ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا،بجلیاں کڑکیں، بادل گرجے، درخت پوری قوت کے ساتھ جھوما، اور تنکا تنکا لاکر گھونسلہ بناتی بھوری چڑیا کا ادھ بنا گھر زمین بوس ہوگیا۔
تنکا تنکا جوڑ کر بنا یا گیا گھر ٹوٹنے کا دکھ!
آہ!لیکن بھوری چڑیا پہلی دفعہ اس درد کا شکار نہیں ہوئی تھی۔وہ اپنی فیملی کے ساتھ بہت خوشحال زندگی گزار رہی تھی، لیکن ایک دن آندھی سے اس کا شاندار گھونسلہ بکھر گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس نے اپنے بچے کو بھی کھویا تھا۔ اس نے کئی دفعہ گھونسلہ بنانے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی،پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری، اور اب وہ ایک دفعہ پھر اپنے بچوں کے لیے گھر بنانے کی کوشش کررہی تھی،لیکن اب بھی اس کا گھر نہیں بن پایا۔
تبھی ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوئی۔ بھوری چڑیا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں اپنے بچوں کے ساتھ آسمان میں تیز تیز اڑنے لگی۔ آس پاس کہیں کوئی درخت نظر نہیں آرہا تھا۔ انسانوں نے پرندوں کے گھر درختوں کی کٹائی کرکے وہاں اپنے گھر تعمیر کرلیے تھے۔ اسے دور دور تک کہیں ایک بھی درخت نظر نہیں آرہا تھا۔ بارش مسلسل ان پر برس رہی تھی۔ اس کے بچے بھیگ رہے تھے۔ ٹھنڈ سے کانپتے ہوئے بھی اڑ رہے تھے۔یکایک بھوری چڑیا کو ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں وہ اپنے بچوں کو محفوظ کرسکتی تھی۔وہ ایک گھنا درخت تھا۔ وہ تیزی سے اپنے بچوں کو لیے نیچے آئی۔ بچے بھوک کے مارے چوں چوں کررہے تھے۔ گھنے سایہ دار درخت کی شاخ پر بنا مضبوط اور بڑا گھونسلہ دیکھ کر بھوری چڑیا کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسے بھی ایسا ہی گھر دیا تھا، لیکن وہ ٹوٹ گیا، اور اب اللہ نے ہی اسے اِس گھر کا راستہ بتایا تھا۔ وقتی طور پر ہی سہی، وہ یہاں اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو محفوظ کرسکتی تھی۔بھوری چڑیا گھونسلے کے ساتھ والی ٹہنی پر بیٹھ گئی۔اس کی تقلید میں اس کے بچے بھی وہیں بیٹھ گئے۔یک لخت اس گھونسلے میں بیٹھی چڑیا کی نظر اس پر پڑی۔ بھوری چڑیا بھوکی، پریشانی سے بے حال اور بھیگی ہوئی تھی۔
’’اے ہٹو یہاں سے۔ میرے بچوں کے کھانے کو نظر لگارہی ہو؟جاؤ یہاں سے۔‘‘ اس چڑیا کی اونچی آواز سن کر بھوری چڑیا کے بچے سہم کر اس سے لپٹ گئے۔
’’نہیں نہیں بہن، ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ بارش سے بچنے کے لیے یہاں آئے ہیں بس۔‘‘ بھوری چڑیا نے تیزی سے کہا۔
’’نہیں،میرے گھر میں جگہ نہیں ہے۔‘‘ بھوری چڑیا نے اس کی بات پر اس کے بڑے سے گھونسلے کو دیکھا، جس میں وہ چڑیا اپنے دو بچوں کو پروں میں چھپائے بیٹھی تھی۔ اطراف میں وسیع جگہ خالی تھی۔ بھوری چڑیا نے اس کے جھوٹ بولنے پر ملامتی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’کوئی بات نہیں۔ ہم بارش رکنے تک یہیں بیٹھ جائیں گے۔ اسی درخت کی ٹہنی پر۔‘‘اتنے میں پڑوسی گھونسلے سے ایک چڑیا آئی اور اس چڑیا سے بھوری چڑیا کے متعلق استفسار کیا۔