
Sign up to save your podcasts
Or


https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/manank-masnui-zehaanat-mkaudio.mp3
Recitation
مصنوعی زہانت – منن کمار
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سو ہوگی بس خاموشی
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جیکارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سو ہوگی
انساں کی ترقی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
۱۶
اک ساتھ اٹھو مٹھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
منن کمار (پیدائش: ۱۹۶۷)، دہلی۔ وہ ایک آزاد صحافی ہیں۔ اپنے والد کی وجہ سے، جو کہ ایک ٹریڈ یونینسٹ اور صحافی تھے، منن کمار چھوٹی عمر میں ہی ترقی پسند شاعری میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کے والد اکثر فیض، ساحر، مخدوم اور غالب کا کلام سنایا کرتے تھے۔ منن نے شاعری سے محبت اور سرمایہ دارانہ و صارفیت پسند معاشرے (capitalist and consumerist society) کے خلاف اپنے اندر دبے غصے کے اظہار کی خاطر اُردو سیکھی۔ اس نظم میں وہ مصنوعی ذہانت (AI) سے پیدا ہونے والے خوف اور انسانیت پر اس کے ممکنہ قبضے کے بارے میں بڑی فصاحت سے اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔
۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
وہ مستقبل جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں، اب بہت قریب آ چکا ہے۔
۲
جب بےبس یہ عالم ہوگا
نہ شاعر ہونگے بستی میں
نہ بزم کا ہوگا نام و نشاں
نہ محبوبہ نہ سرگوشی
ہر سُو ہوگی بس خاموشی
ایک ایسا وقت آئے گا جب انسانی جذبات اور محفلیں ختم ہو جائیں گی۔ نہ کوئی شاعری کرنے والا ہوگا اور نہ ہی انسانی تعلقات کی وہ گرمجوشی باقی رہے گی۔ ہر طرف ایک مشینی سناٹا ہوگا۔ اِس بدلتے ہوئے عالم کے آگے دنیا بے بس ہوگی۔
۳
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۴
نہ چٹخارے نہ جے کارے
نہ ٹھٹّھے ہی نہ کوئی نعرے
نہ رونق بھرے بازاروں کی
نہ ٹھیلے کوئی پکوانوں کے
نہ میلے کھیل کھلونوں کے
نہ محفل چھیل چھبیلوں کی
ہماری زندگی کی رونقیں، جیسے بھرے بازاروں کی چہل پہل، ٹھیلوں سے کھانے کی لذّت اور چٹخارے، قہقہے اور خوشی کے نعرے، گاؤں کے میلے اور کھلونے، بے فکر نوجوانی کی کھیل، سب مٹ جائیں گے۔ زندگی کی وہ زندہ دلی جو انسانی میل جول سے تھی، ختم ہو جائے گی۔
۵
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۶
نہ ہوگی گندم نہ سرسوں ہی
نہ پینگیں باغ بہاروں کی
نہ ہوگی پسینے کی خوشبو
نہ دہقاں کی نہ گیسو کی
نہ اُپلوں کی نہ ہنڈیا کی
قدرتی اور دیہاتی زندگی کی خوبصورتی ختم ہو جائے گی۔ نہ کھیت ہوں گے، نہ محنت کی خوشبو، نہ شرم سے بھیگے بالوں کی، اور نہ ہی وہ روایتی گھرانے جہاں مٹی کے چولہوں پر کھانا پکتا تھا۔
۷
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۸
محل کہیں کچھ تو ہونگے
بستی کی پہنچ سے دور بہت
کمخاب لباسوں میں لپٹے
خود کار مشینوں میں غافل
بے ذوق ہنسی میں لتھڑے ہوئے
کچھ بے حِس ہونگے مستی میں
امیر اور طاقتور لوگ بستیوں سے دور محلوں میں مشینوں کے سہارے ایک بے حِس زندگی گزاریں گے۔ ان کی ہنسی کھوکھلی ہوگی اور وہ انسانی دکھوں سے بے خبر اپنی ہی مصنوعی دنیا میں مگن ہوں گے۔
۹
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۰
بستی بستی ماتم ماتم
بھیگی سی صدائیں گونجیں گیں
جہاں آدم اور حوّا کے جنے
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے
غمگین ترانے لکّھیں گے
عام بستیوں میں صرف اداسی اور رونے کی آوازیں ہوں گی۔ آدم و حوّا کی اولاد اپنے گزرے ہوئے اچھے وقتوں کو یاد کر کے غمگین گیت لکھے گی۔
۱۱
وہ دنیا اب اور دور نہیں
۱۲
وہ دنیا ایسی کیوں ہوگی
کیا تُم نے کبھی کچھ سوچا ہے
شاعر سوال کرتا ہے کہ آخر دنیا اتنی بے روح اور سرد کیوں ہو جائے گی؟ کیا کبھی ہم نے اس کی وجہ پر غور کیا ہے؟
۱۳
مصنوعی ذہانت ہر سُو ہوگی
اِنساں کی ترقّی کے بل پر
قابض ہوگی وہ ہر شے پر
انسان کی بولی بولےگی
بےخوف وہ دھرتی گھومےگی
جب چاہے گی نازل ہوگی
اس سب کی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ یہ آِٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓنسانوں ہی کی ترقّی کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ ہر چیز پر قبضہ کر لے گی اور انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے پوری زمین پر راج کرے گی۔
۱۴
سلطنتِ رُوما کی طرح
آزاد سوچ کے باغی کو
تخلیق کے عمدہ نمونوں کو
وہ جانچیگی اور پرکھے گی
پھر بستی سے باہر لاکر
بیڑی باندھے لے جاےگی
جو بھی سرمایہ باقی ہے
اس کی تجارت کرنے کو
قدیم رومی سلطنت کی طرح، مصنوعی ذہانت آزاد خیال لوگوں اور فنکاروں پر پہرے بٹھائے گی، ان کی تخلیقات کو پرکھے گی اور پھر انسانیت کے مشرترکہ سرمائے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے گی۔
۱۵
کیا چاہتے ہو کہ ایسا ہو
جو نہ چاہو تو اس کے لئے
کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ایسا مستقبل آئے؟ اگر نہیں، تو ہمیں بچاؤ کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔
۱۶
اک ساتھ اُٹھو مُٹّھی باندھے
یکلخت اٹھو سینہ تانے
ہر ایک ادارے میں جا کر
مضبوط یہ اپنی بزم کرو
مصنوعی زہانت کو لے کر
اعلانِ مسلسل جہد کرو
شاعر اتحاد کی دعوت دیتا ہے کہ ہمیں مل کر اس مشینی غلبے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ہر ادارے میں جا کر اپنی انسانی محفلوں اور انجمنوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔
۱۷
کہہ دو کے ترقّی ممکن ہے
اس بات سے کچھ انکار نہیں
پر قیمت کیا ہوگی اِس کی
طے کرنا بھی تو لازم ہے
ہمیں ترقی سے انکار نہیں، لیکن اس مشینی ترقی کے بدلے ہم سے کیا کچھ چھین لیا جائے گا؟ اس قیمت کا فیصلہ کرنا اب ہم پر لازم ہے۔
۱۸
جس گام پے تم آ پہنچے ہو
تہذیب کے دم پر آیا ہے
اور اس سارے سرمائے میں
صدیوں کی ثقافت شامل ہے
مزدور کی انتھک محنت کا
اجداد کا حصّہ شامل ہے
کیا اس سچ سے ناواقف ہو
یہ موجودہ ترقی صدیوں کی انسانی تہذیب اور محنت کا نچوڑ ہے۔ اس میں ہمارے بزرگوں اور مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے انجان بن سکتے ہیں؟
मसनुई ज़ेहानत – मनन कुमार
१
२
जब बेबस ये आलम होगा
ना शा’एर होंगे बस्ती में
ना बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
ना मेहबूबा, ना सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया, क्यूं ऐसी होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
१५
क्या चाहते हो, के ऐसा हो ?
