پیارے نبیﷺنے فرمایا کہ جو شخص کسی آزاد کو پکڑ کر بیچے گا۔ اس کے خلاف میں خود قیامت کے روز مدعی بنوں گا۔ پیارے نبیﷺ کی اس صدا نے ماضی میں ایک انقلاب برپا کردیا تھا، اور انسان کے پیروں میں بندھی زنجیروں کو توڑ کر انھیں آزاد کردیا تھا، ان کے جان مال کے ساتھ ان کا وجود محفوظ کردیا تھا۔
آج دور جدید، انسان کی آزادی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ مصنفین نے فرد کی آزادی کو اس درجے تک پہنچا دیا کہ باپ کی اپنے بیٹے کی سرزنش و سختی کوبچے کی آزادی کے خلاف مانا جانے لگا، لیکن اسی آزاد دنیا میں آج بھی غلامی کی بیڑیوں کے بوجھ سے کثیر تعداد میں انسان کراہ رہے ہیں۔ آج بھی غلامی باقی ہے، بس اس کا نام بدل گیاہے۔ اس لیے اسلام نے غلامی کے مسئلے میں احکام اور قوانین کے ساتھ ساتھ انسان کی تربیت پر بھی توجہ دی۔
للملوک طعامه و کسوته ولا یکلف من العمل الا ما یطیق
(غلام کو کھلاؤ اور پہناؤ اور اسے وہ کام نہ دو جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔)(صحیح مسلم)
أطعموھم مما تطعمون وألبسوھم مما تلبسون
(ان غلاموں کو تم جو خود کھاتے ہو انھیں بھی کھلاؤ، جو خود تم پہنتے ہو انھیں بھی پہناؤ۔)(صحیح بخاری /صحیح مسلم)
اسلام وہ مذہب ہے، جس نے کسی بھی شخص کو نسل ،وطن ،رنگ ،زبان اور دین و مذہب کی بنیاد پر غلام بنانا حرام قرار دیا ہے ۔جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے نے ایک قبطی کو بلاوجہ مارا تھا تو حضرت عمر ؓ نے بر سر عام اس کو سزا دی، اور ساتھ ہی گورنر کو سخت ناراضگی سے دیکھتے ہوئے فرمایا :
متی استعبدتم الناس وقد ولدتھم أمھاتھم أحراراً؟
(تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنانا شروع کیا ہے؟ جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا ۔)
قدیم زمانے میں غلام تین طرح کے ہوتے تھے۔