The Ghazali Project: اسعد زمان: تہافت الفلاسفہ و احیا العلوم

The Ghazali Project: اسعد زمان: تہافت الفلاسفہ و احیا العلوم

Download on the App Store

The Ghazali Project: اسعد زمان: تہافت الفلاسفہ و احیا العلوم episodes

  • Economics 1 اسلامی اور مغربی تجارت کے اصول میں فرق

    مغرب میں تجارت کا مقصد منافع کمانا ہے۔ ہر چیز منافع کے ماتحت ہے۔ اس کے برعکس مسلمان تاجروں کا مقصد خدمت فراہم کرنا ہے۔ پائیدار اور بہتر خدمت فراہم کرنے کے لیے منافع کمایا جاتا ہے۔ اعمال کی قیمت نیتوں پر منحصر ہے۔ اللہ کی محبت کی خاطر اللہ کی مخلوق کی خدمت، بہترین عمل ہے۔ اس اعلی نیت کی وجہ سے دیانت دار اور امانت دار تاجر انبیاء، صادقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ اس کے برعکس دنیاوی نفع کو اپنا ہدف بنانے والوں کے لیے آخرت میں کچھ نہیں ہوگا۔ اسلامی اور مغربی تجارتی اصولوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

    56 min
  • Atheism 2: الحاد کی جڑ:مغربی علوم کا دھوکہ

    وجودہ مغربی علم عیسائیت کے رد کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کی بنیاد الحاد پر رکھی گئی ہے۔ آج الحاد کے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں مغربی علم کی زہریلی اخلاقی بنیادوں کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ -- See: http://bit.ly/UrduIlhad02   "ادارہ علومِ اسلامی” میں نئے فضلاء کو دیا گیا لیکچر

    ۳۰ رجب ، ۱۴۴۳ مطابق ۵ مارچ ، ۲۰۲۲

    1 hr 36 min
  • Atheism 1 جدید علم الکلام کی ضرورت

         میں نے دارالعلوم کراچی 22 صفر، 1438ھ (22 نومبر 2016) کو، میں الحاد کے لیے نئے دلائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا علم الکلام تیار کرنے کی ضرورت پر ایک تقریر کی

    ج، خدا کے وجود کے خلاف دلائل جارحانہ انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں، اور یہ مغربی فلسفہ اور تعلیم کا ایک اہم عنصر ہے۔

    مغربی تعلیم کے عالمی غلبے کی وجہ سے الحاد کے دلائل پوری دنیا کے مسلمان طلباء کے ذہنوں اور دلوں تک پہنچ رہے ہیں۔

    الحاد کے ان نئے دلائل کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا علم الکلام تشکیل دینا علمائے کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    تحریری مضمون کے لیے دیکھیں

    https://www.scribd.com/document/380213600/Jadeed-Ilmul-Kalam-Countering-Atheism-URDU

    https://azprojects.wordpress.com/2019/09/14/countering-arguments-for-atheism-urdu/  


    1 hr 26 min
  • Students 1: طلباء الجامعة الإسلامية العالمية سے الوداعی خطاب

    Farewell party at Habibi Restaurant in F8 Merkezwas arranged by my students (organized by Uzma Awan), in mid-Jan 2014, when I had left the post of Director General, IIIE, IIUI to join PIDE as Vice Chancellor. This 32m lecture gave some parting advice, and general recommendations about the seeking of knowledge. A summary of the lecture in urdu, prepared by Javed Iqbal, is given below. An English summary (HTTP://bit.do/aziiie) is available from: Farewell Advice to IIIE Students

    (جنو ری 2014)

    (جب آئی آئی آئی ا( ڈی جی) کی پوسٹ سے پائیڈ کے وی سی کی نشست سنبھالی)

    1. علم کی اہمیت

    اللہ نے سب سے پہلے انسانوں کو علم سکھایا اس سے علم کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ علم جو اللہ سے تعلق جوڑے وہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کر دیا گیا ہے اور اسی کے باعث ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے زمانہ عروج دیکھا۔ آج کا مسلمان اس حقیقیت کو نظر انداز کر کے صرف مغربی تقلید کو ہی اپنا مقصد بنا بیٹھا ہے۔ جیسا کے اللہ نے فرمایا کہ” یہ دین اجنبی بن کر آیا اور ایک دن یہ دین اجنبی بن جائے گا”. پھر ایک مقام پر فرمایا کہ “میں اگر پہاڑوں پراس قرآن کو اتارتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے”-

    پھر نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ میں تمہارے اوپر بہت بھاری قرآن اتارنے والا ہوں یعنی اللہ نے مسلمان کو اصل مقصد بتا دیا. لیکن مسلمانوں نے اپنے مقصدِ حقیقی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور دنیا کو ہی آج اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے۔

    (2). عہدِ الست

    عہدِ الست سے قبل ہر انسان کو اللہ نے اپنی بندگی اور اطاعت کا علم دیا اور پھر اس سے عہد لیا کے وہ دنیا میں جا کر اپنے رب کا وفا دار رہے گا۔ صرف زبان سے نہیں، دل سے اپنے رب کو معبودِحقیقی مانے گا۔ بقول علامہ اقبال۔