जो ना चाहो तो उसके लिए
१६
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
मनन कुमार (जन्म: १९६७), दिल्ली, एक स्वतंत्र पत्रकार हैं। अपने पिता के कारण, जो एक ट्रेड यूनियनवादी (trade unionist) और पत्रकार थे, मनन कुमार कम उम्र में ही प्रगतिशील शा’एरी में रुचि लेने लगे। उनके पिता अक्सर फ़ैज़, साहिर, मख़्दूम और ग़ालिब की रचनाएँ सुनाया करते थे। मनन ने शा’एरी के प्रति अपने प्रेम और पूंजीवादी ओ उपभोक्तावादी समाज के ख़िलाफ अपने दबे ग़ुस्से को प्रकाशित करने के लिये उर्दू सीखी। यहाँ वे ‘आर्टिफ़िश्यल इंटेलिजेंस’ (AI) से उत्पन्न होने वाले डर और मानवता पर इसके संभावित नियंत्रण के बारे में बड़े जोश से अपने विचार व्यक्त कर रहे हैं।
१
वो दुनिया अब और दूर नहीं
वो भविष्य जिसका हम ज़िक्र कर रहे हैं, अब बहुत क़रीब आ चुका है।
२
जब बेबस ये आलम होगा
न शा’एर होंगे बस्ती में
न बज़्म का होगा नाम-ओ-निशां
न महबूबा न सरगोशी
हर सू होगी बस ख़ामोशी
एक ऐसा वक़्त आएगा जब इंसानी जज़्बात और महफ़िलें ख़त्म हो जाएंगी। न कोई शा’एरी करने वाला होगा और न प्यार का सरगोशियां, न ही इंसानी ताल्लुक़ात की वो गर्मजोशी बाक़ी रहेगी। हर तरफ़ एक मशीनी सन्नाटा होगा।
३
वो दुनिया अब और दूर नहीं
४
ना चटख़ारे, न जयकारे
ना ठट्ठे ही, ना कोई ना’रे
ना रौनक़ भरे बाज़ारों की
ना ठेले कोई पकवानों के
ना मेले खेल खिलौनों के
ना महफ़िल छैल छबीलों की
हमारी ज़िंदगी की रौनकें, जैसे बाज़ारों की चहल पहल, ठेले के लज़ीज़ खानौं के चटख़ारे, मेलौं की रंग रलियां, क़हक़हे और ख़ुशी के ना’रे, सब मिट जाएंगे। ज़िंदगी की वो ज़िंदादिली जो इंसानी मेल-जोल से थी, ख़त्म हो जाएगी।
५
वो दुनिया अब और दूर नहीं
६
ना होगी गंदुम, ना सरसों ही
ना पेंगें बाग़ बहारों की
ना होगी पसीने की ख़ुशबू
ना दहक़ां की, ना गेसू की
ना उपलों की, ना हंडिया की
क़ुदरती और देहाती ज़िंदगी की ख़ूबसूरती ख़त्म हो जाएगी। न खेत होंगे, न मेहनत की ख़ुशबू, और न ही वो रिवायती घराने जहां मिट्टी के चूल्हों पर खाना पकता था।
७
वो दुनिया अब और दूर नहीं
८
महल कहीं कुछ तो होंगे
अमीर और ताक़तवर लोग बस्तियों से दूर महलों में मशीनों के सहारे एक बे-हिस (insensitive) ज़िंदगी गुज़ारेंगे। उनकी हंसी खोखली होगी और वो इंसानी दुखों से बेख़बर अपनी ही मसनूई (artificial) दुनिया में मगन होंगे।
९
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१०
बस्ती बस्ती मातम मातम
भीगी सी सदाएं गूंजेंगी
जहां आदम और हव्वा के जने
माज़ी का हवाला देते हुए
ग़मगीन तराने लिक्खेंगे
आम बस्तियों में सिर्फ़ उदासी और रोने की आवाज़ें होंगी। इंसान अपने गुज़रे हुए अच्छे वक़्तौं को याद कर के ग़मगीन गीत लिखेंगे।
११
वो दुनिया अब और दूर नहीं
१२
वो दुनिया ऐसी क्यूं होगी
क्या तुमने कभी कुछ सोचा है
शा’एर सवाल करता है के आख़िर दुनिया इतनी बे-रूह और सर्द क्यों हो जाएगी? क्या कभी हमने इसकी वजह पर ग़ौर किया है?
१३
मसनुई ज़ेहानत हर सू होगी
इंसां की तरक़्क़ी के बल पर
क़ाबिज़ होगी वो हर शै पर
इंसान की बोली बोलेगी
बेख़ौफ़ वो धरती घूमेगी
जब चाहेगी नाज़िल होगी
इस की वजह मसनूई ज़हानत (AI) है। ये इंसानों ही की तरक़्क़ी का नतीजा है लेकिन अब ये हर चीज़ पर क़ब्ज़ा कर लेगी और इंसानों की तरह बात करते हुए पूरी ज़मीन पर राज करेगी।
१४
सल्तनत-ए-रूमा की तरह
आज़ाद सोच के बाग़ी को
तख़्लीक़ के उम्दा नमूनों को
वो जांचेगी और पकड़ेगी
फिर बस्ती से बाहर ला कर
बेड़ी बांधे ले जाएगी
जो भी सरमाया बाक़ी है
उस सबकी तिजारत करने को
प्राचीन रोमन साम्राज्य की तरह, ए-आई (AI) आज़ाद ख़याल लोगों और कलाकारों पर पहरे बिठाएगी, उनकी रचनाओं को परखेगी और फिर इंसानियत के सांस्कृतिक सरमाए (heritage) को अपने फ़ाएदे के लिये इस्तेमाल करेगी।
१५
क्या चाहते हो के ऐसा हो
जो न चाहो तो इस के लिए
क्या हम वाक़’ई चाहते हैं के ऐसा भविष्य आए? अगर नहीं, तो हमें बचाव के लिए कुछ करना होगा।
१६
एक साथ उठो मुठ्ठी बांधे
यकलख़्त उठो सीना ताने
हर एक इदारे में जा कर
मज़्बूत ये अपनी बज़्म करो
मसनुई ज़ेहानत को लेकर
ए’लान-ए मुसलसल जहद करो
शा’एर एकता की दावत देता है के हमें मिल कर इस मशीनी ग़लबे के ख़िलाफ़ आवाज़ उठानी चाहिये और हर इदारे (institution) में जा कर अपनी इंसानी महफ़िलों और अंजुमनों को मज़बूत करना चाहिये।
१७
कह दो के तरक़्क़ी मुमकिन है
इस बात से कुछ इन्कार नहीं
पर क़ीमत क्या होगी उस की
तय करना भी तो लाज़िम है
हमें तरक़्क़ी से इंकार नहीं, लेकिन इस मशीनी तरक़्क़ी के बदले हमसे क्या कुछ छीन लिया जाएगा? इस क़ीमत का फ़ौसला करना अब हम पर लाज़िम है।
१८
जिस गाम पे तुम आ पहुंचे हो
तहज़ीब के दम पर आया है
और इस सारे सरमाए में
सदियों की सक़ाफ़त शामिल है
मज़्दूर की अनथक मेहनत का
अज्दाद का हिस्सा शामिल है
क्या इस सच से नावाकिफ़ हो?
ये मौजूदा तरक़्क़ी सदियों की इंसानी तहज़ीब और मेहनत का निचोड़ है। इसमें हमारे पूर्वजों और मज़्दूरों का ख़ून-पसीना शामिल है। क्या हम इस हक़ीक़त से अनजान बन सकते हैं?
masnui zehaanat – manan kumar
manan kumar (1967 – living), dehli. An independent journalist, became interested in progressive shaa’eri at a young age because of his trade unionist and journalist father who often recited faiz, saahir, maKhdoom, and Ghalib. Learned basic urdu for the love of shaa’eri and the desire to express build up angst against the value system of the capitalist and consumerist society. Here he expresses himself eloquently about the fears generated by AI and its possible control of humanity.
That world is no longer far away.
When the world will stand helpless; no poets left among us; no trace of social gatherings; no human contact. No beloved, no whispered secrets; only silence, echoing everywhere.
That world is no longer far away.
No savory tastes, no joyous cries; no bursts of laughter, no slogans raised; no splendour of bustling markets; no street-carts with spicy delights; no village fairs of fun and play, of handmade toys; no gatherings of the young and the bold.
