
Sign up to save your podcasts
Or


The Forced Starvation of Hundreds of Thousands of Muslims in Rafah, Gaza, is Because of the Inaction of the Military Officers and Soldiers, Who Await Orders that Will Never Come
Media Office of Hizb ut Tahrir
in Wilayah Pakistan
Monday, 04 March 2024
Press Release
Bismillah Al-Rahman Al-Rahim waAlhamdulillah Rabb Alameen and prayers and peace be upon the envoy as a mercy to the worlds our master Muhammad and upon all of his family and companions.
Bukhari reported in his Sahih from Muhammad Bin Ziyad that he said, “I heard Abu Hurairah (ra) say: that the Prophet (saw) said, or he said: Abu Al-Qasim (saw) said: «صوموا لِرُؤيتِهِ وأَفْطِرُوا لرؤيتِهِ فإنْ غُـبِّيَ عليكم فأَكْمِلُوا عِدَّةَ شعبانَ ثلاثين»“Observe fast on sighting it (the new moon) and break it on sighting it. But if (due to clouds) the actual position of the moon is concealed from you, you should then complete the thirty days of Sha’ban.””
After investigating the new moon of the blessed Ramadan, this eve of Monday, the sighting of the new moon according to the Shariah requirements is confirmed, and therefore tomorrow, Monday is the first day of the blessed month of Ramadan for this year 1445 AH.
On this occasion, I convey my greetings and congratulations of the Head of the Central Media Office of Hizb ut Tahrir and all those working in it, to the Ameer of Hizb ut Tahrir, the eminent scholar, Ata Bin Khalil Abu Al-Rashtah, asking Allah to support him and to hasten the victory for us and the empowerment by his hands.
This year, Ramadan comes while the world witnesses the ongoing clash between the will of the Islamic Ummah to cling to the Blessed Land of Palestine and the will of the Western kufr colonizer to impose the occupying entity of Jews on the Blessed Land as a fait accompli. This clash has preoccupied the entire world, and no political dialogue on any platform passes without the question being asked to its owner: which side do you support? This clash has revealed several issues that must be stopped to understand where the Islamic Ummah.
It has become clear that the normalization process has been a failure since its inception. All the talk attempted by the sponsored media to portray the idea that the peoples of the Islamic Ummah have begun to accept the concept of a Jewish entity was nothing but a lie from the rulers to the people. These rulers are nothing but the wretched remnants afflicted by every human community. Our rulers have only approached them with the treacherous ones who are of their kind.
It has become proven to the Islamic Ummah that armies play a pivotal role in resolving its issues. After the Islamic Ummah engaged in the Arab Spring against the rulers without paying attention to the role of the armies properly, today it calls out to them, "Where are you, O Muslim armies? Why don't you mobilize to rescue Gaza?" By the permission of Allah, this heralds a new spring, but this time it is the "Spring of the Muslim Armies" where the Muslim armies depart from their barracks and extend their hands to the Islamic Ummah in support of it and its Deen. As for the case of the traitorous rulers, we will not mention them at length in this regard. They stink in this war as they had never stunk before and the Ummah no longer tolerates them, eagerly awaiting to rid itself of them at the nearest opportunity.
Similarly, the Islamic Ummah has felt the weight of a conspiracy to divide the lands of the Muslims. The youth of the Islamic Ummah attempted to march to Palestine from several countries, but the borders drawn by the Sykes-Picot Agreement prevented them from reaching the Blessed Land. Many have realized that these borders were only drawn to serve as a prison preventing the Islamic Ummah from coming to its own aid.
As for the people of Gaza Hashem, their weak, including children, women, and the elderly, have displayed scenes of patience and steadfastness in the face of adversity, so that the word of Allah is the highest to the extent written by their brave ones through scenes of determination and courage, striving for the word of those who disbelieve to be lowly.