    زباں سے کہہ بھی دیا لاالہ اللہ تو کیا حاصل

    دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

    (3). قدرت اور اللہ کی پہچان

    اللہ کی قدرت کی مائیکرو انجینئرنگ کائنات کے ذرے ذرے میں نظر آتی ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی علم و ہدایت چاہتا ہے تو اس کے لئے کائنات میں پھیلی ہوئی لاکھوں کروڑوں نشانیاں اللہ کے معبودِ واحد اور برحق ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ لیکن انسان اپنے ک ضمیر کی آواز کو دبا کر اپنے نفس کا غلام بن کر اس سب سے نظریں چرا لیتا ہے۔ اس وقت بھی چار ارب انسان دنیا میں ایسے ہیں جو اپنے رب کے منکر ہیں۔ لیکن یہ مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے کے زیادہ  سے ذیادہ لوگوں میں معبودِ حقیقی کی پہچان اور حقیقت کو اجاگر کریں۔ قابل صد افسوس مقام یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی ہی بڑی تعداد اللہ کے وجود سے انکاری بنی ہوئی ہے۔

    اللہ نے قرآن حکیم کی صورت میں ایسا زندہ معجزہ نازل فرمایا ہے کے اس میں دنیا کے ہرہر انسان کے لئے معرفت اور ہدائت ہے۔

    (4). توبہ

    (ا). دنیا کی کسی بھی مخلوق اور انسان سے زیادہ اللہ اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ جب اسکا بندہ اپنے معبودِ حقیقی کی طرف پلٹتا ہے اور اسکو دل اور زبان اور عمل سے اپنا خالقِ حقییقی تسلیم کرتا ہے.

    (ب). انسان کی سرشت میں نافرمانی ہے۔ اسکا نفس اسکو صراطِ مستقیم کی طرف چلنے سے مانع ہوتا ہے لیکن جب وہ سچی توبہ کرتا ہے اور اپنے رب سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے فضل و کرم کی چادر میں گھیر لیتا ہے۔ دیگر مذاہب میں انسان کو اپنے گناہ کا اقرار کسی دوسرے انسان کے سامنے یعنی کسی پادری کے سامنے یا کسی خاص مقام پر جا کے کرنا ہوتا ہے اور پھر اسکی درخواست اللہ کے ہاں بھیجی جاتی ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے ہاں اللہ نے اپنے مومن بندوں کا پردہ رکھنے کے لئے توبہ اور نماز سے ایسا در واہ کر دیا ہے کہ جب بھی سچی توبہ کرنا چاہے تو نماز سے اپنے رب سے تعلق قائم کرے اور تمام دل کا حال اس کے گوشِ گزار کر کے حقیقی معافی کا حقدار بن جائے۔ اور اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی اس سے بڑی کیا دلیل ہو گی کہ وہ اپنے بندے کو یوں معاف فرماتا ہے کہ وہ گویا نومولود بچہ ہو۔ حتی کہ لوگوں کے دلوں میں بھی اسکا عزت و وقار بلند کر دیتا ہے۔ یہ واحد ایسا مقام ہے کے جہاں پر مسلمان کو جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے کے وہ علی الاعلان اپنے گناہوں کا اقرار ہرگز نہ کرے اور اگر اسکا سابقہ گناہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا باعث ہو تو اس گناہ کے مرتکب ہونے کا سراسر انکار بھی کر سکتا ہے۔

    (5). اللہ سے تعلق

    Click to read more: مزید پڑھیے


    33 min
  • Muzammil 6: مغربی معاشرتی علوم کی باطل بنیادیں

    عیسائی دھڑوں کے درمیان ایک صدی سے زیادہ خونریز جنگ نے عوام کو مذہب سےبیزار کر دیا۔

    عقیدے کے نقصان کے صدمے نے یورپی دانشوروں کو تجرباتی اور عقلیت پسندی کے فلسفوں کی طرف راغب کیا جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم صرف اسی چیز پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو ہم دیکھ سکتے ہیں (تجرباتی) اور جس چیز کو ہم عقل (منطق) سے سمجھ سکتے ہیں۔

    مغربی معاشرتی علوم نے عیسائیت کی جگہ لے لی۔ یہ علوم افراد اور معاشروں کے لیے مثالی طرز عمل سکھلاتے ہیں ، اور موافقت کے لیے انعامات، اور تعمیل میں ناکامی پر سزاؤں کا وعدہ کرتے ہیں ۔

    مسئلہ یہ ہے کہ مشاہدات اور منطق ہمیں ہماری زندگی کے مقصد کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ نہیں بتا سکتے ۔ مغربی معاشرتی علوم انہیں باطل بنیادوں پر قایم کیے گیے ہیں اور علم نہیں بلکہ علمی دھوکہ ہیں

    For English summary of main ideas in this episode, see: https://azprojects.wordpress.com/2020/02/23/folk-western-philosophy/  and https://azprojects.wordpress.com/2020/02/24/flawed-foundations-of-social-sciences/  

