خواجہ رضی حیدر صاحب ایک ممتاز
ادیب صحافی اور محقق ہیں جن کی شناخت ان کی قاید اعظم شناسی ہے ۔ آپ تقریبا 27 سال تک قاید
اعظم اکیڈمی سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے ریسرچ اسکالر سے لے کر ادارے کی سربراہی
تک مختلف مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ آپ کا تعلق ایک بزرگ محدث سورتی کے خانوادے
سے ہے جن پر کئی برسوں کی تحقیق کے بعد آپ نے " تذکرہ محدث سورتی " کے
نام سے کتاب لکھی اور آپ کے والد نے تحریک پاکستان سے قبل بھی قیام پاکستان کے
لیئے جدوجہد کی اور پاکستان بننے کے بعد بھی وہ مسلم لیگ کے فعال کارکن کے طور پر
رضی حیدر صاحب ممتاز صحافی اور
ادیب بھی ہیں روزنانہ حریت سے وہ تقریبا سال وابستہ رہے جس کے بعد انہوں نے قاید
اعظم اکیڈمی میں خدمات انجام دیں ۔ آپ کے مختلف موضوعات پر کئی سیکڑوں مضامین اور
کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جس میں زیادہ تر قاید اعظم کے بارے میں۔ ان کی تحریریں
ہے ٹیلی ویژن پر بھی آپ نے قاید اعظم پر 13 قسطوں پر مشتمل ایک سیریز کا اسکرپٹ
لکھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس اسکرپٹ کا ایک ایک سطر پر خواجہ صاحب نے بہت عرق
ریزی سے جستجو کی تھی اور کوئی ایک بھی غیر مصدقہ روایت اس ڈرامے کے اسکرپٹ کا حصہ
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ قائد
اعظم اکیڈمی سے 27 برس کا تعلق خواجہ صاحب کی قاید اعظم سب عقیدت کا سبب نہیں بنا
تھا بلکہ انہوں نے شریف المجاہد صاحب کے کہنے پر صحافت کا شعبہ ترک کرکے قاید اعظم
اکیڈمی کا حصہ بنے ورنہ قاید اعظم پر ان کی پہلے کتاب " قاید اعظم کے بہتر
سال " کا پہلا ایڈیشن 25 ,دسمبر 1976 کو شائع ہوا یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اس
کے سات سے زیادہ ایڈیشن شائع ہوئے جب ک قاید اعظم اکیڈمی میں بطور ریسرچ۔ اسکالر
اپنی خدمات کا آغاز کیا قاید اعظم کے ساتھ ساتھ انہوں نے راجہ صاحب محمود آباد پر
بھی ایک تحقیقی کتاب لکھی اور چوہدری رحمت علی پر آپ کی کتاب چودھری رحمت علی
تاریخ کے آئنے میں قلمبند کی
خواجہ رضی حیدر صاحب۔ ایک بہت
عمدہ شاعر بھی ہیں اور آپ کے کلام کا مجموعہ بے دیار شام کے نام سے شائع ہوچکا ہے
خواجہ رضی حیدر صاحب شاہ محی
الحق فاروقی اکیڈمی تشریف لائے تو ان سے کتاب اور صاحب کتاب کے عنوان سے بہت عمدہ
گفتگو رہی ملاحظہ کیجیئے اس گفتگو کی ریکارڈنگ 44 منٹ کی اس وڈیو میں۔