پریس ریلیز
پاکستان کی نئی حکومت، امریکہ اور پاکستانی فوجی قیادت میں موجود امریکی ایجنٹوں کی آشیرباد سے پاکستان کو تباہ حال کر دے گی
4 مارچ 2024 کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا، "جمہوری پاکستان، امریکہ- پاکستان کے مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے، اور نئے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کے ساتھ ہمارے روابط ان مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے پر مرکوز رہیں گے۔" امریکہ، فوجی قیادت میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ پاکستان کو معاشی طور پر آئی ایم ایف کی شرائط اور مداخلت، بھاری سودی ادائیگیوں، کمر توڑ ٹیکسوں اور مفلوج کردینے والی مہنگائی کے ذریعےتباہ حال کر دیا جائے گا۔ ہندو ریاست کے ساتھ تعلقات کو نارملائز کرنے کے لیے پاکستان کو سیکیورٹی ضروریات کے لحاظ سے ذلت آمیز مقام پر لایا جائے گا، تا کہ خطے میں ہندوریاست کےثقافتی، اقتصادی اور فوجی تسلط کو یقینی بنایا جائے۔ جب سے امریکہ نے پاکستان کی فوج کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کنٹرول کیا ہے، یہ حکومت بھی تب سے آنے والی ہر حکومت کی مانند ہی ہے۔ نئی حکومت کی ریڈ لائن امریکی احکامات کی نافرمانی، اور ملک کے حقیقی حکمرانوں کے ساتھ تصادم ہیں، جو کہ انتہائی بدعنوان جرنیلوں کا ایک منتخب ٹولہ ہے، جنہوں نے اپنی دنیا کے لیے ملک اور اپنی آخرت کو بیچ ڈالا ہے۔
اے پاکستان کے مسلمانو! اب ہم "ووٹ کو عزت دو" کے جملے کا پورا مطلب جانتے ہیں۔ جمہوریت میں ووٹ کا مقصدصرف پاکستان میں امریکی استعماریت کو جاری رکھنا ہے۔ جمہوریت کے ذریعے تبدیلی کی امیدمحض دھوکا ہے۔ بھر پور "احتجاجی ووٹ" کے باوجود واضح ناکامی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جمہوریت کے ذریعے تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔ جب تک جمہوریت کی حکمرانی رہے گی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک فوج میں امریکی ایجنٹ موجود ہیں، جو احتیاط سے ایسے سیاسی رہنماؤں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے ساتھ غداری، بے وفائی اور دھوکہ دہی میں شامل ہوں گے۔ جہاں تک ملک سے بھاگنے کا آپشن ہے، تو یہ 250 ملین لوگوں کا حل نہیں ہے۔ لہٰذا ہم پر تبدیلی کا راستہ واضح ہونا چاہئے۔ تبدیلی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نازل کردہ وحی کے ذریعے حکمرانی ہے۔ تبدیلی ان لوگوں کے ذریعے ہے جو قرآن اور سنت نبویﷺ کے مطابق حکمرانی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ تبدیلی دین کے لیے اہل اقتدار سے نصرۃ حاصل کرنے سے ہوتی ہے۔ آئیے، اپنی مایوسی کو دور کریں اور تبدیلی کے راستے پر توجہ دیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ مسلح افواج میں ہمارے بیٹے اپنی قیادت میں موجود غداروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ دیں۔
اے افواج پاکستان کے مسلمانو! پاکستان کئی دہائیوں سے کرپٹ فوجی قیادتوں سے دوچار ہے۔ اور یہی حال پوری امت اسلامیہ کا ہے۔ ان لوگوں کا حال دیکھیں جن کی حفاظت کی آپ نے قسم کھائی ہے۔ امت محمدﷺ کا حال دیکھیں کہ جس کا حصہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہے۔ امت اسلامیہ کو اس کے دشمنوں نے کچل کر رسوا کردیا ہے،لیکن آپ اپنی امت کو اس تباہ کن صورتحال سے نکالنے کے لیے احکامات کا انتظار کررہے ہیں، جو کبھی بھی غدار قیادت کی جانب سے نہیں آئیں گے۔ جنگ شروع ہو چکی ہے اور آپ نے ابھی تک اس میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ یہ تجزیہ کرنے یا مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ مستعفی ہونے یا ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق عمل کرنے کا وقت ہے۔ اپنی بے عملی کو جھٹک دیں اور انصارؓ کے نقش قدم پر چلیں، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا تھا۔ یہ انصارؓ ہیں جو کسی بھی مخلص فوجی افسر کے لیے تقویٰ کا نمونہ ہیں، وہ مخلص افسران جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے ملاقات سے ڈرتے ہیں۔ انصارؓ نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی کے قیام کے لیےاپنی نصرۃ فراہم کر کے اس دنیا کی آخرت کے بدلے تجارت کی۔ یہی آپ کو بھی کرنا چاہیے۔ انصارؓ نے ظالموں کی فوجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، فتح اور شہادت کی مسلسل جدوجہد کی۔ ان شاء اللہ آپ کو نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے سائے تلے ایسا ہی کرنے کا موقع ملے گا۔
اے پاکستان کے مسلمانوں اور اس کی مسلح افواج! اسلامی دنیا میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا ہے، لیکن اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قابل قیادت کا فقدان ہے۔ 1953 سے، حزب التحریر نے پوری اسلامی دنیا میں، اور ہر ملک کے آبادی کے تمام حصوں میں انتھک کام کیا ہے۔ اس تمام عرصے میں اور ان تمام جگہوں پر حزب التحریر ہمیشہ ایک باخبر اور مخلص رہنما کا کردار ادا کرتی رہی ہے، جو کبھی گمراہی کے ساتھ گمراہ نہیں ہوتی۔ اس نے اپنی تمام سیاسی آراء قرآن اور سنت نبویﷺ سے اخذ کی ہے۔
*Then what is next, O Muslims? What are you waiting for after witnessing what happened in Gaza? Isn't it time for you to move and respond to the command of your Lord by establishing the Khilafah Rashidah?*
(Translated)
Just a few days ago, the anniversary of the destruction of the Islamic State after 103 years, in the month of Rajab Al-Muharram, coincided with the anniversary of Al-Isra wal Mi’raaj in the same month. Allah (swt) said:
[سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ]
“Exalted is He who took His Servant by night from al-Masjid al-Haram to al-Masjid al-Aqsa, whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing, the Seeing.” [Surat Al-Isra:1].
