دیس دیس کہ کہانیاں اور لوک داستانیں اپنے علاقے کی ثقافت کی غماز ہوتی ہیں اور یہ کہانیاں مادری زبان اور لوک گیتوں کی طرح سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسری نسل کر منتقل ہوتی ہیں اور انہیں محفوظ کرکے اگلی پود تک پہچانے میں ماؤں دادیوں اور نانیوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے جن کی گود میں بیٹھ کر بچہ اپنی مادری زبان سیکھتا ہے لوریاں سنتا ہے اور وہ مقامی گیت سنتا ہے جسے کام کہ دوران اس کی ماں یا بزرگ خواتین گن گنا رہی ہوتی ہیں
بالعموم لوک کہانیاں اور لوک داستانیں جس علاقے کی ہوتی ہیں اسی علاقے کے لوگ اسے جمع اور تدوین کرتے ہیں مگر سہیل احمد صدیقی صاحب کا یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے جنہوں نے سارک کے آٹھ ممالک سے بچوں چھتیس کہانیوں کا انتخاب کیا اور انہیں دو حصوں میں الگ الگ تقسیم کیا یعنی چھوٹے بچوں کے لیئے کہانیاں اور بڑے بچوں کے لیئے کہانیاں سہیل صاحب نے کئی کہانیاں خود بھی تحریر کیں اور کئی کہانیوں کے ترجمے بھی کیئے
سہیل احمد صدیقی صاحب ایک معروف استاد ادیب دانشور ماہر لسانیات ہیں آپ کے کالموں کو پڑھنے والوں کا ایک بڑا حلقہ ہے کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں آپ نے اردو میں ہائیکو کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا
سارک کہانی میں سے میں نے دو کہانیوں کو انتخاب کیا ہے سنانے کے لیئے ایک تو افغانستان کی منتخب کہانی ہے خیالات کی بھرمار جسے تحریر کیا روبینہ شین واری نے اور اس کے انگریزی ترجمہ سے جو نسیم اچکزئی صاحب نے کیا تھا اردو ترجمہ کیا جناب سہیل احمد صدیقی صاحب نے
دوسری کہانی میں نے منتخب کی نیپال کی "جادوئی بادل " جو تحریر ہے وشتومبر چنچل کی اور جس کا ترجمہ کیا ڈاکٹر طاہرہ نگہت نیر نے
ان دونوں کہانیوں کو میں نے اس لیئے منتخب کیا کہ یہ بتاسکوں کی یہ کہانیاں اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ اس کو تفریح کے لیئے سنا جاتا ہے مگر اس میں پوشیدہ جو پیغام ہوتا ہے وہ بچوں کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے اور عملی زندگی میں ان کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے