امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت
درس: 02
(فاتحہ؛ فصل 1)
وجودِ اقصیٰ اور صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ
مُدرِّس:
ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ: 25؍ جنوری 2023ء / 02 رجب المرجب 1444ھ
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز
0:20 محققین کی مسائلِ حکمت و حقائق کی تفتیش و تحقیق اور امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نکتۂ نظر
2:23 پہلی فصل میں وجودِ اقصیٰ، صادرِ اول اور تدبیرِ وحدانی کی تحقیق
3:29 فاتحہ میں حکماء کی دس بڑی غلطیوں کی نشان دہی
4:35 حکماء و محققین کی زیادہ تر حکمتِ الٰہیہ میں غلطیاں و کوتاہیاں
5:56 حکمت و فلسفہ کا پہلا سکول آف تھاٹ ہندستان تھا
8:14 منطق و فلسفہ کا آخری سکول آف تھاٹ
9:36 یونانیوں کے دو بنیادی گروہ؛ مشائین اور اشراقیین نیز علومِ طب کی دریافت
11:20 فلکیاتی علوم کی ایجاد
12:12 خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نظام
14:38 مرورِ زمانہ سے انبیاء کی تعلیمات میں تحریفات کا سلسلہ شروع ہوا
15:48 مخلوقات کی اشتراکی وامتیازی خصوصیات
19:11 ما بہ الاشتراک کی اساس پر کائنات پر غوروفکر اور وجود کی تحقیق و تفتیش
23:55 وجود کی تین قسمیں
24:59 وجودِ اقصیٰ کا اطلاق
26:11 وجودِ اقصی کی حقیقت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ
27:10 وجودِ اقصیٰ کا تعلق عقل سے نہیں‘ فلاسفہ کا وہم ظلمانی
27:48 ظلمانی وہم کا تعلق حجابات سے ہے
28:23 حکماء اور عقلاء پر حجابِ سوءِ معرفہ کا غلبہ
30:14 وجودِ اقصیٰ وجود کا ایک فرد‘ فلاسفہ کے پہلے وہم ظلمانی کا رد
33:22 منطق و فلسفہ کے عالم ملا صدر الدین شیرازی کی کج فہمی
34:23 وجودِ اقصیٰ‘ وجود کا فرد نہیں؛ فلاسفہ کے عقلی دلائل
35:52 کائنات کی تمام موجودات پر وجودِ اقصیٰ احاطہ کیے ہوئے ہے
36:58 لفظِ ’’الوجود‘‘ کا مفہوم انتزاعی ہے، تو وجودِ اقصیٰ اس کافرد کیسے ہوا؟
38:59 تمام حقائق کے مراکز‘حقیقتِ قصویٰ کے تحت درج اور اسکی شرح و تفصیل
41:52 لمحات میں وجودِ الاقصیٰ کے لیے ”أول الأوائل“ کی اصطلاح
42:18 شریعت کی رو سے وجودِ اقصیٰ دراصل اسم”الرحمٰن“ ہے
45:09 حقائق کائنات سر متعلق انبیاء کے علوم میں تحریفات
46:03 مناطقہ و فلاسفہ کی وجودِ اقصیٰ کو وجود کا فرد ماننے کی پہلی دلیل
49:58 فلاسفہ کے وہمِ ظلمانی کی دوسری دلیل اور عقلی رد
51:27 موجودات کے متعلق فلاسفہ یونان کے دو سکول آف تھاٹ
53:14 کائنات کی ہر چیز اپنے وجود اور ساخت میں تجلئ رحمان کی محتاج
56:06 وجودِ اقصیٰ (الرحمن) کا ہر پیدا ہونے والی چیز کے ساتھ براہِ راست تعلق
1:01:02 ہر مخلوق اللہ کی شان کا مظہر اور منفرد آثار و خواص رکھتی ہے
1:02:54 وجودِ اقصیٰ کو علت العلل کی بنیاد پر ماننے کا عقلی بطلان نیز وحدتِ حقّہ یا تجلئ رحمان کی حقیقت
1:05:22 فلاسفہ کا مقولہ”لا یصدر من الواحد إلاالواحد“درست لیکن اس کی تفصیلات غلط
1:06:38 صادرِ اول کے بارے میں فلاسفہ کے وہم کا اجمالی جائزہ
1:07:45 ان کے ہاں صادرِ اول حقائق میں سے ایک حقیقت ہے
1:09:05 فلاسفہ کے نکتۂ نظر میں ہر عقل اور ہر فلک مستقل طور پر الگ الگ حقیقتیں ہیں
1:10:45 صادرِ اول بہت ساری انیّات پر مشتمل انیّةِ کبریٰ (شخصِ اکبر) ہے
1:12:54 کائنات کی ہر حقیقت شخصِ اکبر میں سموئے ہوئے ہے
1:14:32 فلاسفہ کے نکتۂ نظر کا تحقیقی جائزہ
1:17:12 شخص اکبر وجودِ اقصیٰ کا پرتو‘ مثالوں سے وضاحت
1:19:21 حرف ’’من‘‘ کی مثال سے اس حقیقت کی مزید توضیح
1:21:55 شخصِ اکبر حقیقتِ قصویٰ تک پہنچنے کا ذریعہ اور معنون کا عنوان
1:21:55تجلی اور اسم کے عنوان کی وضاحت
1:23:18 شخصِ اکبر (صادرِ اول)،شخصِ اصغر(انسان)، انسانِ کبیر(امامِ نوعِ انسانی) سب تجلئ رحمان کے تنزلات
1:25:40 شخصِ اکبر کے چاروں طرف ’’الرحمان‘‘ کا نور ہے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا