
Sign up to save your podcasts
Or


مصنف:اجیت نررا برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو:محمد غوث
مدیر:احمدی بیگم
یہ ایک دلچسپ اور مہماتی کہانی ہے جو ایک بچی کے گرد گھومتی ہے جو ایک دلچسپ کھیل میں حصہ لیتی ہے۔ اس کھیل میں اسے مختلف
اشیاء کی تلاش کرنی ہوتی ہے ۔ یہ کھیل نہ صرف بچوں کی جسمانی صلاحیتوں کو چیلنج کرتا ہے بلکہ ان کی دماغی قابلیتوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو پانی اور اس کے ذخائر کے متعلق معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔روزمرہ زندگی میں پانی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔انسانی زندگی پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔نئی نئی ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات پر معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔کہانی میں موجود نئے نئے الفاظ سے طلباء کو روشناس کرایا جاسکتاہے۔
کہانی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔مثلاً
مصنف: انیس اعظمی برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: محمد غوث
مدیر: حسن ایاز
اونٹوں کو دو حصوں میں کیسے تقسیم کیا جا سکتاہے اس کہانی میں مصر کے تاجر عبد اللہ بن سعد کی حکمت اور اس کی بیوی رقیہ خاتون کی ذہانت کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ رقیہ خاتون نے بڑی خوش اسلوبی سے اونٹوں کی تقسیم کا معمہ حل کیا اور اپنے بچوں کو محبت کے ساتھ رہنے کا حوصلہ دیا۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں اچھے اخلاق و آداب کی اہمیت دلائی جا سکتی ہے۔طلباء میں زندگی کی مہارتوں کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔طلباء میں ریاضی کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسر اور تقسیم وغیرہ کے تصورات کی تفہیم ۔کہانی کو حقیقی دنیا کی تعلیم سے جوڑ کر مسائل کا حل تلاش کرنا جیسی خصوصیات کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق کی صلاحیت کو فروغ دیاجا سکتا ہے۔عدل و انصاف کی خصوصیات کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔طلباء کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔طلباءکو اردو وقواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں اور تحریری مہارتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔
کہانی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف: اشویتا جے کمار برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: طیبہ صدیقہ
مدیر: اجمل نواب
اس کہانی میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح اناج کچھ مدت تک ہی اپنی اصل حالت میں رہتا ہے اسے اچھی حالت میں رکھنے کے لیے فریج کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور اگر فریج خراب ہوجائے تو ذخیرہ کی گئی تمام اشیاء خراب ہوجاتی ہے۔اور ایسی خراب اشیاء میں پیدا ہونے والے جراثیم بے حد مضیر ہوتے ہیں ۔جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو اناج اور اس کی قسموں کے متعلق معلومات دی جا سکتی ہے۔اناج کی حفاظت کے لیے اسے ذخیرہ کرنے کے مختلف طریقہ کار سے واقفیت دلائی جا سکتی ہے۔اطراف میں پائے جانے والے جراثیم اور ان کے انسانی صحت پر ہونے والے نقصانات سے طلباء کو آگاہ کرایا جاسکتا ہے۔صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا سکتاہے۔طلباء میں کہانی میں موجود نئے الفاظ نئے تصورات سے روشناس کرایا جا سکتاہے۔اردو قواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف: سرویندراوکرم برائے پرتھم اسٹوری
کہانی گو: نشاط فاطمہ
مدیر: نشاط فاطمہ
یہ ایک خوبصورت کہانی ہے جو شوبھنی اور اس کی نانی کے درمیان محبت بھرے رشتے کو بیان کرتی ہے۔ کہانی میں شوبھنی کو نئے نئے کام کرنے میں مزہ آتا ہے۔جو اپنی نانی کے ساتھ مختلف جگہوں پر گھومنے جاتی ہے اور لطف اٹھاتی ہے۔ یہ کہانی نہ صرف نانی اور شوبھنی کے رشتے کو مضبوط کرتی ہے بلکہ بچوں کو زندگی کی اہم قدروں اور روایات سے بھی روشناس کراتی ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کوبزرگوں اور ان کی اہمیت کے متعلق معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔گھر کے بزرگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح سے استوار کرنا ہے آداب کیا ہیں اس کے متعلق معلومات دی جا سکتی ہے۔میلے کے متعلق طلباء کو معلومات دی جا سکتی ہے۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں۔
مصنف: صدف صدیق برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: طیبہ صدیقہ
مدیر: حمیرہ تحسین
ماہِ رمضان تھا اور حکیم صاحب کو ہچکیوں کا عارضہ لاحق ہوا۔ ہچکیاں بند ہوں اس کے لیے وہ پانی بھی نہیں پی سکتے تھے۔ یہ ہچکیاں بند کرنے کے لیے حکیم صاحب کون سی تتراکیب اختیار کرتے ہیں۔ کیا اُن کے مریض بھی اُن کی مدد کرتے ہیں؟