Allah (swt) has linked between Masjid al-Haram and Masjid al-Aqsa in an ideological connection, eternalized in His Quran until the Day of Judgment. Yet, it moans and calls out day and night for its liberation from5 the occupation of the Jewish entity, in front of the eyes and ears of the Ruwaibidah (incompetent) rulers of the palaces, but there is no responder.
And this anniversary passes, and the rivers of blood flowing from the sons of Muslims in Gaza, and the tyranny and brutality of the monstrous Jewish entity have extended to humans, rocks, and trees with the support of American and European colonialism and the betrayal of the Arab rulers and Muslim countries. There is no righteous man in the armies of Muslims leading the Muslim armies and supporting Islam and Muslims by eliminating the occupying Jewish entity in Palestine and returning it completely to the lands of Islam.
For more than a century, the Islamic Ummah has been experiencing its worst period in history. The destruction of the Khilafah (Caliphate) was the result of malicious efforts, decades of plotting, and conspiracies from Western colonial powers in their struggle against the Islamic civilization up to our present day. The demolition of the Khilafah was not the result of a political adventure practiced by Western colonial powers, but rather the result of efforts, plotting, and conspiracies from those powers. It was natural for these kaffir colonial powers to preserve their achievement by striving to prevent the return of the Khilafah, which they had destroyed.
The reality that the Ummah is experiencing today, especially after the Gaza war, indicates that the Islamic Ummah is now increasingly looking towards the Khilafah, Islamic unity, and the implementation of Sharia in all aspects of life. The awareness and adherence of the Ummah to Islam today are greater than ever before, and the Ummah is now fully prepared to make sacrifices one after another for the sake of its Deen. This is driven by the entrenched concepts of the Aqeedah (doctrine) within it and its sensory realization that there is no salvation for it in its current state except through returning to Islam by establishing its state.
Search ...
Published in
Jordan
PrintEmail
بسم الله الرحمن الرحيم
Then what is next, O Muslims? What are you waiting for after witnessing what happened in Gaza? Isn't it time for you to move and respond to the command of your Lord by establishing the Khilafah Rashidah?
(Translated)
Just a few days ago, the anniversary of the destruction of the Islamic State after 103 years, in the month of Rajab Al-Muharram, coincided with the anniversary of Al-Isra wal Mi’raaj in the same month. Allah (swt) said:
[سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ]
“Exalted is He who took His Servant by night from al-Masjid al-Haram to al-Masjid al-Aqsa, whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing, the Seeing.” [Surat Al-Isra:1].
پریس ریلیز
رفح، غزہ میں لاکھوں مسلمانوں کی جبری فاقہ کشی کے مجرم وہ افواج کے افسران اور جوان ہیں جو کبھی نہ آنے والے احکامات کے منتظر، بےعملی کے ساتھ مسلمانوں کے مرنے کا تماشا دیکھ رہے ہیں
اے افواج پاکستان کے افسران اور جوانو!
فریادیں اور اپیلیں بہت ہو گئی۔ دُہائیاں بہت ہو گئیں۔ سنتے کانوں اور دھڑکتے دلوں کیلئے وہ کافی ہیں۔ تمہارے عذر ہم نے سن لئے ہیں۔ لیکن نہ تو یہ عذر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو قبول ہیں، نہ ہی امت انہیں قبول کرتی ہے۔ اللہ نے تم پر جہاد، مسلمانوں کے بچاؤ اور ارض مقدس کی آزادی کا فرض اس شرط پر عائد نہیں کیا تھا کہ تم اس فرض کے ذمہ دار اس وقت بنو گے جب تمہاری امریکی ایجنٹ قیادت تمہیں آرڈرز دے گی، جبکہ تم غزہ میں 30 ہزار مسلمانوں کے جسم کے چیتھڑے بموں میں اڑتے دیکھ اور سن چکے ہو۔
یہود کیلئے غزہ مسلمانوں کے قتل و تشدد کے نت نئے طریقوں کا میدان بن چکا ہے۔ تم پر قرآن مجید میں رب کائنات نے مسلمانوں کی مدد کا فرض اس شرط پر عائد نہیں کیا تھا کہ تم طاغوتی سیکیورٹی کونسل، انگریزوں کے کھینچے بارڈروں اور اپنی سیکولر قیادت کی حدود کو پار نہیں کرو گے، جبکہ تمہارے بہن، بھائیوں اور بچوں کے جسم ملبے تلے پچک گئے ہیں! اللہ تم سے یہ عذر قبول نہیں کرے گا کہ تمہارے لاکھوں مسلمان بہن بھائیوں پر جبری فاقہ کشی مسلط تھی، اور وہ گلیوں، محلوں میں بھوک سے غشی کھا کر گر رہے تھے، کوڑے دانوں میں گلی سڑی چیزیں ختم ہو گئی تھی، وہ گھاس ابال کر بھوک مٹانے کی کوشش کر رہے تھے، بھوک سے جاں بلب تھے، اور تم اس وقت کیا کر رہے تھے؟ بیرکوں میں آنسو بہانا، قبل از وقت ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ دینے کا پلان بنانا اور اپنی قیادت کو کوسنا! نہیں، اب گویا تم بھی اس قیادت کے جرم میں شریک ہو چکے ہو! "اور وہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا، اور انہوں نے ہمیں اصل راستے سے گمراہ کر دیا۔" (سورہ احزاب: 67)
اے افواج پاکستان کے افسران اور جوانو!
بے شک یہ مسلم حکمران اور فوجی قیادتیں بدترین مجرم اور مغرب کا ہراول دستہ ہیں، کیونکہ یہ قبلہ اول کے سوداگر ہیں، تاکہ اپنے ڈولتے تختوں کو بچا سکیں، لیکن یہ تم ہی ہو جو ان حکمرانوں اور فوجی قیادت کا ہراول دستہ ہو۔ یہ تمہاری بےعملی اور 'وہن' کا مرض ہے، جس کے باعث امریکہ، یہود اور تمہاری فوجی قیادت مل کر غزہ میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ تم سے خوف محسوس نہیں کرتے؟ تم کب تک اللہ کی اطاعت اور عبادت کنارے کنارے سے کرو گے، اور آگے نہیں بڑھو گے؟ "اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا، اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت میں بھی یہ خسارہ پانے والوں میں ہے۔" (سورۃ الحج، 22:11)
تم کب تک یہ عذر پیش کرتے رہو گے، کہ میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں، جبکہ فوج کے اندر تقریباً ہر کوئی تمہارا ہم خیال ہے؟ آخر کیسے قیادت کا ایک چھوٹا سا کرپٹ، ایجنٹ گروہ تمہیں متحرک ہونے سے روک سکتا ہے؟ کیا تم اس کافر امریکی فوجی جتنی ہمت بھی نہیں رکھتے، جس نے اپنی قیادت کے جرم میں شریک ہونے سے انکار کر کے اپنے آپ کو آگ لگا دی، تو کیا تم افواج کو متحرک کرنے کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو بھی آگ نہیں لگا سکتے؟ آخر کس دن کیلئے ہم نے تمہیں تیار کیا تھا؟ یا تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کر لیا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وارننگ ذہن نشین کر لو، "آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے لڑکے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں، اور تمہارے کنبے قبیلے، اور تمہارے کمائے ہوئے مال، اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو، اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ، اس کے رسول ﷺ، اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے، بےشک اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔" (سورۃ توبہ، 9:24)
اے افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں!
امت دوراہے پر کھڑی ہے۔ اس سے آگے یا تو تم اللہ کا عذاب کو دعوت دو گے، یا اللہ کی رحمتوں کی بارش کو! اور یہ سب سے بڑھ کر تمہارے فیصلے پر منحصر ہے۔ "اگر تم جہاد کیلئے متحرک نہ ہوئے، تو تمہیں اللہ تعالٰی دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا، اور تم اللہ تعالٰی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔" (سورہ توبہ، 9:39)۔ تم ہی ہو جو ان صیہونی بھیڑیوں کو مزہ چکھا سکتے ہو، تم ہی ہو جو ان درندوں سے اپنے معصوم بچوں، بہنوں اور بھائیوں کا انتقام لے سکتے ہو۔ یہ تم ہی ہو جو صلاح الدین ایوبی کے بعد ایک بار پھر ارض مقدس کو یہودی نجاست سے پاک کر سکتے ہو۔
Under What Stone and on What Planet Are the Soldiers and Generals of the Muslim Armies Hiding When Even Soldiers of the Army of Our Enemy Cannot Remain Silent!?
News:
In protest against the ongoing genocide committed upon the people of Gaza, an American soldier called Aaron Bushnell sacrificed his life in front of the ‘Israeli’ embassy by setting himself on fire. He said as he walked towards his death that he could not be complicit anymore in the slaughter of innocents in Gaza, and his last words were ‘Free Palestine’.
Comment:
In 2010, Mohamed Bouazizi set fire to himself in protest against oppression in Tunisia, which sparked the ‘Arab Spring’ uprisings. These failed as they lacked the support of the armies. A new Spring is needed. It is high time for the Muslim armies to burst forth from their barracks; for the salvation of what remains of Gaza, for every oppressed Muslim and for the whole world that groans under the hypocrisy of capitalism. Tens of thousands of women and children have been burned, shot, and bombed by the most self-loving and cowardly army on the planet, and the only soldier to say no is an American! Where is the sense of shame in the soldiers and generals of Egypt and Jordan, and the other Muslim countries, whose huge armies and arsenals of weapons are sitting useless!? The American, Aaron Bushnell, could not live with himself knowing that his government is supporting the Zionist entity and is complicit in its daily massacres in Gaza.