That world is no longer far away.
There will be no fields of wheat, nor mustard gold; no garden swings celebrating spring; the sweet scent of the sweat of hard labour dripping from the farmer’s brow; no sweat of passion from the beloved’s locks. No smell of dung-fires, nor the earthen pot.
That world is no longer far away.
There are mansions over there somewhere, far beyond the reach of the common folk, where wrapped in velvet and brocaded robes, oblivious amidst automated machines, wallowing in a joyless, hollow mirth, a few heartless/insensitive souls lost in induced trance.
That world is no longer far away.
Mourful cries from every neighbourhood, echoeing with tearful cries start to ring, where the children of Adam and Eve, citing tales of a vanished past, will write their songs of deepest grief.
That world is no longer far away.
Why does the world have to be so cold and strange? Have you ever paused to wonder why?
Artificial Intelligence will be all around us; built on the foundations of the rising strength of human progress, seizing everything in its grip, speaking with a human tongue, roaming the earth without fear, descending wherever and whenever it chooses to strike.
Like the Empire of ancient Rome, it will take free thinkers and rebels, And the finest models of creativity; it will judge them, it will test them; then drag them out beyond the gates, bound in chains, taken away, to trade whatever wealth remains.
Do you truly wish for this to be? If not, then for the sake of preservation …
… rise up together with clenched fists; rise all at once shoulders squared, heads held high. Go into every institution, making your associations strong and firm. Confronting this “Artificial Intelligence”
Say that “progress” is possible, of this, there is no denial. But what price must be paid for it? That, too, must be decided now.
The path you have taken, the place you have arrived, was reached with the labour of past civilizations; and in all of this accumulated wealth, centuries of culture are woven in. The tireless toil of the worker, the legacy of our ancestors too. Are you truly unaware of this truth?
The post masnui zehaanat-manan kumar appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/yych-Khabt-e-mazhab-kya-audio.mp3
Recitation
خبطِ مذہب کیا ۔ مرزا واجد حسین یاسؔ یگانہؔ چنگیزی
۱
سب تیرے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انساں کا ایسا خبطِ مذہب کیا
۲
اک اشارۂ فردا ایک جنبش لب کیا
دیکھئے دکھاتا ہے وعدۂ مُذبذب کیا
۳
چُلُّو بھر میں متوالی دو ہی گُھونٹ میں خالی
یہ بھری جوانی کیا جذبۂ لبالب کیا
۴
ہاں دعائیں لیتا جا گالیاں بھی دیتا جا
تازگی تو کچھ پہنچے چابتا رہوں لب کیا
۵
شامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتی
راستی کا پھل پاتا بندۂ مُقرّب کیا
۶
اُلٹی سیدھی سُنتا رہ اپنی کہہ تو اُلٹی کہہ
سادہ ہے تُو کیا جانے بھانپنے کا ہے ڈھب کیا
۷
سب جہاد ہیں دل کے سب فساد ہیں دل کے
بے دلوں کا مطلب کیا اور ترک مطلب کیا
۸
ہو رہے گا سجدہ بھی جب کسی کی یاد آئی
یاد جانے کب آئے زندہ داریِ شب کیا
۹
آندھیاں رکیں کیوںکر زلزلے تھمیں کیوںکر
کارگاہ فطرت میں پاسبانیِ رب کیا
۱۰
کار مرگ کے دن کا تھوڑی دیر کا جھگڑا
دیکھنا ہے یہ ناداں جینے کا ہے کرتب کیا
۱۱
پڑ چکے بہت پالے ڈس چکے بہت کالے
موذیوں کے موذی کو فکرِ نیشِ عقرب کیا
۱۲
میرزا یگانہؔ واہ زندہ باد زندہ باد
اک بلائے بے درماں کیا تھے تم اور اب کیا
مرزا واجد حسین یاسؔ یگانہؔ چنگیزی (۱۸۸۴۔۱۹۵۶) عظیم آباد/پٹنا میں پیدا ہوئے۔ شروع میں اپنا تخلص یاسؔ کیا کرتے تھے اور بعد میں یگاناؔ کے تخلص سے شعر کہتے تھے۔ ان کو خود پسند، ضِدّی، ہٹ دھرم اور بد مزاج سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے شعراء سے مانوسیت نہ تھی۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو غالب کے نقّاد کی حیثیت میں ڈھال لیا اور ایک کتابچہ غالب کی تنقید میں لکھا۔ کچھ دن اُمرا کے بچوں کو تعلیم دے کر زندگی گزاری، کچھ دن کلکتّہ میں بھی یہی کام کیا، لیکن جلد ہی لکھنؤ آ گئے اور کچھ مدرسوں میں، رسالوں کے لئے اور سرکاری نوکرییاں کیں۔ لاہور میں بھی کوشش کی اور کچھ رِسالے بھی جاری کئے جو زیادہ نہ چل سکے۔ پھر حیدرآباد میں سرکاری وسطی دفتری نوکری کرتے رہے (۱۹۲۸۔۱۹۴۲)۔ وہاں سے وظیفہ (۱۵ روپئے ماہانہ) لے کر لکھنو میں قیام کیا۔ مالی تنگی برداشت کرتے رہے۔ ۱۹۴۸ میں جوش ملیح آبادی کی سفارش پر ہکومتِ ہند سے ۱۰۰ روپئے ماہانہ اِجرا کئے گئے جو آخر تک ملتے رہے۔ کسی دوست کو چٹھی میں مذہبی حُجّتی، مُباحَثہ طَلَب باتیں لکھیں۔ اُن کے دوست نے فاش کر دیا اور ان کی چِٹھی شائع کر دی۔ اُن کے گھر کے باہر ایک مجمع جمع ہو گیا اور اُن کو پکڑ کر گدھے پہ بٹھا کر منہ کالا کر کے شہر کی گلیوں میں پھرایا گیا۔ انہوں نے اپنی صاف گوئی ہمیشہ برقرار رکھی۔
۱
سب تیرے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انساں کا ایسا خبطِ۱ مذہب کیا
۱۔سنک، پاگل پن
یہ ایسے عقائد پر جو دوسروں کو خارج کر دیتے ہیں، بڑی سخت تنقید ہے – اگر ‘آپ’ کے سِوا ہر شخص کو کافر قرار دے دیا جائے (جس سے قطع تعلق کرنا ہو)، تو اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ یہ وہ ‘خبط’ ہے، یعنی ایک ایسا جنون یا خبطِ باطن جو اِنسان کو پاگل کر دیتا ہے، سر پھرا دیتا ہے، پندار میں مبتلا کرتا ہے- یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مذہب نے روشن خیالی بخشنے کے بجائے لوگوں کو دیوانہ بنا دیا ہے۔ محمد اقبال نے کہا ہے ۔۔۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر کرنا
یہ مِصرع اُسی سِکّے کا دوسرا رُخ پیش کرتا ہے۔
۲
اک اشارۂ فردا۱ ایک جنبش۲ لب کیا
دیکھئے دکھاتا ہے وعدۂ مُذبذب۳ کیا
۱۔کل، آنے والا وقت، آخرت ۲۔حرکت، ہلنا ۳۔جس پر شک ہو، مشتبہ، غیر یقینی، مشکوک، ڈانوا ڈول
