یہ قصہ تقریباً ۳۵ سال پرانا ہوگا۔ میں بالعموم اتنا جلدی دفتر جاتا تھا کہ سوائے سویپر کے وہاں کوئی اور نہیں ہوتا تھا اس کا نام بشارت مسیح تھا بلا کا باتونی بھی اور جگاڑو بھی بہت اس لیے اس کے پاس بہت مزے مزے کی کہانیاں ہوتی تھیں-اس کے بٹوے میں بہت بڑے بڑے لوگوں کے وزیٹنگ کارڈ ہوتے تھے جنہیں استعمال کرنے کا فن اسے آتا تھ وہ کیسے اس قصے میں سنیئے مگر اصل قصہ کچھ اور ہے