O Muslim soldiers and generals, do you not see that your governments are also complicit in spilling the blood of your brothers and sisters in Gaza, and that these rulers have always been, with your support, sucking the blood of your families? Is all this not too much for you, now that you have ceased to be children and have eyes to see and ears to hear, and yet you are senseless like the mummies in museums whose souls left their bodies long ago? Do you really believe the insulting slogans of your rulers and their media mouthpieces that tell you that bravery and honor is in building, and then hiding behind, new walls that keep you separated from your brothers and sisters in Gaza?
Rise up and be the men that hundreds of millions of Muslims want from you. Khilafah (Caliphate) is the way, and breaking down the borders between brothers that were built by the colonial Sykes-Picot agreement is to liberate yourselves and the world. Will you answer the call of Biden, Sunak and Schultz, who will humiliate you in this world and abandon you in need, or will you answer the call of Allah and His Messenger:
[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ * وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ]
“O you who have believed, if you support Allah, He will support you and plant firmly your feet. But those who disbelieve - for them is misery, and He will waste their deeds.” [Al-Qur'an 47:7]!?
Written for the Central Media Office of Hizb ut Tahrir by
Dr. Abdullah Robin
پریس ریلیز
*ہمیں اپنی خلافت کو کھوئے ہوئے سو سال ہو گئے ہیں، ہم اُس وقت تک تبدیلی کا چہرہ نہیں دیکھ پائیں گے جب تک خلافت کو دوبارہ قائم نہ کر لیں!*
بےشک اُس دن سے یہ امت یتیم ہے، جب سو سال قبل، 28 رجب 1342 ہجری بمطابق 3 مارچ 1924، ہم اپنی خلافت کھو بیٹھے، جس کے نتیجے میں اسلام کی حکمرانی طویل تعطل کا شکار ہو گئی، جو کہ اب تک بحال نہیں ہو سکی ہے۔ خلافت کے خاتمے کے بعد سے صورتِ حال یہ ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران مظلوموں کی آہ و بکا اور دُہائیوں پر ٹس سے مس نہیں ہوتے اور انہوں نے ہماری افواج کو مقبوضہ اسلامی علاقوں کو آزاد کرانے سے روک رکھا ہے۔ ہم اپنے علاقوں میں ظلم و جبر اور غربت سے پناہ کی تلاش میں سمندر پار جانے کیلئے ڈوبنے تک کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر بار بار حملے کیے جا رہے ہیں، باوجودیکہ اس امت کے پاس لاکھوں کی تعداد میں قابل اور جہاد کے لیے تیار افواج موجود ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے مسلم علاقوں کو عطا کردہ بیش بہا وسائل کے خزانوں کے باوجود ہم بدترین غربت و افلاس کا سامنا کر رہے ہیں۔ خلافت کی عدم موجودگی میں ہم بغیر منزل کے بھٹک رہے ہیں۔ یقیناً اسلام کو ایک طرف ڈال کر اور جمہوریت یا آمریت کو اپنا کر ہم رستہ نہیں پا سکتے۔
*اے پاکستان کے مسلمانو!* کیا ایسا نہیں کہ جب سے پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے اس جمہوری نظام میں اقتدار سنبھالا ہے تو عوام شدید مایوسی میں ہیں، حالانکہ یہ حکمران ہمارے اندر موجود تبدیلی کے لئے شدید اور گہرے جذبات کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے تھے؟ کیا یہ بات ہم پر واضح نہیں ہو گئی کہ پاکستان میں جمہوری نظام تلے نہ تو 77 سال میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی اگلے 77 سال میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ اور کیا یہ بات بھی واضح نہیں ہو گئی کہ جمہوری نظام کے تحت نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم دنیا میں کہیں بھی تبدیلی نہیں آئے گی؟ *اے مسلمانو!* کیا اب بھی آپ پر یہ حقیقت واضح اور عیاں نہیں ہوئی؟!