یہ شعر مذہبی وعدوں کے غیر یقینی دعوے/پیچیدہ خیالات/دو معانی الفاظ کا مذاق اُڑاتا ہے- ‘فردا’ (آخرت) کا محض ایک اشارہ، لبوں کی ایک ہلکی سی جنبش (کھوکھلے الفاظ) – اس میں حقیقت کیا ہے؟ یہ ‘وعدۂ مُذبذب’ اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح عقیدہ اکثر ٹھوس سچائی کے بجائے اِبہام، التوا (ملتوی کیا ہوا) اور ادھورے وعدوں پر قائم رہتا ہے۔
۳
چُلُّو۱ بھر میں متوالی۲ دو ہی گُھونٹ میں خالی
یہ بھری جوانی کیا جذبۂ۳ لبالب کیا
۱۔ہتھیلی کا پیالہ ۲۔نشہ چڑھانے والی ۳۔جوش
اگرچہ بظاہر یہاں ‘جوانی’ اور اُس کی بے ثباتی کا ذکر ہے، لیکن دوسرے اشعار کے تسلسُل کو دیکھا جائے تو اس ‘جوانی’ سے مُراد جنّت میں ملنے والی وہ ابدی جوانی ہو سکتی ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ گویا آپ کو لب بھر (چُلُّو بھر) مے پلائی گئی جو دو گھونٹ میں ختم ہو گئی۔ پھر اس موہوم (فرضی) جوانی پر اتنا جوش و خروش اور جنون کیوں؟
۴
ہاں دعائیں لیتا جا گالیاں بھی دیتا جا
تازگی۱ تو کچھ پہنچے چابتا۲ رہوں لب کیا
۱۔نیا پن، نئی سوچ ۲۔ہونٹ چاب کر خاموش رہنا
یہ ایک ‘واعظ’ (مذہبی مُبلّغ) سے مخاطب ہو سکتا ہے، کہ میری دعائیں لیتے رہو اور اپنی بددعائیں اور جہنم کی آگ اور عذاب کی دھمکیاں بانٹتے رہو۔ آخر میں کب تک اپنے ہونٹ چبائے، لب سئے رہوں (خاموش رہوں)؟ اب مجھے کچھ نئے موضوعات کی ضرورت ہے۔
۵
شامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتی۱
راستی۲ کا پھل پاتا بندۂ مُقرّب۳ کیا
۱۔خدا جیسی، خدا کا کہا ۲۔سیدھا/سچّا راستہ ۳۔جو قریب ہے
واعظ کے خلاف طنز جاری ہے – یہ تو ایک آفت ہے، ایک مصیبت ہے، کہ وہ (واعظ) ’خدائی لہجے‘ میں کلام کرتا ہے… گویا اُسے خدا کی طرف سے سند ملی ہو، تقریر کی اِجازت ملی ہو۔ ایسی گفتگو کے سامنے ایک سچّا بندہ جو خدا سے قریب ہونا چاہتا ہے، سیدھی راہ پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ یعنی واعظ ایسی رسمی اور بے معنی باتیں کرتا ہے جن کا سچائی یا نیکی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
۶
اُلٹی سیدھی سنتا رہ اپنی کہہ تو اُلٹی کہہ
سادہ۱ ہے تُو کیا جانے بھانپنے۲ کا ہے ڈھب۳ کیا
۱۔سیدھا، بھولا ۲۔گہری/چھپی بات سمجھ لینا ۳۔طریقہ، ڈھنگ، ترکیب
یگانہ اب ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو اندھی تقلید (اندھے اعتقاد) کے قائل ہیں، خود سوچتے نہیں۔ وہ مُسلسِل بے ربط (incoherent) اور متضاد (self-contradictory) باتیں سنتے رہتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ خود بولتے ہیں، تو اسی بے معنی گفتگو کو دہراتے ہیں۔ تم تو ایک سادہ لوح انسان ہو، تمہیں اِن تضادات اور بے ربط باتوں میں سے سچائی کو ’بھانپنے کا ڈھب‘، پہچاننے کا طریقہ کیسے معلوم ہوگا؟
۷
سب جہاد۱ ہیں دل کے سب فساد۲ ہیں دل کے
بے دلوں۳ کا مطلب کیا اور ترکِ مطلب کیا
۱۔جد و جہد، کوشِش ۲۔آفت، شرارت، شر ۳۔غیر دلچسپی، لاپرواہی
یگانہ جس طرح اہم الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، اُنہیں ذرا گہرائی میں جا کر سمجھنا زیادہ بہتر ہے۔ یہاں ‘دل’ کا مطلب صرف جذبات یا ایمان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ‘اپنی ذمہ داری’ ہے۔ یعنی خود سے سوچنا، باتوں کے مطلب کو گہرائی سے سمجھنا اور غلطی کا خطرہ مول لینے کی ہمت رکھنا۔ یہ انسان کے اندر کی اس کشمکش اور سوچ بچار کو ظاہر کرتا ہے جس سے ایک طرف تو سچائی نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف غلط فہمی یا بھٹک جانے کا ڈر بھی رہتا ہے۔ یہاں ‘بے دل’ ہونے کا مطلب ہے وہ لاپرواہی جہاں انسان سوچنا سمجھنا ہی چھوڑ دے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ جب انسان عقل استعمال ہی نہ کرے، تو پھر کسی بات کا مطلب ہونے یا نہ ہونے میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ جو ذہن سوچتا ہی نہیں، اس کے لیے تو سب برابر ہے۔
۸
ہو رہے گا سجدہ بھی جب کسی کی یاد آئی
یاد جانے کب آئے زندہ داریِ شب۱ کیا
۱۔رات بھر جاگ کر عبادت کرنا
میں دو تشریحات پیش کرتا ہوں، ایک نرم اور دوسری مُباحَثَہ خیز (controversial)۔ نرم تشریح میں ‘ہو رہے گا’ کا مطلب ‘ہو کر رہے گا’ لیا گیا ہے، لازمی ہو گا۔ یعنی جب بھی یادِ الٰہی آئے گی، سجدہ خود بخود ہو جائے گا، یا یاد خود سجدہ ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ یہ یاد کب آ جائے، تو پھر رات بھر جاگنے جیسی رسمی عبادتوں کی کیا ضرورت؟ دوسری مُباحَثَہ خیز تشریح میں ‘ہو رہے گا’ کو ایک بیزار کُن ‘ہونے دو، کسے پرواہ ہے’ کے طور پر پڑھا گیا ہے۔ یہ لہجہ سجدے کو سرے سے رد/نامنظور کر دیتا ہے، کیونکہ ‘یاد جانے کب آئے’ ایک طنزیہ جملہ بھی ہو سکتا ہے کہ ‘شاید یاد آئے یا نہ آئے۔’ اس طرح، سجدہ اور زندہ داریِ شب، دونوں ایک ہی ساتھ رد کئے جاتے ہیں۔
۹
آندھیاں رکیں کیوںکر زلزلے تھمیں کیوںکر
کارگاہ۱ فطرت میں پاسبانیِ۲ رب کیا
۱۔کارخانہ ۲۔نگہ بانی، اِنتظام
فطرت اور اس کے آفات و کرامات خدائی مداخلت سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ قدرت کے اس کارخانے میں طوفان اور زلزلے خدائی نگہبانی سے نہیں رُکتے۔ محتاط تشریح میں یہ ایک ’غیر مداخلت کار‘ خدا کا تصوُّر پیش کرتا ہے: یعنی خدا فطرت کے خود مختار عمل میں مداخلت نہیں کرتا، جس کی وجہ سے قدرتی قوتوں کے سامنے دعا، خوف اور گریہ و زاری بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس کی زیادہ مُباحَثَہ خیز تشریح اس سے بھی آگے جاتی ہے۔ یہاں خدائی نگہبانی کا تصوُّر ہی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ قدرت کا کارخانہ مکمل طور پر اپنے اُصولوں پر چلتا ہے، اور ایک نگراں خدا کا تصوُّر فکری طور پر غیر ضروری (redundant) ہو جاتا ہے۔ طوفان برپا ہوتے ہیں اور زلزلے آتے ہیں، مگر اُن کا خدائی نگرانی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ خدا کے وجود کے خلاف دلیل نہیں ہے، بلکہ فطرت کے معاملات میں خدا کو کسی بھی وضاحتی یا اخلاقی کردار دینے سے انکار ہے۔
۱۰
کارِ مرگ کے دن کا تھوڑی دیر کا جھگڑا
دیکھنا ہے یہ ناداں جینے کا ہے کرتب۱ کیا
۱۔طریقہ، ہنر، قابلیت
پہلے مصرع کے پہلے حصے کو ایک سوالیہ انداز میں پڑھا جا سکتا ہے کہ… موت کا یہ کھیل آخر کتنے دن/کتنی دیر چلے گا؟ زندگی کے وقفہ کے مقابلہ میں مرنے کے عمل کا وقت تھوڑا ہوتا ہے، زیادہ نہیں، یہ تو بس ایک مختصر سی کشمکش ہے۔ یہاں آخرت کے جنون پر ایک پوشیدہ سوال اُٹھایا گیا ہے۔ اے سادہ لوح، اصل غور طلب بات تو ‘جینے کا ہنر’ ہے۔ جیسا کہ میں نے اسی سائٹ پر دوسری جگہ “وادخلی جنتی” نظم میں لکھا ہے ۔۔۔
