شاہد احمد دہلوی صاحب دہلی میں 1906 میں پیدا ہوئے انہوں نے دہلی کی مٹتی ہوئی تہذیب کے نقوش اپنی آنکھوں سے دیکھے اور دہلی کے ان کرداروں کرداروں کو بھی اپنی آنکھ سے دیکھا جو وقت کی کے ساتھ ساتھ معدوم ہوگئے شاہد احمد دہلوی صاحب نے اپنے مضامین اور رسالہ ساقی سے دہلی کے ان کرداروں کو زندہ جاوید کر دیا پر محفوظ کر لیا ۔ آپ کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا آپ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے تھے مگر آپ کو مشرقی موسیقی سے بہت لگاؤ تھا ۔ شاہد احمد دہلوی صاحب کو ادب اور موسیقی کی جڑواں محبوبائیں رکھنے والا منفرد ادیب بھی کہا جاتا ہے محترم عقیل عباس جعفری صاحب شاہد احمد دہلوی صاحب کے موسیقی کے موضوع پر لکھے ہوئے تیس مضامین کا ایک مجموعہ "مضامین موسیقی " کے نام سے مرتب کیا جس میں بارہ وہ نایاب مضامین بھی ہیں جو مشاہیر نے شاہد احمد دہلوی کے بارے میں لکھے تھے عقیل عباس صاحب کا کہنا ہے کہ ’ہماری بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جو صاحبان فن موسیقی جانتے ہیں وہ لکھنا نہیں جانتے اور جو لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ موسیقی کی باریکیاں نہیں سمجھتے۔ شاہد احمد دہلوی نہ صرف یہ دونوں ہنر جانتے تھے بلکہ ان پی مکمل عبور بھی رکھتے تھے"