اس کہانی کے ذریعے طلباء کی دلچسپی بڑھائی جا سکتی ہے اور سمجھ بوجھ کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔کہانی کےاہم الفاظ سے واقفیت پیدا کی جاسکتی ہے کہانی سے مشکل یا نئے الفاظ سے متعارف کرائیں۔الفاظ کا چارٹ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں اور تحریری مہارتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔طلباء میں تنقیدی سوچ او ر بحث کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں۔مثلاً
مصنف:جے شری دیش پانڈے برائے پرتھم اسوری ویور
کہانی گو:عبداللہ مدثر
مدیر:غوثیہ بیگم
یہ کہانی ایک چھوٹے بچے راجو کے گرد گھومتی ہے جو اپنے دادا، دادی کے ساتھ ندی کنارے کی خوبصورت یادوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ وہ ندی کے صاف اور ٹھنڈے پانی، پیڑ پودوں اور رنگ برنگے پھولوں کے ساتھ ساتھ کشتی کی سیر کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ کہانی بچوں کو ندی اور اس کے ارد گرد کے ماحول سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو قدرتی ماحول، ندیوں کی اہمیت، اور ندیوں کے گرد رہنے والے لوگوں کی طرزِ زندگی کے متعلق معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، طلباء کو مختلف تجربات کے ذریعے ندی کے پانی اور اس کے استعمالات کے بارے میں سکھایا جاسکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر طلباء سے درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف: ساوتری سنگھ برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو: نشاط فاطمہ
مدیر: نفیسہ بانو
اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح چلبل اپنی پونچھ کی جگہ دوسرے جانوروں کی پونچھ کو لگواتی ہے اور کن کن مصیبتوں میں مبتلا ہوجاتی ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو بتایا جا سکتا ہے کہ دوسروں کی نقل کرنے کی وجہ سے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طلباء کے ساتھ ان کی خود کی شخصیت کی صفات کے متعلق گفتگو کی جا سکتی ہے۔طلباء کو مختلف جانوروں ان کی ظاہری شخصیت و خصوصیات کی معلومات دی جا سکتی ہے۔طلباء کو نئے نئے الفاظ سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر ان سے درج ذیل سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔
مصنف:سنجنا کپوربرائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو:عبداللہ مدثر
مدیر:غوثیہ بانو
یہ کہانی ایک بچے کی ہے جو ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔جو بات بات پر غصہ کرتا ہے ۔ہمیشہ اداس اور غمگین رہتا ہے۔نہ وہ کھیلتا ہے ۔نہ وہ ہنستا ہے۔اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح وہ اس مشکل سے باہر نکلتا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کو ذہنی صحت کی اہمیت اور اس کے مسائل کے بارے میں آگاہی دی جا سکتی ہے۔ طلباء کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کیسے ہم اپنوں کی مدد کر سکتے ہیں جب وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔ اس کہانی کے ذریعے طلباء کو یہ بھی سکھایا جا سکتا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہیے اور ہمت کرکے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر درج ذیل سوالات کیے جا سکتے ہیں
مصنف:یامنی وجیان برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو:محمد جاوید اقبال صدیقی
مدیر:محمد جاوید اقبال صدیقی
یہ کہانی ایک لڑکی چمپا کے متعلق ہے جسے گانا گانا پسند ہے ۔اس کا دوست اسے اسکول کے سالانہ جلسے میں گانے میں حصہ لینے کا مشورہ دیتا ہے مگر چمپا اسٹیج پر جانے سے بہت گھبراتی ہے وہ کس طرح اپنے ڈر پر قابو پاتی ہے اس کہانی میں بتایا گیا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔دوستی کےجذبے کو ابھارا جا سکتا ہے۔خوداعتمادی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔طلباء کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اردو قواعد سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
کہانی کی بنیاد پر درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
مصنف:بنوئے برمن برائے پرتھم اسٹوری ویور
کہانی گو:عائشہ طلعت
مدیر:عائشہ طلعت
یہ ایک دلچسپ اور تفریحی کہانی ہےجس میں ایک ایسے الو کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اپنی حکمتِ عملی سے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے طلباء میں حکمت و دانش مندی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو پروان چڑھا یا جا سکتا ہے۔طلباء میں تنقیدی و تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔طلباءکے ساتھ چند مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ان کے ساتھ اپنے اطراف میں یا روزمرہ زندگی سے جڑےکچھ حالات پر بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔طلباء میں حالات کا جائزہ لینے اور صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔کہانی میں موجود مشکل الفاظ یا نئے الفاظ سے متعارف کرایا جا سکتا ہے ۔
کہانی کی بنیاد پر درج ذیل سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔
From the publisher's feed