حکمت کے مختلف معنی ہیں لیکن اصولی طور پر حکمت انسان میں موجود وہ صفت ہے جو اسے باقی تمام لوگوں سے جدا کرتی ہے۔ انسان کا اخلاق،کردار ، رویہ ، الفاظ، علم اور عمل سب کچھ حکمت کے بنا نا مکمل ہے ۔ حکمت انسان کو اندھیروں میں روشنی اور غلامی میں آزادی عطا کرتی ہے ۔ حکمت وہ صفت ہے جس نے انبیاے اکرام کو فوقیت عطا کی اور انھیں اتنی طاقت فراہم کی کہ وہ بغاوت اور ظلم کے خلاف مسکراتے چہرے لے کر آگے بڑھتے رہیں ۔
قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالی نے انبیاے اکرام کو ’’حکمت‘‘بحیثیتِ نعمت عطا کرنے کا ذکر کیا ہے ۔ سورہ بقرہ آیت 269 میں اللہ سبحانہ و تعالی نے واضح الفاظ میں اپنی فراخ دستی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جسے حکمت سے نوازا جائے وہ دراصل ایک بڑی دولت سے نواز دیا جاتا ہے۔‘‘
نبی اکرم ؐکے متعلق بھی قرآن میں بیشتر مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ انھیں کتاب اور حکمت عطا کی گئی۔
یہی وہ حکمت تھی جس کے ذریعہ آپ ؐنے خدا کی وحدانیت کی منکر قوم کو خدائے واحد کے آگے دل کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ سجدہ ریز کروایا۔