The Urdu Poetry Podcast

The Urdu Poetry Podcast

By Ahsan TirmiziEducationLanguage Learning
Download on the App Store

The Urdu Poetry Podcast episodes

  • Haqeeqat e husn (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi

    If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.

    You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to [email protected].

    I'll look forward to hearing from you. :)

    2 min
  • Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi

    کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گی

    کب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گی


    کب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرے

    خواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلک


    چھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گی

    کب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گی


    چائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمک

    بند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوط


    یہ اداسی کب تلک

    کب تلک نظمیں لکھو گی


    رؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلک

    بائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاج


    مسکراہٹ میں چھپاؤ گی کہاں تک اپنے غم

    کب تلک پوچھو گی ٹیلیفون پر میرا مزاج


    فیصلہ کر لو کہ کس رستے پہ چلنا ہے تمہیں

    میری بانہوں میں سمٹنا ہے ہمیشہ کے لیے


    یا ہمیشہ درد کے شعلوں میں جلنا ہے تمہیں

    کب تلک خوابوں سے دھوکے کھاؤ گی


    2 min
  • Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi

    شہر دل کی گلیوں میں

    شام سے بھٹکتے ہیں

    چاند کے تمنائی

    بے قرار سودائی

    دل گداز تاریکی

    جاں گداز تنہائی

    روح و جاں کو ڈستی ہے

    روح و جاں میں بستی ہے

    شہر دل کی گلیوں میں

    تاک شب کی بیلوں پر

    شبنمیں سرشکوں کی

    بے قرار لوگوں نے

    بے شمار لوگوں نے

    یادگار چھوڑی ہے

    اتنی بات تھوڑی ہے

    صد ہزار باتیں تھیں

    حیلۂ شکیبائی

    صورتوں کی زیبائی

    قامتوں کی رعنائی

    ان سیاہ راتوں میں

    ایک بھی نہ یاد آئی

    جا بجا بھٹکتے ہیں

    کس کی راہ تکتے ہیں

    چاند کے تمنائی

    یہ نگر کبھی پہلے

    اس قدر نہ ویراں تھا

    کہنے والے کہتے ہیں

    قریۂ نگاراں تھا

    خیر اپنے جینے کا

    یہ بھی ایک ساماں تھا

    آج دل میں ویرانی

    ابر بن کے گھر آئی

    آج دل کو کیا کہئے

    با وفا نہ ہرجائی

    پھر بھی لوگ دیوانے

    آ گئے ہیں سمجھانے

    اپنی وحشت دل کے

    بن لئے ہیں افسانے

    خوش خیال دنیا نے

    گرمیاں تو جاتی ہیں

    وہ رتیں بھی آتی ہیں

    جب ملول راتوں میں

    دوستوں کی باتوں میں

    جی نہ چین پائے گا

    اور اوب جائے گا

    آہٹوں سے گونجے گی

    شہر دل کی پنہائی

    اور چاند راتوں میں

    چاندنی کے شیدائی

    ہر بہانے نکلیں گے

    آرزو کی گیرائی

    ڈھونڈنے کو رسوائی

    سرد سرد راتوں کو

    زرد چاند بخشے گا

    بے حساب تنہائی

    بے حجاب تنہائی

    شہر دل کی گلیوں میں


    3 min
  • Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi


    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    دو پاؤں بنے ہریالی پر

    ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر

    کچھ جگمگ جگنو جنگل سے

    کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے

    یہ ایک کہانی نیند بھری

    اک تخت پہ بیٹھی ایک پری

    کچھ گن گن کرتے پروانے

    دو ننھے ننھے دستانے

    کچھ اڑتے رنگیں غبارے

    ببو کے دوپٹے کے تارے

    یہ چہرہ بنو بوڑھی کا

    یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    السائی ہوئی رت ساون کی

    کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی

    کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی

    اک چوٹ کسکتی کولھے کی

    سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں

    اک چہرہ کتنی آڑوں میں

    کچھ چاندنی راتیں گرمی کی

    اک لب پر باتیں نرمی کی

    کچھ روپ حسیں کاشانوں کا

    کچھ رنگ ہرے میدانوں کا

    کچھ ہار مہکتی کلیوں کے

    کچھ نام وطن کی گلیوں کے

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ چاند چمکتے گالوں کے

    کچھ بھونرے کالے بالوں کے

    کچھ نازک شکنیں آنچل کی

    کچھ نرم لکیریں کاجل کی

    اک کھوئی کڑی افسانوں کی

    دو آنکھیں روشن دانوں کی

    اک سرخ دلائی گوٹ لگی

    کیا جانے کب کی چوٹ لگی

    اک چھلا پھیکی رنگت کا

    اک لاکٹ دل کی صورت کا

    رومال کئی ریشم سے کڑھے

    وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی

    آواز شکستہ جاموں کی

    کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے

    کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے

    کچھ بکھرے تنکے چلمن کے

    کچھ پرزے اپنے دامن کے

    یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے

    یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے

    کچھ شعر پرانی غزلوں کے

    عنوان ادھوری نظموں کے

    ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی

    اک خشک قلم اک بند گھڑی

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے

    کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے

    کچھ بگڑی بگڑی تصویریں

    کچھ دھندلی دھندلی تحریریں

    کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے

    کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے

    کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے

    کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے

    کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں

    کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں

    کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں

    یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں


      5 min
    • Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi

      Feel free to share your opinions with me at [email protected]

      nazm:

      تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو

      اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

      اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں

      شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا

      راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

      کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں

      کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں

      میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں

      یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا

      کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں

      کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے

      دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں

      ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش

      جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے

      مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں

      اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے

      گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر

      جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے

      میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید

      پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے

      کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول

      چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت

      ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق

      ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت

      پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں

      کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو

      کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو

      اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو

      آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے

      میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا

      تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو

      اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

      3 min

    About The Urdu Poetry Podcast

    From the publisher's feed

    Urdu poetry has always lived in the oral tradition, passed from voice to voice. The Urdu Poetry Podcast continues that journey.

    More shows like The Urdu Poetry Podcast

    Global News Podcast by BBC World Service

    Global News Podcast

    7,582 Listeners

    The Daily by The New York Times

    The Daily

    111,864 Listeners

    Urdunama by The Quint

    Urdunama

    66 Listeners

    Urdu Poetry Recitation by Urdu Poetry Recitation

    Urdu Poetry Recitation

    0 Listeners

    Bed Time Folk Stories (Urdu/Hindi) by Rameez Alam

    Bed Time Folk Stories (Urdu/Hindi)

    3 Listeners

    Urdu Poetry and Poetics by Faraz Ali, Zer Zabar Paesh

    Urdu Poetry and Poetics

    0 Listeners