درس وتدریس کا جذبہ موجود تو تھا ہی، چنانچہ معاش کا ذریعہ یہی شوق و شغف ثابت ہوا۔ رام پور تشریف لائے اور یہاں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی درس گاہ میں تدریسی فرائض کی خدمت انجام دینے لگے۔تدریسی خدمت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تفسیرِ یس ; ٓ ،
تفسیر سورۂ الصف ، گلدستۂ حدیث ، تفہیم الحدیث ، قرآنی تعلیمات، آسان فقہ،اسلامی معاشرہ،حسنِ معاشرت،شعورِ حیات، داعی اعظم، روشن ستارے، کے علاوہ ستر کتابوں کے مصنف تھے۔چچا میاں کی اہم ترین تصنیف ’’آداب زندگی‘‘ کو مانا جاتا ہے ۔دنیا کی بیش تر علاقائی قومی اور بین الاقوامی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔واقعتاً یہ کتاب قابلِ قدر ہے کہ بار بار پڑھا جائے اور حرزِ جاں بناکر رکھا جائے۔
محترم استاذ نے 1972 میں ماہنامہ ذکریٰ کا اجرا کیا ۔ جو آج تک جاری ہے۔ متعدد دینی و تعلیمی اور فلاحی اداروں کو چچا میاں کی سرپرستی و رہنمائی کا شرف حاصل ہے ۔جن میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی درس گاہ کا نام نمایاں ہے۔ابتدائے شباب سے ہی جماعتِ اسلامی ہند کے رکن منتخب ہوئے۔کئی سالوں سے مجلسِ شوریٰ میں بھی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔
چچا میاں اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ بین الاقوامی سطح پر کانفرنس اور سیمینار میں مدعو کیے جاتے تھے۔بہترین داعی حق و دین کی حیثیت سے یورپ و امریکہ میں ایک منفرد و ممتاز مقام رکھتے تھے۔
1980 میں پہلا امریکی سفر تھا۔وہاں پر اپنی صلاحیتوں کا ایسا سکہ جمایا کہ تشنگانِ علم کے بڑے بڑے حلقے چچا میاں کے گرویدہ ہوگئے۔ محبت و التفات کا عالم یہ تھا کہ وہاں کے باشندے ہمہ وقت اپنے پاس رکھنے اور استفادہ کرنے کے آرزو مند رہتے، لیکن چچا میاں کے حکمت یہ تھی کہ سال کا نصف حصہ بیرونِ ملک تو نصف حصہ وطنِ عزیز میں، جہاں ذمہ داریاں آپ کی منتظر رہتیں۔جس میں ’’جامعہ الصالحات ‘‘ کی ذمہ داری سرِ فہرست اور قابلِ ترجیح تھی۔