حالیہ چند روز میں مرکزی انتخابی کمیشن کی ٹیم نے کئی بار جموں و کشمیر کا دورہ کیا اور مختلف سیاسی، تجارتی اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا۔
اب تو کشمیر کے پاس یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ ایک پولیس کانسٹیبل کا تبادلہ کر سکے، ہر فیصلہ دلی کے ایوانوں میں ہو رہا ہے جس کے اطلاق کے لیے خطے میں وائسرائے کو رکھا گیا ہے۔
نئی پارلیمان میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کی دھواں دار تقریریں دیکھ کر حکمران جماعت کے چہرے لٹکے ہوئے نظر آرہے تھے مگر عوام کو ایسا منورنجن کافی دیر کے بعد نصیب ہو رہا تھا۔
بیشتر کشمیری کل تک آزادی یا الحاق پاکستان کی خاطر بڑے بڑے جلسے جلوس کیا کرتے تھے لیکن آج وہ پاکستان کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں اور بعض خود کو انڈین ثابت کرنے کی دوڑ میں ہیں۔ سنیئے اس بارے میں نعیمہ احمد مہجور کا تازہ کالم
کشمیری ووٹروں نے اپنے ووٹ سے بہترین انتقام لیا اور باور کروایا کہ جب تک آپ جموں و کشمیر میں دہلی سرکار کی نمائندگی کرنے کا ڈراما کرتے رہیں گے، عوام آپ کو دھتکارتے رہیں گے۔
کشمیر کے موجودہ حالات میں یہ یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا کہ پہلی بار اسیران کشمیر کی بات کرنے کے لئے ایک بیٹا اتنا بڑا رسک لے گا اور پھر اس پر ردعمل کی شکل میں شمالی کشمیر کی سڑکیں نئی عوامی لہر میں یکایک تبدیل ہوجائینگی۔
حالیہ انڈین انتخابات میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر میں کوئی اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا، حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وہاں حالات نارمل کر دیے ہیں۔
5 min
About انڈیا اِن فوکس
From the publisher's feed
انڈیا میں کیا چل رہا ہے؟ وہاں کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتِ حال کیا ہے؟ انڈیا کے زیرِ اہتمام کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