پنے بت تراش والد اور دیگر لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کی انتہائی کوششیں ‘ عقیدہ ٔ توحید پر ایمان لانے کے بعد حق کے لیے ‘ ایمان کی حفاظت کے لئے ‘ یکے بعد دیگرے آپ نے بہت کچھ سہا، بہت کچھ برداشت کیا ۔ اپنے والدین ‘عزیز و اقارب اور اپنے ہی وطن کے لوگوں کی طرف سے خود پر هہونے والے ظلم کو سہنا ، اپنے وطن عزیزکو خیر آباد کہنا، حضرت سارہ علیہ السلام کی جدائی، حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور ننھے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ تنہا ایک ویران و بے آب و گیاہ علاقے میں بسنا۔ تصور کیجئے اس تپتے ریگستانی صحرا میں جہاں دور دور تک زندگی کے آثار نظر نہ آتے ہوں، ایسی جگہ اپنے لخت جگر اور محبوب بیوی کے ساتھ سفر اور اس کے بعد اسی لخت جگر کو خواب میں اپنے ہی ہاتھوں قربان کرتا دیکھ کر اسے اپنے حبیب کا حکم، اپنے معبود برحق کا فرمان جان کر اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے خود کو، بیوی کو، تیار کر لینا خالق حقیقی سے عشق کی انتہا کا ایک بے مثال و بے نظیر واقعہ ہے۔