جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیے کہ وہ مریض کے لیے صحت و عافیت کی دعا کرے ،اور اسے صبر کی تلقین کرے اور اس کا اچھی باتوں سے دل بہلائے ،جس سے وہ محسوس کرے کہ اس کی تکلیف میں کمی ہو گئی ہے۔
اور عیادت کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ مریض کے سرہانے بیٹھ کر تسلّی و تشفی کے ایسے کلمات بولے،جس سے اس کا ذہن آخرت کے اجرو ثواب کی طرف متوجہ ہو ،اور بے صبری اور شکوہ شکایت کی کوئی بات اس کی زبان پر نہ آئے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بخار کو برا بھلا نہ کہو ۔ یہ مومن کے گناہوں کو اس طرح صاف کردیتا ہے۔جیسے آگ کی بھٹی لوہے کے زنگ کو صاف کر دیتی ہے ۔
عیادت کے آداب میں یہ بھی شامل ہےکہ مریض کے پاس زیادہ دیر نہ بیٹھیں ۔اور نہ شور شرابہ ہونے دیں ۔
مسلمان کے لئے کسی غیر مسلم کی عیادت کرنا صحیح ہے۔
یہ بخاری کی ایک حدیث سے ثابت ہے ۔جس کےراوی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ہیں فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسکی عیادت کے لیے گئے،اور اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کو اسلام کی دعوت دی اور وہ اسلام لے آیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :