کہانیاں اور لوک داستانیں جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو لوک داستان دوسری زبان کے پیرہن میں کہیں زیادہ دلکش اور مقبول ہو جاتی ہیں جیسے پرندوں اور جانوروں کی سنائی ہوئی حکایتوں پر مشتمل عربی زبان کا شاہکار کلیلہ اور دمنہ جو عربی سے دنیا کی چالیس زبانوں میں ہوا تھا دراصل سنسکرت زبان میں تحریر اور فارسی میں ترجمہ ہوا تھا ان سنسکرت کی داستان اور فارسی کا ترجمہ دونوں ہی وقت کی گرد میں غائب ہو چکے ہیں مگر فارسی سے عربی ترجمہ عالمی شاہکار بن گیا ہے
یہ بہت دلچسپ داستان ایک ہندو راجہ کے بارے میں ہے جسے ایک مدفون خزانہ ملا جس کے ساتھ تحریر ایک وصیت نامہ بھی جو بہت عرصہ قبل ہوشنگ نام کے ایک بادشاہ نے خود اس ہندو راجہ کے۔ نام لکھا تھا کہ بتایا تھا کہ یہ خزانہ تمہارے لیئے ہے اس وصیت میں اسے حکمرانی کرنے کے 14 ضروری اصول بتائے گئے اور تلقین کی گئی جس سے وہ ان اصولوں کا سمجھنے کے لیئے وہ ایک طویل سفر کرے کلیلہ اور دمنہ کے اردو ترجمے کے آغاز میں جو 14 اصول بتائے گئے ہیں وہ بہت حیرت انگیز ۔ ان اصولوں کو اگر پڑھیں تو لگتا ہے کہ شاید یہ ہمارے آج کے دور کے حکمرانوں کے لیئے لکھے گئے ہیں ۔ صرف حکمران ہی۔ نہیں ان اصولوں کو سمجھنا موجودہ دور کے ان ملازمت پیشہ افراد کے لیئے بھی ضروری جو اپنی کمپنی کے لیڈر ہیں یا لیڈر بننا چاہتے ہیں