ظن و قیاس و خوف کہ مر جاؤں تو کیا ہوگا
“بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا”
جی لے جو چار دن ہی، تو کیا کچھ نہیں ہوگا
۱۱
پڑ چکے بہت پالے۱ ڈس چکے بہت کالے۲
موذیوں۳ کے موذی کو فکرِ نیشِ۴ عقرب۵ کیا
۱۔پالے پڑنا=آفت آنا، جال میں پھنسنا ۲۔کالے بِچّھو سے مُراد ہے ۳۔اذیّت دینے والا ۴۔ڈنک ۵۔بِچّھو
ہم پہلے بھی کئی بار جال میں پھنس چکے ہیں، ہمیں سیاہ بچھوؤں نے ڈسا ہے۔ پھر بھلا ‘عذاب دینے والوں کو جو عذاب میں ڈال سکتا ہے’ اُس کو بِچّھو کے ڈنک کی فِکر کیوں ہو؟ بچھو کا ڈنک دراصل واعظ کی جہنم کی آگ اور عذاب کی دھمکیاں ہو سکتی ہیں یا واعظ/فقیہ کا یگانہ کے خیالت کی تنقید کرنا۔ شاعر نے واعظ کو، مُبلّغ کو، فتوہ دینے والوں کو موذی قرار دیا ہے کیوںکہ وہ سب پر عذاب ڈھاتے ہیں۔ اپنے آپ کو ‘موذیوں کے موذی’ قرار دیا ہے کیونکہ یہ جو کہتے ہیں واعظ کے لئے عذاب ہے۔ کہتے ہیں مجھے اِن موذیوں کی نیش کی، اِن کی تنقید کی کوئی فِکر نہیں ہے۔
۱۲
میرزا یگانہؔ واہ زندہ باد زندہ باد
اک بلائے بے درماں۱ کیا تھے تم اور اب کیا
۱۔بے دوا، لا علاج
مقطع عِجز و اِنکساری کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس میں چُھپا ہوا طنز صاف نظر آتا ہے۔ ’واہ مرزا یگانہ، کیا کہنے، جیتے رہو!‘ کی مبالغہ آمیز داد دے کر شاعر اپنا اور ستائش کی اِس روایتی تہذیب، دونوں کا مذاق اُڑاتا ہے۔ خود کو ایک ’لاعلاج آزار‘ کہہ کر وہ اُسی خطاب کو اپنا لیتا ہے جو مذہب، معاشرہ اور قدامت پسند طبقہ اُسے دیتا رہا ہے۔ وہ شرمندہ نہیں بلکہ باغی ہے۔ آخری جملہ، کہ ’تم پہلے کیا تھے اور اب کیا ہو گئے ہو‘، کسی زوال کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک ایسی شعوری تبدیلی کا اظہار ہے جس نے اسے اشتعال انگیز اور فتنہ پرور بنا دیا ہے ۔ ایک ایسا شخص جسے اب نہ تو سنبھالا جا سکتا ہے، نہ ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
ख़ब्त-ए मज़्हब क्या – मिर्ज़ा वाजेद हुसैन यास यगाना चंगेज़ी
१
सब तेरे सिवा काफ़िर आख़िर इस का मतलब क्या
सर फिरा दे इंसाँ का ऐसा ख़ब्त-ए मज़्हब क्या
२
एक इशारा-ए फ़र्दा एक जुम्बिश-ए लब क्या
देखिये दिखाता है वा’दा-ए मुज़ब्ज़ब क्या
३
चुल्लू-भर में मतवाली दो ही घूँट में ख़ाली
ये भरी जवानी क्या जज़्बा-ए लबालब क्या
४
हाँ दुआएँ लेता जा गालियाँ भी देता जा
ताज़गी तो कुछ पहुँचे चाबता रहूँ लब क्या
५
शामत आ गई आख़िर कह गया ख़ुदा-लगती
रास्ती का फल पाता बंदा-ए मुक़र्रब क्या
६
उल्टी-सीधी सुनता रह अपनी कह तो उल्टी कह
सादा है तू क्या जाने भाँपने का है ढब क्या
७
सब जिहाद हैं दिल के सब फ़साद हैं दिल के
बे-दिलों का मतलब क्या और तर्क-ए मतलब क्या
८
हो रहेगा सज्दा भी जब किसी की याद आई
याद जाने कब आए ज़िंदा-दारी-ए शब क्या
९
आँधियाँ रुकें क्यूँकर ज़लज़ले थमें क्यूँकर
कार-गाह-ए फ़ितरत में पासबानी-ए रब क्या
१०
कार-ए मर्ग कै दिन का थोड़ी देर का झगड़ा
देखना है ये नादाँ जीने का है कर्तब क्या
११
पड़ चुके बहुत पाले डस चुके बहुत काले
मूज़ियों के मूज़ी को फ़िक्र-ए नीश-ए अक़्रब क्या
१२
मीरज़ा ‘यगाना’ वाह ज़िंदाबाद ज़िंदाबाद
इक बला-ए बे-दरमाँ क्या थे तुम और अब क्या
मिर्ज़ा वाजेद हुसैन यस यागना चंगेज़ी (१८८४-१९५६) अज़ीमआबाद/पटना में पैदा हुए। शुरू में अपना तख़ल्लुस यास किया करते थे और बाद में यगाना के तख़ल्लुस से शे’र कहते थे। इन को ख़ुद पसंद, ज़िद्दी, हट धर्मी और बद-मिज़ाज समझा जाता था। दूसरे शो’अरा से दोस्ती ज़्यादा नहीं थी। इन्होंने अपने आप को ग़ालिब के आलोचक/critic की हैसियत में ढाल लिया और एक छोटी किताब ग़ालिब की आलोचना लिखी। कुछ दिन अमीर लोगों के बच्चों को पढ़ा कर ज़िंदगी गुज़ारी, यही काम कल्कत्ते में किया लैकिन जल्द ही लखनऊ आ गये। स्कूल में, रिसाले की औत सरकारी नौकरिया करते रहे। लाहोर में भी कोशिश की। फिर हैदराबाद (१९२८-१९४२) में सरकारी दफ़्तरी नौकरी करते रहे। वहां से वज़ीफ़ा (१५ रुपये माहाना) लेकर लखनऊ में रहने लगे। माली तंगी सहन करते रहे। १९४८ से जोश मलीहाबादी का फ़रमा’एश पर हिन्दुस्तानी सरकार से १०० रूपये माहाना मिलता रहा। किसी दोस्त को चिट्ठी में आपत्तिजनक मज़्हबी/धार्मिक बातें लिखीं। उनके दोस्त ने उनकी चिट्ठी छपवा दी। उन के घर के बाहर एक मज्मा जमा’ हुआ और उन को पकड़ कर गधे पर बिठा दिया गया, मुंह काला करके शहर की गलियों में फिराया गया। उन्होंने अपनी साफ़-गोई हमेशा बरक़रार रखी।
१
सब तेरे सिवा१ काफ़िर२ आख़िर इस का मतलब क्या
सर फिरा३ दे इंसाँ का ऐसा ख़ब्त४-ए मज़्हब क्या
१-तुझे छोढ कर २-दूसरे मज़्हब का अधर्मी ३-अभिमानी ४-पागल-पन
ये दूसरे धार्मिक विश्वास को ग़लत/कुफ़्र कहने की एक तीखी आलोचना (criticism) है – अगर ‘आपके’ अलावा हर किसी को काफ़ेर या अधर्मी घोषित कर दिया जाए (और जिस को दूर रक्खा जाए), तो इस का वास्तव में क्या अर्थ है? ये वो ‘ख़ब्त है – एक ऐसा पागलपन या सनक है जो इंसान को मदहोश कर देती है। इशारा है के धर्म ने इंसान को राह दिखाने के बजाए पागल कर दिया है। मोहम्मद एक़्बाल ने कहा है —
मज़्हब नहीं सिखाता आपस में बैर रखना
यह उसी सिक्के का दूसरा पहलू पेश करता है।
२
एक इशारा१-ए फ़र्दा२ एक जुम्बिश३-ए लब४ क्या
देखिये दिखाता है वा’दा-ए मुज़ब्ज़ब५ क्या
१-संकेत २-आने वाला युग ३-हिलाना ४-होंट ५-अस्पष्ट, ढीला-ढाला
ये शे’र धार्मिक वादों के धुंधलेपन का मज़ाक़ उड़ाता है – ‘फ़र्दा’ (परलोक/कल) का सिर्फ़ एक इशारा, होठों की एक हल्की सी हरकत (खोखले शब्द) – इसमें अस्लियत क्या है? ये ‘वादा-ए मुज़बज़ब’ (डगमगाता हुआ वादा) इस बात को उजागर करता है के कैसे आस्था अक्सर ठोस सच्चाई के बजाए अस्पष्टता, टाल-मटोल और आधे-अधूरे आश्वासनों, मन बहलाने पर टिकी है।
३
चुल्लू१-भर में मतवाली२ दो ही घूँट में ख़ाली
ये भरी जवानी क्या जज़्बा३-ए लबालब४ क्या
१-हथेली का प्याला २-नशा चढ़ाने वाली ३-जुनून ४-भरपूर
हालाँके ये देखने में ‘जवानी’ और उसके अस्थाई (transitory) होने की बात लगती है, लेकिन अन्य शे’रों के बहाव को देखें तो इस जवानी का प्रतीकात्मक अर्थ (figurative meaning) स्वर्ग में मिलने वाली वो ‘अमर जवानी’ हो सकता है जिसका वादा किया गया है। मानो आपको हथेली भर शराब दी गई जो दो घूँट में ही ख़त्म हो गई। फिर इस वादे वाली अनिश्चित जवानी पर इतना जुनून और पागलपन क्यूं?
