ظفر عالم طلعت کی مکس پلیٹ میں سب ہی کچھ تو ہے ان کے بچپن کا وہ چلبلا پن ، کہ لوگ ان کے والد سے ہوچھتے تھے کہ یہ بچہ نو مہینے ماں کے پیٹ میں کیسے رہ گیا
بڑے ہو کر ان کی وہ سنجیدگی اور بردباری کہ بچے انہیں جمیعت کا "کارٹون" کہتے تھے
جس دور میں وہ کراچی کے شعلہ بیان مقرر اود کراچی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ لیڈر تھے اس دور میں جمیعت کے ناظم کا انتخاب اور اس کی تربیت کا معیار بڑا سخت تھا ایک زیر تربیت ناظم جمیعت کے بارے میں مکس پلیٹ میں لکھا ہے کہ انہوں نے گھر گھر رابطے کی مہم میں اتنا گھگھیا کر جمیعت کا تعارف کروایا کہ کواڑ کی آڑ سے ایک نسوانی ہاتھ باہر نکلا جس میں روٹی اور روٹی پر تھوڑا سا سالن رکھا تھا ۔
یہ کتاب لکھنے کی حوصلہ افزائی جن لوگوں نے کی ان میں سے ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے خود زندگی میں کوئی کتاب نہیں لکھی
اس کتاب کی تکمیل کا سہرہ ظفر عالم طلعت صاحب نے اپنی بیگم کے سر ڈالا ہے حالانکہ بیگم کے حق میں ظفر کی گواہی قانون کی اصطلاح میں ان کا Undue influence لگ رہی ہے اس لیئے قابل قبول نہیں
ان کی بیگم کو اگر کوئی کریڈٹ جاتا ہے تو صرف اتنا انہوں نے ساری عمر ڈانٹ ڈانٹ کر ظفر کو اس کے مقام پر رکھا ظفر بڑی حسرت سے لکھتے ہیں کہ وقت بدل گیا انداز بدل گئے الفاظ بدل گئے مگر بیگم کی ڈانٹ نہ بدلی ظفر لکھتے ہیں کہ جب وہ برسرروزگار تھے تو بیگم کہ ڈانٹ کا انداز اور تھا ریٹائرمنٹ کے بعد ڈانٹ برقرار رہی صرف نئے الفاظ کا اضافہ ہو گیا
اس تبصرے میں تبصرہ نگار نے ظفر کی زندگی کے ان دو اہم ترین واقعات کا ذکر کیا ہے جو خود ظفر کتاب میں شامل کرنا بھول گئے تھے۔ پہلا وہ کہ جب انہوں نے الطاف حسین کو پولیس کی گرفتاری سے بچانے کے لیئے ایک رکن جماعت اسلامی کے گھر میں روپوش کروایا تھا اور دوسرا وہ جب انہوں نے ایک کیو ایم کےایک لیڈر کے ذریعہ عامر خان سے رابطہ کر کے ناظم آباد نمبر 1 میں جماعت اسلامی والوں کے گھر کے اطراف سے وہ مسلح کارکن ہٹوائے جو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر انہیںں گھر کو خالی کرکے محلہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے جان بچانے کے لیئے ساماظفر عالم طلعت کی مکس پلیٹ ، سب ہی کچھ ہی تو ہے ان کے بچپن کا وہ چلبلا پن ، کہ لوگ ان کے والد سے ہوچھتے تھے کہ یہ بچہ نو مہینے ماں کے پیٹ میں کیسے رہ گیا
بڑے ہو کر وہ اتنے سنجیدہ اور بردبار ہوگئے کہ ان کی شناخت اسلامی جمیعت طلبہ کا "کارٹون" ہو گئی
ایک زیر تربیت ناظم جمیعت نے گھر گھر رابطے کی مہم میں اتنا گھگھیا کر جمیعت کا تعارف کروایا کہ کواڑ کی آڑ سے ایک نسوانی ہاتھ نکلا جس میں روٹی اور روٹی پر تھوڑا سا سالن رکھا تھا ۔
یہ کتاب لکھنے کی حوصلہ افزائی جن لوگوں نے کی ان میں سے ایک شخص ایسا بھی ہے جس نے خود زندگی میں کوئی کتاب نہیں لکھی
اس کتاب کی تکمیل کا سہرہ ظفر نے اپنی بیگم کے سر ڈالا ہے حالانکہ بیگم کے حق میں ظفر کہ گواہی قانون کی اصطلاح میں ان کا Undue influence لگ رہی ہے اس لیئے قابل قبول نہیں
شادی سے پہلے اور شادی کے بعد ظفر کی تحریروں میں کیا فرق آیا وہ اس کتاب سے صاف ظاہر ہے۔ وقت بدل گیا الفاظ بدل گئے بیگم کی ڈانٹ نہ بدلی ظفر لکھتے ہیں کہ جب وہ برسرروزگار تھے تو بیگم کہ ڈانٹ کا انداز اور تھا ریٹائرمنٹ کے بعد ڈانٹ برقرار رہی الفاظ بدل گئے
تبصرے میں ظفر اپنی زندگی کے وہ دو اہم ترین واقعات کو حافظے کی کمزوری کے باعث شامل کرنا بھول گئے پہلا وہ جب انہوں نے الطاف حسین کو پولیس کی گرفتاری سے بچانے کے لیئے ایک رکن جماعت اسلامی کے گھر میں روپوش کروایا تھا اور دوسرا وہ جب انہوں نے ایک کیو ایم کےایک لیڈر کے ذریعہ عامر خان سے رابطہ کر کے ناظم آباد نمبر 1 میں جماعت اسلامی والوں کے گھر کے اطراف سے وہ مسلح کارکن ہٹوائے جو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر انہیںں گھر کو خالی کرکے محلہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے جان بچانے کے لیئے سامان نکال گھر خالی کرنے کے علاؤہ وہ کسی کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں تھے