کرپشن کے سمندروں میں دیانت کے جزیرے
ہمیں مال تو صرف اتنا ملتا تو ہمارے نصیب میں لکھا ہے ہمارا اختیار تو صرف اتنا ہے کہ لکھے کا کتنا ہم حلال سے کماتے اور کتنا حرام سے ۔
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مالیاتی ادارے کے ایم ڈی کے گھر کا پرانا فرنیچر نیلام گھر میں بک رہا ہو اورایم ڈی کا پرائیویٹ سیکریٹری اس نیلام میں بولی لگا کر بلکہ بڑھا بڑھا کر بیڈ روم کے پرانے پردے مہنگے دام اس لیئے خریدلے کہ ایم ڈی کی بیگم کو پسند تھے مگر ایم ڈی اپنے عہدے کا فایدہ نہیں لینا۔ چاہتے تھے ۔
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ دو مالیاتی اداروں کا سربراہ رہنے والا جب کارپوریشن میں بھیجا جائے تو وہ وہاں کے ملکیتی دو ہزار گز کے مکمل فرنشڈ بنگلے میں اس لیئے منتقل نا ہو کہ وہاں 8 اے سی لگے تھے اور بطور سرکاری ملازم اس کا 2 اے سی کا استحقاق تھا ۔
ماں کا وہ کیا جملہ تھا جس کے باعث ایف آئی اے کے ایک انسپکٹر نے بلا مبالغہ کروڑوں روپے کی رشوت کو ٹھکرا کر گلی کے اندر دوسری منزل پر چھوٹے سے فلیٹ میں رہنا پسند کیا
کیا آپ کے۔ خیال میں کوئی سرکاری افسر اتنا دیانتدار بھی ہو سکتا ہے کہ محرم کی نیاز کے لیئے راشن کارڈ کے بغیر 5 کلو چینی خریدنے پر اپنی بیوی اپنے نوکر اور راشن ڈپو کے مالک خلاف مقدمہ درج کروا کر ان تینوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کروا دے اور بعد میں کورٹ سے سزہ ملنے پر بیوی اور نوکر کے جرمانے اپنی جیب سے ادا کرے ۔
یہ آدھے گھنتے کا صوتی مضمون دیانتداری کے ان واقعات پر مشتمل ہے جو سب کے سب بالکل سچے اور مصدقہ ہیں ۔ اس صوتی مضمون کو سننے میں آپ کو آدھہ گھنٹہ ضرور لگے گا مگر آپ حیران رہ جاِیں گے ان واقعات کو سن کر بالخصوص نصیر الدین رضوی صاحب کے ذکر پر اور کہ ان کی ایمانداری ہر اللہ نے انہیں جو انعام دیا اس پر ان کے چاروں بیٹے کے بنگلہ دیش میں اپنے اپنے میدان میں کامیاب تریں لوگوں میں سے ایک ہیں جب وقت ملے اس مضمون کو ایک نشست میں مکمل سنیئے گا
https://youtu.be/44LoEMubBDI