
Sign up to save your podcasts
Or


"اپنے بالوں کی حفاظت میں" ایک مزاحیہ اور سبق آموز کہانی ہے جو ایک نوجوان طالب علم کی زندگی کے ایک دلچسپ واقعے پر مبنی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک اسکول کا طالب علم ہے جو اپنے لمبے بالوں سے بہت محبت کرتا ہے اور انہیں کٹوانا نہیں چاہتا۔
مصنف: شیوا ہری ادھیکاربرائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: عبداللہ مدثر
مدیر: ریاض احمد
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو دوسروں کے مشوروں پر عمل کرکے بہت نقصان اٹھاتا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں تنقیدی و تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔طلباءکے ساتھ چند مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ان کے ساتھ اپنے اطراف میں یا روزمرہ زندگی سے جڑےکچھ حالات پر بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔طلباء میں حالات کا جائزہ لینے اور صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔باغبانی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔انہیں مختلف پھولوں اور ان کے ناموں سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ماحول میں پائے جانے والے پودوں ،درختوں،پھولوں،پھلوں،جانوروں،،چرندوں ،پرندوں کی مختلف اقسام کے بارے میں بچوں سے گفتگو کریں۔
کہانی کی بنیاد پر ان سے چند سوالات پوچھیں مثلاً
مصنف : امبیکا راؤ برائے پرتھم استوری ویور
کہانی گو: عائشہ طلعت
مدیر: عائشہ طلعت
یہ مغربی گھاٹ کے جنگلوں میں ایک وائلڈ لائف فوٹو گرافر کی مسحور کردینے والی ایک جنگلی بلی کی تلاش کی دلچسپ کہانی ہےجس میں وہ بے شمار جنگلی مخلوقات ملتا ہے ۔ یہ دلچسپ کہانی زندگی کے ذاتی تجربات سے ماخوذ ہے ۔ اس کہانی کی تصاویر اتنی ہی سچی لگتی ہیں جتنی کی یہ کہانی۔ آئیے ! آپ بھی چلئے اس بلی کی تلاش میں !
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں تحقیقی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔مہم جوئی کے متعلق معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔طلباء کی جغرافیائی معلومات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔جنگلات میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے جانوروں کی معلومات دی جاسکتی ہے۔طلباء کو مختلف پیشوں سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔فطرت میں پائے جانے والے بے شمار عجیب و غریب مخلوق کے متعلق بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔طلباء کو نئے نئے الفاظ سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
مصنف: پارو آنند برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: سمر جہاں
مدیر: سمر جہاں
ببلو بھالو کی زندگی اُتار چڑھاؤسے بھری ہوئی ہے۔ وہ اُچھلتا کودتا آگے بڑھتا ہےسچ مچ اُچھلتا کودتا! آئیے اُس کے ساتھ جنگل کی سیر کریں اور ہمالہ کے ان بھالوؤں کے پوشیدہ رازوں کا پتہ لگائیں۔
اس کہانی کی ذریعے طلباء کو شمالی علاقوں نیز برفیلی علاقوں اور وہاں پائے جانے والے جانوروں سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکتی ہے۔جنگلی جانوروں سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔مہم جوئی کے واقعات طلباء کو سنائے جا سکتے ہیں۔ان پر تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے۔جنگلات اور اس کے اقسام پر بات کی جاسکتی ہے۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیاجا سکتا ہے۔طلباء کی تنقیدی و تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔انسان کےچاند پر پہچنے والے مہمات کا ذکر کرکے ان کی معلومات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔پہاڑوں اور ان کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کی جا سکتا ہے۔طلباء کی جغرافیائی اور سائنسی معلومات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
مصنف:افسر میرٹھی
کہانی گو:بلقیس فاطمہ
مدیر:عائشہ صدیقہ
یہ کہانی جاپان میں رہنے والے ایک بڈھے اور بڑھیا کی ہے جو ایک چڑے کے دوست تھے۔ چڑا روز ان کے گھر آتا، دانہ دنکا کھاتا اور ان کے ساتھ کھیلتا۔ ایک دن بدمزاج پڑوسن چڑے کی چونچ توڑ دیتی ہے جس سے بڈھے اور بڑھیا کو بہت رنج ہوتا ہے۔اور اس کی سزا اس بد مزاج عورت کو کس طرح ملتی ہے اس کا ذکر اس کہانی میں کیا گیا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو دوستی، محبت، اور رحم دلی کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ چڑے کے کردار کو مثال بنا کر انہیں سکھایا جا سکتا ہے کہ کس طرح سے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اچھے برتاؤ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کہانی کے ذریعے لالچ اور برے رویے کے نتائج سے بھی روشناس کرایا جاسکتاہے۔طلباء کو نئے نئے الفاظ سے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔اردو قواعد سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں
مصنف:نورالحسنین
کہانی گو:اسماء عالم
مدیر:اسماء عالم
کہانی ایک بچے گڈو میاں کی ہے جو اپنے آنگن میں موجود آم کے درخت سے بہت محبت کرتا ہے۔ گڈو میاں شرارتی اور نٹ کھٹ ہونے کے باوجود سب کے دلوں کا راج دلارے ہیں۔ آم کا درخت ان کے دادا جان کی نشانی ہے اور گڈو میاں کا سب سے عزیز دوست ہے۔ دونوں میں گہری دوستی ہے۔ پھر ایک دن اچانک ایسا کون سا واقعہ پیش آتا ہے جس سے گڈو میاں اور آم کا درخت جدا ہوجاتے ہیں ۔چلو دیکھیں!
