زیست کا استعارہ ہو جاۓ
اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ
ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو
شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ
عین ممکن ہے عشق میں تم کو
حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ
تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں
کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ
کیا مقدر میں تھا لکھا میرے
کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ
دن گزر جاۓ گا مسرت سے
آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ
پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی
گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ
تم نظر بھر کے دیکھ لو جس کو
وہ چمکتا ستارا ہو جاۓ
عشق خود کہہ رہا تھا شوبی سے
سب پہ مت آشکارہ ہو جاۓ