مسلمانوں کا خلیفہ نہ تو آمر ہوتا ہے اور نہ ہی جمہوری حکمران۔ خلیفہ نہ تو اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر حکمرانی کرتا ہے اور نہ ہی اسمبلی کی متفقہ رائے کی بنیاد پر، بلکہ وہ صرف اور صرف قرآن و سنت کی بنیاد پر حکمرانی کرتا ہے ۔ اپنی رعایا کے ساتھ کسی تنازعے کی صورت میں اس کی ذات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قانون سے بالاتر نہیں ہوتی بلکہ اللہ کا قانون اس پر بھی اسی طرح نافذ و جاری ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، *﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ "اور اگر کسی بات پر تم میں اختلاف واقع ہو، تو اگر اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، تو اس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو"* (النساء، 4:59)۔ خلیفہ پر لازم ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کے مطابق لوگوں کے حقوق ادا کرے اور ان سے جو کچھ بھی وصول کرے وہ اللہ کے حکم کی بنیاد پر ہو۔
پس ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے خلیفہ راشد، خلیفۂ رسول ﷺ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اعلان فرمایا، وَالضّعِيفُ فِيكُمْ قَوِيّ عِنْدِي حَتّى أُرِيحَ عَلَيْهِ حَقّهُ إنْ شَاءَ اللهُ, وَالقَوِيّ فِيكُمْ ضَعِيفٌ عِنْدِي حَتّى آخُذَ الحَقّ مِنْهُ إنْ شَاءَ اللهُ "اور تم میں سے کمزور میرے سامنے طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کو اس کا حق نہیں دِلا دیتا، اگر اللہ نے چاہا، اور تم میں سے طاقتور میرے سامنے کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے حق لے نہیں لیتا، اگر اللہ نے چاہا"۔
اور لہٰذا دوسرے خلیفۂ راشد، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ نے برملا کہا، إِنَّ امْرَأَةً خَاصَمَتْ عُمَرَ فَخَصَمَتْهُ "ایک عورت نے عمر سے بحث کی اور وہ اُس پر غالب آ گئی"۔ جب ایک عورت نے حضرت عمر فاروقؓ کے اس قول، لَا تُغَالُوا فِي مُهُورِ النِّسَاءِ "خواتین کے حق مہر کو زیادہ نہ بڑھاؤ" پر اعتراض کیا اور کہا، لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ يَا عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ "اے عمر! آپ کو ایسا کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے (اس کی اجازت دیتے ہوئے)فرمایا"، *وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا* *"اور تم نے اس (عورت کو) ڈھیروں مال دیا ہو"* (النساء؛ 4:20)۔
خلافت کے دور میں اسلام کو جو عظمت حاصل تھی، زمین و آسمان کے مکین اس کے گواہ ہیں۔ یہ اسلام کی بنیاد پر حکمرانی تھی کہ جو لوگوں کے جوق در جوق اسلام قبول کرنے کا باعث بنی، مشرق میں انڈونیشیا سے وسطی ایشیا تک، اور مغرب میں بوسنیا سے لے کر مراکش تک یہی صورت حال تھی۔ یہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی بنیاد پر حکمرانی تھی کہ مظلوم ظالموں سے بچنے کے لیے خلافت کا رُخ کرتے تھے،
پریس ریلیز
*نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کرو اور غزہ کیلئے فوجوں کو متحرک کرو!*
29 فروری 2024 کو یہودی وجود کے ٹینکوں نے فلسطین کے درجنوں بھوک کی شدت سے بے حال مسلمانوں کو شہید اور سینکڑوں کوزخمی کردیا جب وہ خوراک وصول کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ اے پاکستان کے مسلمانو! کیا تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے؟ کیا تم اس بہترین امت کے بیٹے نہیں ہو جو بنی نوع انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے؟ کیا تم فاتح مجاہدین کے بیٹے نہیں ہو جنہوں نے ساری دنیا میں خیر پھیلایا ؟کیا مسلم افواج میں موجود فوجی آپ ہی کی اولادیں نہیں ہیں؟ کیا آپ ان کو لڑنے پر مجبور نہیں کر سکتے ،کیونکہ وہ یہ قابلیت رکھتے ہیں کہ وہ حق کوقائم کرکے دکھائیں اور ارض مبارک میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں؟ ﴿وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ﴾"اور اگر وہ دین میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا واجب ہے۔" (الانفال:72)۔
اے افواجِ پاکستان کے جوانو ! جان لو کہ فلسطین کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی نسل کشی آپ کے حرکت میں نہ آنے کے باعث جاری و ساری ہے ! اللہ سبحانہ و تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ جن لوگوں سے وہ محبت کرتا ہے ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، ان کی بے حرمتی ہو رہی ہے، ان کی تذلیل کی جا رہی ہے، بھوکا پیاسا رکھا جا رہا ہے اور ان کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے جبکہ مسلم افواج میں سے سب سے مضبوط ترین فوج بُت بنی کھڑی ہے ! ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ مزید کتنے بچوں کو بھوکا پیاسا تڑپتے دیکھیں گے، یا سنائپر کا نشانہ بننے دیں گے یا مر جانے دیں گے ؟ آپ مزید کتنے مردوں پر تشدد ہونے اور انہیں ذلیل کرنے کی اجازت دیں گے؟ آپ مزید کتنی خواتین کو "اسرائیلی" قابض افواج کے مردود شیطانوں کے ہاتھوں بے حرمتی کا نشانہ بننے کی اجازت دیں گے؟
