عربی زبان میں رمضان کا مادہ’’ رمض ‘‘ہے ، جس کا معنی سخت گرمی اور تپش ہے۔ رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت محسوس کرتا ہے ،اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔(ابن منظور، لسان العرب، 7 : 162)
ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں :
رمضان’’ رمضاء‘‘ سے مشتق ہے ،اس کا معنی سخت گرم زمین ہے، لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا ہے۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کیے تو انہیں ان اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا جن میں وہ اس وقت واقع تھے۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا ،اس لیے اس کا نام رمضان رکھ دیا گیا۔
(ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 4 : 229)
عربی مہینے میں رمضان المبارک نواں مہینہ ہے جو فضیلت کے اعتبار سے وہ شمع ہے جس پر پروانے ٹوٹے پڑتے ہوں۔ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جو دستور حیات ’’ قرآن ‘‘کے نزول کا سبب بنا۔ ارشاد ہے :
شھر رمضان الذي أنزل فيه القرآن. هدى للناس و بينات من الهدى و الفرقان .
(رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ،جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں [پر مشتمل ہے۔])
یہ کتاب انسانی رہنمائی کے لیے ایک گلشن حیات ہے جس کے رنگ برنگے سبزے انسان کے تمام روحانی امراض کا علاج پیش کرتے ہیں، اور اس کتاب کا آسمان دنیا پر نزول اسی مہینے میں ہوتا ہے، جو تمام عبادات کا مجموعہ ہے ،جہاں دن کی بھوک و پیاس برداشت کرنے کی ریاضت ہے تو قیام لیل کے ذریعے قرب الٰہی کے حصول کی مشق ہے۔ جس میں صدقۂ فطر اور صدقات و خیرات میں سبقت لے جانے کی ترغیب ہے، تو اعتکاف کے ذریعے انسانی روح کی سیرابی ہے۔
رمضان کی اسی اہمیت کے پیش نظر نبئ رحمت ﷺ اس کے استقبال کے لیے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے تھے، وہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور رمضان المبارک کی آمد کی بےتابی آپ کی دیدنی ہوتی تھی، جس کا اظہار آپ کی اس دعا سے ہوتا ہے جس کا التزام آپ رجب کے مہینے سے ہی شروع کر دیتے تھے۔
اللھم بارك لنا فى رجب و شعبان و بلغنا رمضان
(شعب الایمان للبيهقي کتاب الصیام)
صحابۂ کرامؓ چونکہ ایمان میں اگر ’’السابقون الاولون‘‘ تھے ،تو اعمال صالحہ کی ادائیگی میں بھی بے مثال تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیںاللہ تعالیٰ کی طرف سے رضا و خوشنودی کی سند ان کی زندگی میں عطا کی گئی تھی۔ وہ ہر حکم نبی کو مشعل راہ کے طور پر لیتے اور اپنی عملی زندگی میں اسے نافذ کرتے، چنانچہ ان کے اسی عملی جذبے اور اعلیٰ معیار کی بنا پر نبیٔ اکرمﷺ نے انہیں ستاروں کی مانند قراردیا۔
صحابہ ٔکرام ؓکا یہ معمول تھا کہ اس مہینے کی آمد سے پہلے ہی اپنے معمولات کو ترتیب دینے کے لیے اپنے اوقاتِ کار مرتب کرتے اور اپنا وقت ضائع ہونے نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ جب ہم صحابہؓ اور صحابیات کی رمضان المبارک میں مصروفیات وعبادات کو دیکھتے ہیں تو ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