    58 min
  • Muzammil 5: مغربی فلسفہ کی باطل بنیادیں

    ییہ مسجد المزمل ممیں 5واں بیان ہے۔ ساری دنیا میں مختلف ادیان زنندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں رہنمای فراہم کرتے ہیں۔ یورپ والوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر غیسایت سے انکار کر دیا۔ اب انفرادی اور اجتماعی زندگی کن اصولوں پر چلای جاے؟ مغربی فلسفہ کی بنیاد اس سوال کے جواب کی تلاش ہے۔ مگر یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اس سوال جواب عقل نہین دے سکتی ہے۔ مغربی فلاسفہ وحی کی روشنی سے محروم تھے اور انہین مجبورا بہت سے کمزور اورباطل بنیادوں پر اپنے علم کی عمارت کھڑی کرنی پڑی۔ اس بیان میں مغرربی فلاسفہ کی چند بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی گیی ہے

    English Title: The Fabricated Foundations of Western Philosophy -- 5th lecture at Masjid Al-Muzammil. The contents of these lectures are briefly summarized in two post on the Islamic Worldview Blog: Folk Wester Philosophy:  https://azprojects.wordpress.com/2020/02/23/folk-western-philosophy/  and the Flawed Foundations of Western Social Sciences: https://azprojects.wordpress.com/2020/02/24/flawed-foundations-of-social-sciences/ 

    1 hr 4 min
  • Muzammil 4: مغربی معاشرتی علوم کی اسلامی بنیادوں پہ تعمیر نو

    مغربی معاشرتی علوم کو سائنس کا نام دیا جاتا ہے جس سے دھوکا پیدا ہوتا ہے کہ یہ علوم بھی ویسے ہی معتبر ہیں ۔ تحقیقی نگاہ سے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ در اصل معاشرتی علوم مغرب کا دین ہے جو انہوں نے عیسائیت کو ترک کرنے کے بعد اپنایا ۔ اسلام ہمیں اچھے معاشرہ کی تعمیر کے بہترین اصول فراہم کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے اشد ضروری ہے کے مغربی معاشرتی اصول سے انکار کر کے معاشرتی علوم کی از سر نو تعمیر اسلامی بنیادوں پرکریں ۔ ہمارا ہزار سالہ اصول فقہ کا تعلیمی اثااثہ اس کام کے لیے مضبوط بنیاددیں فراہم کرتا ہے 

    Western social sciences are called "science", which leads to the deception that these sciences are just as valid as the physical sciences (see the Grand Deception: Social Science - http://bit.ly/AZgdss1 ). A closer look reveals that the social sciences are in fact the religion of the West, which they adopted after they rejected Christianity. Islam gives us the best principles for building a good society. It is imperative for Muslims to reject Western social norms and rebuild social sciences on Islamic foundations. The educational assets of our principles of jurisprudence, developed over a Millenium, provides a strong foundation for this work. For a brief writeup, see: https://azprojects.wordpress.com/2020/02/19/building-islamic-foundations-for-social-sciences/  

    53 min
  • Muzammil 3: انگلینڈ میں بینکنگ کی ابتدا

    1694 میں بینک آف انگلینڈ کی تخلیق کی کہانی "مرکزی بینکنگ کی ابتدا" میں مختصر طور پر دی گئی ہے۔

    یہ مواد علمائے کرام کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، تاکہ آج پیسے اور بینکنگ کی نوعیت کو سمجھا جا سکے۔

    The story of creation of Bank of England in 1694 has been given briefly in “The Origins of Central Banking“. Detailed explanation of the financial gimmicks used by Banks, which continue to be in use today, is given in a separate post on “Monetization, Maturity Transformation, and MMT“. This material is of great importance for Ulema, to understand the nature of money and banking today. These two posts (English) were discussed and explained in Urdu, in a talk for Ulema at Madrassa Darul Taqwa at Chauburji in Lahore, this morning at 9:00am on 27th January 2020. For the post on my blog covering this material, see: https://azprojects.wordpress.com/2020/01/27/origins-of-banking-urdu/

    52 min
  • Muzammil 2: امت کو درپیش سب سے بڑامسںلہ

    OUTLINE and sketch of talk in English:  https://azprojects.wordpress.com/2020/02/06/the-greatest-challenge-facing-the-ummah/

    امت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ فکری میدان جنگ میں شکست ہے۔ یہ پوڈ کاسٹ مسئلہ کی وضاحت کرتا ہے، اور ایک حل پیش کرتا ہے: غزالی پروجیکٹ

    1 hr 3 min

About The Ghazali Project: اسعد زمان: تہافت الفلاسفہ و احیا العلوم

From the publisher's feed

امت مسلمہ کے زوال کی تصویر کشی بہترین انداز سے علامہ اقبال اور حالی نے کی ہے ۔ مگر زوال کے اسباب اور ان کا حل کیا ہے ؟ اس کے بارے میں شدید اختلاف ہے ۔ ہمارا تجزیہ یے ہے کہ مختلف میدانوں میں شکست اور…