اے امت اسلامیہ کے سپاہیو !ہوشیار رہو، ہم سے پہلے بہت سی قوموں کو ان کے ظالم سرداروں، رہنماوں اور حکمرانوں نے گمراہ کیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کی اطاعت نہ کریں۔ ابن ماجہ اور احمد میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلَا تُطِيعُوهُ » "تم میں سے جو کوئی تمہیں اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو ۔"اسلام کے پہلے خلیفہ ابوبکر ؓ نے ہمیں نافرمان حکمرانوں کی پیروی سے خبردار کرتے ہوئے کہا: (أطيعوني ما أطعت الله ورسوله، فإن عصيت الله ورسوله فلا طاعة لي عليكم) "میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں، پس اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت نہیں ہے۔"حضرت ابوبکرؓ ، جو کہ صحابہ کرام ؓ میں سب سے افضل ہیں، نے امت اسلامیہ کو خبردار کیا کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا چھوڑ دیں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے۔ لیکن اس تنبیہ کے باوجود آپ ظالم حکمرانوں کی اطاعت کررہے ہیں، جو مغرب کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے موجودہ حکمرانوں کا دھوکہ، جھوٹ اورمکر و فریب اب اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ یہ حکمران وہ بوجھ ہیں جنہیں اب آپ نے ہی امت کے کندھوں سے لازمی اتارنا ہے۔ پس آپ نبوت کے نقشِ قدم پر دوبارہ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نُصرۃ فراہم کریں، جو امت کی فوجی طاقت اور معاشی وسائل کو جمع کر کے یہود کے شیطانی، تباہ کن وجود کو زمیں بوس کرے گی اور خطے میں اسلام کی بالادستی قائم کرے گی اور دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن کر ابھرے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، ﴿إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ﴾ "اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے گا اور مومنوں پر لازم ہے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔"(آل عمران، 3:160)۔
*ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس*
بسم الله الرحمن الرحيم
*غزّة بحاجة إلى تعبئة جيوش الخلافة في شهر النّصر والفتح، رمضان، إن لم يكن قبل ذلك!*
(مترجم)
الخبر:
ذكرت هيئة الإذاعة البريطانية (بي بي سي) في 28 شباط/فبراير أن "الرئيس الأمريكي جو بايدن يقول إنه يأمل في التوصل إلى وقف لإطلاق النار في الحرب بين (إسرائيل) وحماس في غزة بحلول يوم الاثنين... وقال الرئيس بايدن للصحفيين في نيويورك يوم الاثنين: "نحن قريبون".. "لم ننته بعد. آمل أن نتوصّل إلى وقف لإطلاق النار بحلول يوم الاثنين المقبل".
التعليق:
دعونا نفهم حقيقة مطالبة أمريكا بوقف إطلاق النار قبل شهر رمضان المبارك. ولا ينبغي أن يكون هناك خطأ في رؤية هذا على حقيقته. إن بايدن الذي لا روح له لا يتعاطف مع أمتنا الإسلامية. ولا يتمّ ذلك من منطلق "احترام" ديننا. فكيف يمكن لأي شخص أن يبدأ في إطلاق هذا الادّعاء، عندما لا يكون لدى بايدن أي اعتبار لحياة الأمهات والآباء والأطفال، كما يتّضح من دعمه لنتنياهو منذ 7 تشرين الأول/أكتوبر 2023؟
إنّ أي حافز لوقف إطلاق النار يجب أن يُنظر إليه على حقيقته، أي الخوف. لقد كان الكفار دائماً يخشون وحدة الأمة الإسلامية، وآدابنا الأساسية، وقوتنا، ومحبة بعضنا بعضا ولربنا سبحانه وتعالى. إنهم يرون أنّ شهر رمضان هو الوقت الذي يجتمع فيه المسلمون للاحتفال وتعزيز إيمانهم. لقد كان شهر النّصر في ساحات القتال. إذاً، كم سيكون من الصّعب إسكاتنا وإبقاؤنا مقيدين!
وبينما يحمل زعماء الغرب هذا الخوف، فإن جيوش المسلمين تستعد لدخول هذا الشهر المبارك، دون أن تحاول حتى القيام بواجبها وإنقاذ حياة المسلمين الذين يجب عليها حمايتهم. إنهم يجهزون بيوتهم للسحور والإفطار، بينما يتضور إخواننا وأخواتنا المسلمون جوعاً. إنهم يستعدون للشعور بسعادة غامرة بقدوم العيد، بينما يعيش أهل فلسطين حتى دون الضروريات الأساسية.
وفيما يتعلق بمسألة إرسال جيوشنا، في هذا الوقت، لا يمكن الجدال ضدّ كون هذا هو الحلّ الوحيد. لقد توصلنا بالفعل إلى وقف لإطلاق النار في الفترة من 24 إلى 30 تشرين الثاني/نوفمبر. وبمجرد انتهائه، وبعد أن دار الزعماء في دوائر، وقاموا بتأجيل التواريخ واللعب بحياة الناس، عاد اليهود الصهاينة إلينا بقوة أكبر.