४
हाँ दुआएँ लेता जा गालियाँ भी देता जा
ताज़गी१ तो कुछ पहुँचे चाबता२ रहूँ लब क्या
१-नया विषय २-होंट दबा कर बैठना, कुछ न बोलना
इसे एक कट्टर उपदेशक (वा’एज़) को संबोधित किया गया है – के तुम मेरी दुआएँ लेते रहो और बदले में अपनी बददुआएँ और नर्क की आग और अज़ाब की धमकियाँ देते रहो। आख़िर कब तक मैं अपने होंठ काटूँ (ख़ामोश रहूँ)? अब मुझे कुछ नये विषयों/ख़यालात की ज़रूरत है, तुम्हारी बातें पुरानी हो गईं हैं।
५
शामत१ आ गई आख़िर कह गया ख़ुदा-लगती२
रास्ती३ का फल पाता बंदा४-ए मुक़र्रब५ क्या
१-आफ़त, मुसीबत २-ख़ुदा जैसी, बहाना के ख़ुदा की बात है ३-सीधा रास्ता, सही चलन ४-भक्त ५-ख़ुदा के नज़्दीक/क़रीब
कट्टर उपदेशक (वा’एज़) के ख़िलाफ़ बात जारी है – ये तो एक आफ़त है, एक मुसीबत है, के वो (वा’एज़) ‘ईश्वरीय शब्दों’ में बात करता है… जैसे उसे ख़ुद ख़ुदा से अधिकार मिला हो। ऐसी बातों के सामने एक भक्त या बंदा, जो ख़ुदा के क़रीब है, सीधे रास्ते पर कैसे रह सकता है? मतलब ये के वा’एज़ ऐसी रस्मी और बेकार बातें करता है जिनका सच्चाई या नेकी से कोई लेना-देना/संबंध नहीं है।
६
उल्टी-सीधी सुनता रह अपनी कह तो उल्टी कह
सादा१ है तू क्या जाने भाँपने२ का है ढब३ क्या
१-भोला भाला २-गूढ़ बात समझना ३-तरीक़ा, तर्कीब
यगाना अब उन लोगों की ओर मुड़ते हैं जो अंध-विश्वास या अंधी तक़्लीद के शिकार हैं। वे लगातार बेतुकी और विरोधाभासी बातें सुनते रहते हैं और नतीजा ये होता है के जब वो ख़ुद बोलते हैं, तो वही बक्वास दोहराते हैं। तुम तो एक भाले-भाले इंसान हो, तुम्हें इन विरोधाभासों और उलझी हुई बातों के बीच से सच्चाई को ‘भांपने का ढब’ (परखने का तरीक़ा) कैसे पता होगा?
७
सब जिहाद१ हैं दिल के सब फ़साद२ हैं दिल के
बे-दिलों३ का मतलब क्या और तर्क४-ए मतलब क्या
१-जद्द ओ जहद, मुसल्सिल कोशिश २-आफ़त, झूट ३-ऊब जाना, दिल्चस्पी न लेना ४-अलग करना, छोढ देना
मुख्य शब्दों का विस्तार से अर्थ निकालना बेहतर है, जिस तरह यगाना उनका उपयोग करते हैं। यहाँ ‘दिल’ भावनाओं या आस्था का केंद्र नहीं है, बल्के ‘आंतरिक ज़िम्मेदारी’ (inner responsibility) का स्थान है: ख़ुद सोचना, अर्थ के साथ सक्रिय रूप से जुड़ना और ग़लती के जोखिम को स्वीकार करना। इसलिये पहला मिस्रा एक अंदरूनी जद्द ओ जहद, संघर्ष और समझने की उस कोशिश की बात करता है जिस से अंतर्दृष्टि (insight) भी हो सकती है और ग़लती भी। इसके विपरीत, ‘बे-दिल’ उस स्थिति को दिखाता है जहाँ इंसान बिना सोचे-समझे रहता है और अपने दिमाग़ का इस्तेमाल बंद कर देता है। दूसरा मिस्रा पूछता है के ऐसी स्थिति में मा’नी और बेमा’नी के बीच क्या अंतर रह जाता है? जो दिमाग़ सोचता ही नहीं, उसके लिये ये भेद ही मिट जाता है।
८
हो रहेगा सज्दा भी जब किसी की याद आई
याद जाने कब आए ज़िंदा-दारी-ए-शब१ क्या
१-रात भर प्रार्थना/भजन में जागते रहना
मैं दो व्याख्याएँ (interpretations) पेश करता हूँ, एक नर्म और दूसरी विवाद-ग्रस्त। नर्म व्याख्या में ‘हो रहेगा’ का अर्थ ‘हो कर रहेगा’ है, होना लाज़िमी है। यानी, जब भी ख़ुदा की याद आएगी, सज्दा ख़ुद-ब-ख़ुद हो जाएगा, या याद ही ख़ुद सज्दा है। आप नहीं जानते के वो याद कब आएगी, तो फिर रात-रात भर जागने, दिखावे के रीति-रिवाजों (formal rituals) की क्या ज़रूरत? दूसरी विवाद-ग्रस्त व्याख्या में ‘हो रहेगा’ को एक बेपरवाह अंदाज़ ‘होने दो – किसे परवाह है’ के तौर पर देखा गया है। ये लहजा सज्दे को पूरी तरह ख़ारिज कर देता है क्यूंके ‘याद जाने कब आए’ एक ताना देना (sarcasm) भी हो सकता है के ‘याद आए या न आए।’ इस तरह, सज्दा और शब-बेदारी (रात का जागना), दोनों को एक ही साथ ख़ारिज कर देने वाली श्रेणी में डाल दिया गया है।
९
आँधियाँ रुकें क्यूँकर ज़लज़ले थमें क्यूँकर
कार-गाह१-ए फ़ितरत२ में पासबानी३-ए रब४ क्या
१-कारख़ाना २-प्रकृति ३-निगहबानी, देखभाल ४-ख़ुदा
प्रकृति के काम में ख़ुदा का दख़्ल (divine intervention) नहीं है। क़ुद्रत के इस कारख़ाने में तूफ़ान और भूकंप अल्लाह के कहने से नहीं रुकते। एक सीमित व्याख्या में ये एक ऐसे ईश्वर का संकेत देता है जो दख़्ल नहीं देता: यानी ईश्वर प्रकृति की स्वतंत्र प्रक्रियाओं में हस्तक्षेप नहीं करता, जिससे प्राकृतिक ताक़तों के सामने प्रार्थना, डर और विनती बेअसर हो जाती हैं। लेकिन अधिक विवादास्पद व्याख्या इस से भी आगे जाती है। यहाँ अल्लाह की निगहबानी (divine guardianship) का विचार ही अपने मा’नी खो देता है। प्रकृति का कारख़ाना पूरी तरह से अपनी शर्तों पर काम करता है, और एक ‘सुपरवाइज़िग गॉड’ का विचार ग़ैर ज़रूरी हो जाता है। तूफ़ान और भूकंप ईश्वरीय देखरेख के बावजूद नहीं, बल्के उसके बिना आते हैं। ये अल्लाह के होने के ख़िलाफ़ नहीं है, बल्के प्रकृति के कामकाज में उस की ज़रूरत से इनकार है।
१०
कार१-ए मर्ग२ कै३ दिन का थोड़ी देर का झगड़ा
देखना है ये नादाँ जीने का है कर्तब४ क्या
१-काम २-मौत ३-कितने ४-तरीक़ा
पहले मिसरे के पहले हिस्से को एक सवाल की तरह पढ़ा जा सकता है के… मौत का ये काम आख़िर कितने दिन चलेगा? ज़्यादा नहीं, यह तो बस एक छोटी सी जद्दोजहद है। आख़री वक़्त की बीमारी या मरने का समय ज़िन्दगी के वक़्त से छोटा होता है। यहाँ परलोक (afterlife) के लिये दीवानगी पर एक छुपा हुआ सवाल है। अए नादान/सादा-लौह, अस्ल चीज़ तो ‘जीने की कला’ (art of living) पर ग़ौर करना है। जैसा के मैंने इस साइट पर अपनी नज़्म “व दख़ली जन्नती” में लिखा है —
ज़न्न-ओ-क़्यास-ओ-ख़ौफ़ के मर जाऊँ तो क्या होगा
बताऊँ आप को मरने के बाद क्या होगा
पुलाव खाएँगे अहबाब फ़ातिहा होगा
जी ले जो चार दिन ही तो क्या कुछ नहीं होगा
११
पड़ चुके बहुत पाले१ डस चुके बहुत काले२
मूज़ियों३ के मूज़ी को फ़िक्र४-ए नीश५-ए अक़्रब६ क्या
१-पाले पढना=आफ़त आना, जाल में फंसना २-काले बिच्छू ३-अजाब ढाने वाला, आफ़त लाने वाला
