غزل 1
دوست کا ذکر دل کو بہار دیتا ہے
ہر اداس لمحے کو نکھار دیتا ہے
جب زمانہ سوالوں میں الجھاتا ہے
دوست جینے کا پھر اعتبار دیتا ہے
دور رہ کر بھی وہ دل کے قریب رہتا ہے
یاد کا پھول نئی خوشبو اُتار دیتا ہے
دکھ کے موسم میں جو ساتھ نبھاتا ہے
وہی رشتہ وفاؤں کا وقار دیتا ہے
زندگی کی ہر اک راہ میں سائے کی طرح
دوست چلتا ہے تو دل کو قرار دیتا ہے