أما مفهوم المقاطعة فهو شعور رائع. إنه لأمر جدير بالثناء حقاً مدى ثبات الجميع في بذل قصارى جهدهم، بأي طريقة يعرفونها. تقبل الله سبحانه وتعالى جهودنا لتقليل تدفق الأموال إلى العدو. لكن من الواضح في هذه المرحلة أن أمريكا ستستخدم كل أموالها لدعم قاعدتها العسكرية في قلب الأمة (كيان يهود).
أما بالنسبة للمساعدات، فقد رأينا المساعدات يتمّ إرسالها إلى غزّة من قبل القوات المسلحة الأردنية. في 28 شباط/فبراير 2024، نقلت قناة الجزيرة مشهداً مؤسفاً، حيث "تجمع آلاف الفلسطينيين من جنوب قطاع غزة على الشاطئ بعد أن أسقطت الطائرات المساعدات الغذائية". انتهى الكثير من المساعدات في البحر، حيث تسلق الفلسطينيون الجائعون قوارب صغيرة في محاولة لاستعادتها. حكام العرب والعجم يتقاذفون كلمات مثل "المساعدات الإنسانية"، ويريدون منا أن نشيد بهم على جهودهم. لكنّ الجيوش لم تُخلق للمساعدة أو لوقف إطلاق النار، بل إنها وجدت للعمل والمؤازرة والحماية ودفع العدو والنصرة. لقد كان بالفعل موقفاً مؤلماً، منذ أن فقدنا درع الخلافة قبل مائة عام، في 3 آذار/مارس 1924م. أيها المسلمون، أقيموا الخلافة، حتى نتمكن أخيراً من حشد الجيوش لدعم غزة. قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾.
*كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير، نور مصعب*
On 31 January 2024, General Syed Asim Munir, NI (M), Chief of Army Staff (COAS) presided over the 262nd Corps Commanders’ Conference (CCC) held at General Headquarters (GHQ), as reported by the media wing of the army, in its press release No PR-26/2024-ISPR. It reported that, “The forum reiterated unequivocal support for Palestine and the people of Gaza while noting the extremely negative fallout of the conflict and the potential to spill over in the wider region. The immediate need for a permanent ceasefire and enduring solution to the Palestinian question was unanimously recognised. In the same vein, Pakistan’s resolve to support the people of IIOJK (Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir) for their right of self-determination was reiterated. Pakistan would continue to morally, politically and diplomatically support Kashmir brothers and sisters till justice is served in accordance with relevant UNSC resolutions.” In the same context, and in stark contrast, the Muslims of Pakistan are vehemently rejecting the “Israeli” bombing and siege imposed on the Gaza Strip and the West Bank, whilst demanding that the Pakistan Army mobilizes in support of Gaza.
The military conference was held after four months of the Jews’ continuous bombing of the Gaza Strip, the most densely populated region in the world. It was held whilst the Jews shower it with various American weapons and ammunition, with the mobilization of missile launchers, planes, and warships. The war has left tens of thousands of martyrs, and many more times that number of wounded. It has led the displacement of most of the people of Gaza into the open skies. The Jews have spread out on the ground, and are filling the sky with warplanes. The conference military was held after the voices of the bereaved have become hoarse through calling upon the leaders and armies, until they fell silent. Yet, after all of this, the military leadership of the sixth largest army in the world are still insisting on their humiliating stance. They are neither being victorious nor even seeking victory. They are emphasizing their neglect and their alignment with the Zionist enemy and its backers, by repeatedly promoting the American conspiracy called “the two-state solution.” They are truly devoid of any principles, any chivalry, or anything of the resolve of Islam. The Prophet (saw) said,
“Any Muslim who will abandons a Muslim, who is confronted with a situation wherein his honour is being violated, Allah (swt) will abandon him, in a situation when he will be in need of His help. Any Muslim who will come to the support of a Muslim in a situation wherein his honour is being violated, Allah (swt) will support him in a situation when he will be in need of His help.” [At-Tabarani]
These military commanders and politicians do not have it in them to represent the best of Ummah brought forwards for humanity. They are devoid of the competence need to confront the monstrous Jewish entity, which on 7 October proved, beyond any shadow of a doubt, its own fragility, confirming that it is only a paper tiger. Indeed, these commanders are lowly Ruwaybidah rulers, who cannot understand that the Ummah has sufficient power to overwhelm Jews, and those who supported them in their occupation. They cannot see “solutions” on the horizon, beyond those presented by their colonialist masters. This is even after it has been proven to every sane person that the colonialists are the enemy itself. It has been proven with certainty that the United States, along with the international institutions, the United Nations, its Security Council, and the International Court of Justice, which is presided over by an American judge, Joan E. Donoghue, are all institutions that are biased towards kufr and its people, including the Jews. They have not supported any Islamic cause since their establishment.
From the publisher's feed