اس کہانی کے ذریعےے طلباء کو دوستی، محبت، اور قدرتی ماحول کی حفاظت کے بارے میں سکھایا جا سکتا ہے۔ کہانی کے ذریعے طلباء میں شجرکاری کی اہمیت اجاگر کی جا سکتی ہے۔طلباء کو جذباتی و سماجی تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی طلباء کو فطرت اور درختوں کی اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکتی ہے۔طلباء کو آم کے درخت کے بارے میں سائنسی حقائق بتائے جا سکتے ہیں جیسے کہ اس کی کتنی اقسام ہیں، وہ کس قسم کی مٹی میں اگتا ہے، اور اس کے پھل کی غذائی اہمیت کیا ہے۔طلباء کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
مصنف: رکمنی بینرجی برائے پرتھ اسٹوری اسٹوری ویور
کہانی گو: بشری پروین
مدیر: حسن ایاز
یہ کہانی ایک ایسی بچی کی ہے جسے کہانیاں سننے میں بے انتہا دلچسپی ہے مگر ہر کوئی اس کی اس دلچسپی کو نظرانداز کرتا ہے پھر ایک دن ایک لڑکی اسے کہانیاں سنانا شروع کرتی ہے جس سے پورے شہر میں کہانیوں کا سیلاب آجاتا ہے پھر تمام لوگ کس طرح اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں اس کا ذکر اس کہانی میں کیا گیا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں کہانیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ان کے خیالات و تصورات کو تقویت دی جا سکتی ہے ۔طلباء کے ساتھ موضوع کے اعتبار سے کہانیوں کی اقسام پر بحث کی جاسکتی ہے۔ذاتی طور پر کہانیاں تخلیق کرنے میں ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔طلباء کی تنقیدی اور تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف: مایا بسنیربرائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: اسماء خاتون
مدیر: اسماء خاتون
یہ کہانی دو بچوں کی ہے جو میلے میں جاتے ہیں جہاں وہ ایک کھانے کے دو حصے کرکے کھانے کا لطف اٹھاتے ہیں۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں ریاضی کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسر اور تقسیم وغیرہ کے تصورات کی تفہیم ۔کہانی کو حقیقی دنیا کی تعلیم سے جوڑ کر مسائل کا حل تلاش کرنا جیسی خصوصیات کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق کی صلاحیت کو فروغ دیاجا سکتا ہے۔عدل و انصاف کی خصوصیات کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔طلباء کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔طلباءکو اردو وقواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں اور تحریری مہارتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
مصنف:وینکٹا رامانا گوڈا برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو:عبداللہ مدثر
مدیر:صبیحہ یاسمین
کوا خوبصورت نہیں ہے اس کی نہ کوئل جیسی میٹھی آواز ہے اور نہ ہی اس میں مور جیسی چنچل اداہے۔لیکن اس میں ایک ایسی اہم خاصیت ہے جس سے ہم سبھی سبق حاصل کر سکتے ہیں اس کہانی کے ذریعے کوے کی اس خصوصیات کو دریافت کیجیے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو پرندوں کے نام اور ان کی خصوصیات کے متعلق معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔پرندوں کی آوازوں سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔آپسی اتحاد و اتفاق کا جذبہ بیدار کیا جاسکتا ہے۔زندگی میں محنت اور کوشش کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے کو ابھارا جاسکتا ہے ۔طلباء کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے؟طلباءکو اردو وقواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف: ڈاکٹر ذاکر حسین
کہانی گو: بلقیس فاطمہ
مدیر: نشاط فاطمہ
یہ کہانی ایک پوری کی ہے جو کڑھائی سے نکل کر بھاگ جاتی ہے اور راستے میں مختلف کرداروں سے ملتی ہے اور اپنی عقلمندی سے سب کو دھوکہ دے کر آگے بڑھتی جاتی ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو محنت، عقلمندی، اور حوصلے کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ پوری کے کردار کو مثال بنا کر انہیں سکھایا جا سکتا ہے کہ مشکلات کے باوجود حوصلہ نہ ہاریں اور اپنی عقلمندی سے مشکل حالات کا سامنا کریں۔ اس کے علاوہ، کہانی لالچ اور برے رویے کے نتائج سے بھی روشناس کراتی ہے۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اردو قواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں
From the publisher's feed