हम पहले भी कई बार जाल में फँस चुके हैं, हमें काले बिच्छुओं ने डंसा है। फिर भला ‘अज़ाब देने वालों को अज़ाब देने वाला’ बिच्छू के डंक की चिंता क्यूं करे? बिच्छू का डंक अस्ल में वा’एज़ (उपदेशक) की नर्क और अज़ाब वाली धमकियाँ हो सकती हैं, या वा’एज़ की शा’एर के बारे में आलोचना हो सकती है, और ‘मूज़ियों का मूज़ी’ शा’एर ख़ुद है जो वा’एज़ के पाखंड/ढोंग की व्याख्या करता है। वो कहता है – मुझे इन बिच्छुऔं कि डंक की कोई परवाह नहीं है।
१२
मीरज़ा यगाना वाह ज़िंदाबाद ज़िंदाबाद
एक बला१-ए बे-दरमाँ२ क्या थे तुम और अब क्या
१-आफ़त, बीमारी, रोग २-ला-इलाज, जिसकी कोई दवा न हो
मक़्ता (अंतिम शे’र) दिखावटी नम्रता है। ‘वाह मिर्ज़ा यगाना, क्या कहने, जीते रहो!’ जैसी बढ़ा-चढ़ाकर दी गई दाद के साथ, कवि अपना और दिखावटी तारीफ़ का मज़ाक़ उड़ाता है। ख़ुद को एक ‘ला-इलाज बीमारी’ (आज़ार) कहकर, वो उसी पदवी को स्वीकार कर लेता है जो सभ्य, समाज और कट्टर-पंथियों ने उस पर लगाया है। वो पछतावे में नहीं, बल्के विद्रोह (defiance) में है। आख़री जुमला—’तुम पहले क्या थे और अब क्या हो गए हो’ – किसी गिरावट का संकेत नहीं है, बल्के एक ऐसी जान बूझ कर की गई तब्दीली है जिसने उसे उक्साने वाला और परेशान करने वाला बना दिया है। वो अब ऐसा व्यक्ति है जिसे न सुधारा जा सकता है और न ही अनदेखा किया जा सकता है।
Khabt-e maz’hab kyaa – mirza vaajid husain yaas yagaana chaNgezi
mirza vaajid husain yaas yagaana changezi (1884-1956), aziimabad/paTna. Early pen-name ‘yaas’ (despair) and later ‘yagaana’ (unmatched, unique). Egotistical, uncompromising, brusque and acerbic, he did not get along with fellow poets. For some reason he cast himself as a critic of Ghalib. He got a booklet published in which there is a lengthy preface critical of Ghalib and of his many admirers, followed by many rubaaii deriding Ghalib. He tried to make a living tutoring children of rich people, trying the same thing in kalkatta. But soon he came to lucknow and tried working as a teacher, editor and in the government. He even tried his hand in lahore; tried publishing a magazine. Finally (1928-1942) he moved to hyderabad state working in clerical/administrative positions. Retired on a pension of 15 rupees per month and settled in lukhnau. Financial difficulties continued, until 1948, when on the recommendation of josh malihabadi he was awarded 100 rupees a month by the govt of India, which continued for his lifetime. He made some controversial statements about religious belief in a private letter to a ‘friend’, who exposed him and published the letter. He was attacked by a mob, made to ride a donkey through town, sitting backwards, with his face blackened. He remained outspoken to the end.
1.except for 2.disbeliever 3.gone made 4.addiction, mania
This is a blunt critique of exclusivist faith – if everyone except “you” is declared a disbeliever (to be shunned), what does that really mean? This Khabt – a pathological obsession/mania which turns the human mad – suggesting that religion, instead of enlightening, has driven people mad. Said mohammed iqbal …
1.hint 2.future 3.movement 4.lips 5.promise 6.uncertain, ambiguous
This she‘r mocks the vagueness of religious promises – a mere hint of “tomorrow” fardaa (the afterlife), a slight movement of the lips (empty words) – what substance is there? The “wavering/ambiguous promise” (va‘da-e muzabzab) exposes how faith often survives on ambiguity, postponement, and half-said assurances rather than concrete truth.
1.cupped palm full 2.intoxicated 3.sips 4.emotions 5.overflowing
While this appears to be talking about javaani and its fleeting duration, given the flow of the other ash’aar, this javaani could figuratively mean eternal youth promised in heaven. Thus, you are served cupped-palm full of intoxicant which is emptied out in two sips. Why this overflowing passion over this promised youth/javaani.
1.freshness (of ideas/themes) 2.biting lips, keeping quiet
This could be addressed to the orthodox preacher – vaa’ez. Keep taking my prayers and keep dispensing your curses/threats of fire and brimstone. How long can I bite my lips, I need some fresh themes.
1.calamity, disaster 2.god-like, divinely authorized 3.straight path, righteousness 4.fruit 5.devotee, servant 6.close (to god)
The diatribe against the orthodox preacher – vaa’ez continues. This is a disastor, a calamity, he (vaa’ez) speaks in “god-like” words … divinely authorized. Faced with such speech how can the devotee/servant close to god, stay on the straight path i.e., the vaa’ez speaks ritualistic nonsense unrelated to truth or righteousness.
1.incoherent, self-contradictory 2.opposite, wrong 3.simpleton 4.discerning, figuring out 5.method
yagaana now turns his attention to those who yield to blind belief. They keep listening to incoherent and contradictory speech and the result is that when they speak, they repeat the same nonsense. You are a simpleton, how would you know the method to discern the truth (bhaaNpne kaa Dhab) from this incoherence and contradictions.
