری نہیں جسے معیوب سمجھا جائے ، بلکہ ایک طرح حیاتیاتی تنوع ہے، Neuro developmental diversity ہے، جس کے آگے مختلف درجے ہیں، اور اس کے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اس کی وجوہات کا جاننا اور علاج ممکن نہیں ہے۔
مگر کریں کیا؟
آٹزم یا آٹزم ا سپیکٹرم ڈس آرڈر کی علامات دو تین سال کی عمر سے لےکرعمر کے کسی بھی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات کبھی کم اور کبھی اور شدید ،دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔ماہرین نفسیات و ورکنگ ا سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں:
گوشہ نشینی اختیار کرنا : بعض بچوں میں گوشہ نشینی کی علامت پائی جاتی ہے اور وہ اپنے بیٹھنے کے لیےنیم تاریک جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ۔والدین بھی اسے معذور یا ابنارمل سمجھ کر اسی طرح رہنے دیتے ہیں، انھیں اس نظر سے نہیں دیکھتے جس کا ہم مضمون میں ذکر کرنے والے ہیں۔
سماجی تعلقات سےبیزار ہونا یا کترانا : آٹسٹک بچوں میں یہ خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں ۔ سماجی تعلقات یا شور سے انھیںگھبراہٹ ہوتی ہے ۔
نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا: ایسے بچوں کی توجہ آواز کی سمت کبھی کبھی نہیں ہوتی ہے، یہ مگن ہوجاتے ہیں اس لیے جلدی جواب نہیں دے پاتے۔
طبیعت میں جارحیت : یہ کبھی کبھی بہت کم اور کبھی بہت زیادہ بھی ہوتی ہے ۔
بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دلی کا اظہار : بہت سخت بدلہ لیتے ہیں۔ کبھی کبھی مظلومیت کا اظہار کرتے ہیں ،گویا سب انھیںمارتے ہیں، کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا ۔
ہر وقت اضطراب اور خوف: کبھی کبھی یہ علامت بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ان جانے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ اضطراب کا شکار ہوتے ہیں ۔
انہماک کی کمی : انہماک میں واضح کمی محسوس کی جاسکتی ہے ۔
الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا : جملے دہرانے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سمجھنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں، جملے بار بار دہراتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا ، ہاتھ جھٹکنا یا ایک ہی کام کو بار بار کرنا جیسے ایک آٹسٹک لڑکی مگ سے پانی ڈالتی رہی، بکٹ کے بھر جانے کے بعد بھی اس کے پانی ڈالنے کا عمل دو گھنٹےتک جاری رہ سکتا ہے۔
بات کرتے وقت آنکھیںچرانا: نظریں چراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں کسی سے نظرین نہیں ملاتے ہیں ۔
ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا: جلد گھبراجاتے ہیں ۔اپنا مطلب سمجھانے یا خیالات کے اظہار میں دشواری کہیں ہکلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور کہیں کہیں باتیں وہ دہراکر سمجھاتے ہیں ۔ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا۔
بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا۔
By Haadiya e-Magazineانسان، اللہ رب العالمین کی تخلیق ہے، ہر انسان اپنی جسمانی ساخت اور صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ جو بچے عمومی اعتبار سے کچھ مختلف پیدا ہوتے ہیں، انھیں معذور یا Special child کہا جاتا ہے ۔معذوری (Disability) کو سماجی سطح پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ معذور بچوں کے تئیں والدین کو شرمندگی کا احساس گہرا ہوتا ہے،تا ہم ایک بات واضح رہے کہ ذہنی معذوری کا نام آٹزم (Autism) ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب کوئی ایسی معذوری نہیں جسے معیوب سمجھا جائے ، بلکہ ایک طرح حیاتیاتی تنوع ہے، Neuro developmental diversity ہے، جس کے آگے مختلف درجے ہیں، اور اس کے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اس کی وجوہات کا جاننا اور علاج ممکن نہیں ہے۔
مگر کریں کیا؟
آٹزم یا آٹزم ا سپیکٹرم ڈس آرڈر کی علامات دو تین سال کی عمر سے لےکرعمر کے کسی بھی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات کبھی کم اور کبھی اور شدید ،دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔ماہرین نفسیات و ورکنگ ا سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں:
گوشہ نشینی اختیار کرنا : بعض بچوں میں گوشہ نشینی کی علامت پائی جاتی ہے اور وہ اپنے بیٹھنے کے لیےنیم تاریک جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ۔والدین بھی اسے معذور یا ابنارمل سمجھ کر اسی طرح رہنے دیتے ہیں، انھیں اس نظر سے نہیں دیکھتے جس کا ہم مضمون میں ذکر کرنے والے ہیں۔
سماجی تعلقات سےبیزار ہونا یا کترانا : آٹسٹک بچوں میں یہ خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں ۔ سماجی تعلقات یا شور سے انھیںگھبراہٹ ہوتی ہے ۔
نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا: ایسے بچوں کی توجہ آواز کی سمت کبھی کبھی نہیں ہوتی ہے، یہ مگن ہوجاتے ہیں اس لیے جلدی جواب نہیں دے پاتے۔
طبیعت میں جارحیت : یہ کبھی کبھی بہت کم اور کبھی بہت زیادہ بھی ہوتی ہے ۔
بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دلی کا اظہار : بہت سخت بدلہ لیتے ہیں۔ کبھی کبھی مظلومیت کا اظہار کرتے ہیں ،گویا سب انھیںمارتے ہیں، کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا ۔
ہر وقت اضطراب اور خوف: کبھی کبھی یہ علامت بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ان جانے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ اضطراب کا شکار ہوتے ہیں ۔
انہماک کی کمی : انہماک میں واضح کمی محسوس کی جاسکتی ہے ۔
الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا : جملے دہرانے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سمجھنے میں مشکل محسوس کررہے ہیں، جملے بار بار دہراتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا ، ہاتھ جھٹکنا یا ایک ہی کام کو بار بار کرنا جیسے ایک آٹسٹک لڑکی مگ سے پانی ڈالتی رہی، بکٹ کے بھر جانے کے بعد بھی اس کے پانی ڈالنے کا عمل دو گھنٹےتک جاری رہ سکتا ہے۔
بات کرتے وقت آنکھیںچرانا: نظریں چراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں کسی سے نظرین نہیں ملاتے ہیں ۔
ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا: جلد گھبراجاتے ہیں ۔اپنا مطلب سمجھانے یا خیالات کے اظہار میں دشواری کہیں ہکلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں اور کہیں کہیں باتیں وہ دہراکر سمجھاتے ہیں ۔ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا۔
بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا۔