1.struggle 2.corruption, wrong thinking 3.renounce, give up
It is more productive to interpret certain key terms in a broader sense, in keeping with how yagaana deploys them polemically. Here dil is not the seat of emotion or faith, but the locus of inward responsibility: thinking for oneself, engaging actively with meaning, and accepting the risk of error. The first misra therefore speaks of an internal struggle, an effort to understand and discern, out of which both insight and corruption may arise. In contrast, be-dil denotes an unmotivated or unthinking state, a withdrawal from inward engagement. From such a condition, the second misra asks, what distinction can possibly exist between meaning and the abandonment of meaning? For a mind that does not think, the difference itself collapses.
1.all night vigil with prayer and rituals
I offer two interpretations, one soft and the other explosive. The softer interpretation reads ho rahega as ho kar rahega. Thus, prostration/devotional prayer will/can happen whenever you remember the divine. You don’t know when this remembrance will come, why engage in formalized rituals like night long vigils. The explosive interpretation reads ho rahega as a dismissive ‘let it happen-who cares’. The tone rejects sajda altogether because yaad jaan’e kab aa’e can also be a tongue in cheek statement that it may or not happen. Thus, both sajda and zinda-daarii-e shab belong in the same dismissive category.
1.how, why 2.earthquakes 3.pause, stop 4.workshop 5.nature 6.guardianship 7.lord, god
Nature and its violence are presented as indifferent to divine intervention. In the workshop of nature, storms and earthquakes do not pause for divine guardianship. In the restrained interpretation, this suggests a non-interventionist deity: god does not interfere in the autonomous processes of nature, rendering prayer, fear, and supplication ineffective in the face of natural forces. The more controversial reading goes further. Here, divine guardianship itself is emptied of relevance. The workshop of nature functions entirely on its own terms, and the idea of a supervising god becomes conceptually redundant. Storms rage and earthquakes strike not despite divine oversight, but without reference to it. What remains is not an argument against god’s existence, but a refusal to grant god any explanatory or moral role in the workings of nature.
1.task 2.death 3.(trivial) struggle/disagreement 4.simpleton 5.art, skill
The first half of the first misra can be read as a rhetorical question … how many days can the task of death/dying last? Not many, it is just short struggle. There is an implied questioning of the obsession with the after-life. O simpleton, the real thing to consider is the art/sill of living. Elsewhere in “va daKhali jannati” on this site, I have written …
1.paal’e paRna-to fall in the clutches of, to be trapped 2.sting 3.black (scorpions) 4.toromentor 5.worry 6.scorpion’s sting
We have been trapped many times before, we have been stung by dark scorpions. Why should the tormentor of tormentors worry about the ‘sting of the scorpion’. The sting of the scorpion could be the fire and brimstone fearmongering of the vaa’ez and the tormentor of tormentors could be the poet himself, who writes about them exposin their hypocrisy. I don’t need to worry about the sting of these scorpions, he declares.
1.pen-name, taKhallus 2.bravo 3.curse, affliction 4.incurable
The maqta’ is a performance of feigned self-deprecation. With exaggerated applause, ‘bravo, miirza yagaana, long live!’ – the poet mocks both himself and the culture of praise. Calling himself an “incurable affliction”, he adopts the label that polite society and orthodox authority would give him. He is not remorseful but defiant. The closing phrase, “what you once were, and what you are now,” marks not a fall from grace but a transformation into something deliberately troublesome and provocative, someone who can no longer be accommodated, cured, or ignored.
The post Khabt-e mazhab kya-yaas yagaana chaNgezi appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/mlsh-Gham-e-aam-ki-baateN-kiije-audio.wav
Recitation
غمِ عام کی باتیں کیجے ۔ منوہر لال شاربؔ
۱
وقت کی گردشِ ایّام کی باتیں کیجے
اک نئی صبح نئی شام کی باتیں کیجے
۲
کفر کا ذکر نہ اِسلام کی باتیں کیجے
لوگ کہتے ہیں غمِ عام کی باتیں کیجے
۳
اب شبِستاں کی نہ آرام کی باتیں کیجے
صبح کا وقت ہے کچھ کام کی باتیں کیجے
۴
سُرخرُو جس کی عطا سے ہو حیاتِ اِنساں
اُب اسی ساقیِ گُلفام کی باتیں کیجے
۵
لطف تو جب ہے زُبُوں کاریِ ماحول میں بھی
نیک آغاز و خوش انجام کی باتیں کیجے
۶
جس میں ایمان کی ہو شرط خلوصِ انساں
اُس صحیفے کی اُس الہام کی باتیں کیجے
۷
جلوۂ طور کے قِصّے ہیں کہاں لطف و سُرُور
نئے جلوے کی نئے بام کی باتیں کیجے
۸
ہر ادا جس کی ہے عنوانِ بہارِ ہستی
ہاں اُسی یار گل اندام کی باتیں کیجے
۹
چھیڑیے کوثر و گنگا کا نہ اب ذکر یہاں
بزم شاربؔ میں مے و جام کی باتیں کیجے
منوہر لال شاربؔ (۱۹۲۰۔۱۹۶۴) نے اُردو، فارسی اور عربی کی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ میٹرک کے بعد اُنہوں نے حیدرآباد میں محکمہ زراعت (Agriculture Department) میں ملازمت اختیار کی۔ وہ اپنے دور کے ترقی پسند شعراء کے حلقے کا ایک اہم حِصّہ تھے۔ شاربؔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پکے حامی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اِنسانی دکھوں اور سماجی ناانصافیوں کے تئیں اُن کی حساسیت انہیں کثرتِ مے نوشی کی طرف لے گئی، جو اُن کی جوانی میں موت کا سبب بنی۔ ان کی زندگی میں ان کے دو شعری مجموعے شائع ہوئے اور ایک ان کے انتقال کے بعد منظرِ عام پر آیا۔
۱
وقت کی گردشِ ایّام۱ کی باتیں کیجے
اک نئی صبح نئی شام کی باتیں کیجے
۱۔بدلتا وقت، قسمت کے آفات
شاعر یہاں تاریخی شعور کی دعوت دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ماضی کے قصوں میں کھونے کے بجائے ہمیں ’گردشِ ایّام‘ یعنی بدلتے ہوئے وقت (یا زندگی کی کشمکش) پر بات کرنی چاہیے۔ اشتراکی نظریے کے تحت اس کا مطلب ایک پرانے اور بوسیدہ نظام سے نکل کر ایک ایسی ’نئی صبح‘ کی طرف بڑھنا ہے جہاں انقلاب آئے اور ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جہاں سورج کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے طلوع ہو۔
۲
کفر کا ذکر نہ اِسلام کی باتیں کیجے
لوگ کہتے ہیں غمِ عام کی باتیں کیجے
یہ ایک خالص سیکولر اور ترقی پسندانہ موقف ہے۔ شاعر مذہبی فرقہ واریت (کفر اور اسلام) کو ایک فضول بحث قرار دے کر رد کرتا ہے۔ وہ ان ’لوگوں/عوام‘ کے ساتھ کھڑا ہے جو ’غمِ عام‘ یعنی عوام کے اجتماعی دکھوں اور معاشی جدوجہد پر بات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کا اِشارہ یہ ہے کہ اس دور کا اصل مذہب عام انسان کی فلاح اور بہتری ہونا چاہیے۔
۳
اب شبِستاں۱ کی نہ آرام کی باتیں کیجے
صبح کا وقت ہے کچھ کام کی باتیں کیجے
۱۔آرام گاہ
یہاں ’شبستاں‘ (خواب گاہ) جاگیردارانہ ماضی یا سرمایہ دارانہ نظام کی سُستی اور عیاشی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب بیداری کی، اِشتراکیت کی صبح ہو چکی ہے جو عمل اور محنت کا وقت ہے۔ یہ شعر کام کی عظمت اور حکمران طبقے کے بے جا آرام کے مقابلے میں مسلسل جدّوجہد کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
۴
سُرخرُو۱ جس کی عطا سے ہو حیاتِ اِنساں
اب اسی ساقیِ گُلفام۲ کی باتیں کیجے
۱۔مسرور چہرہ، چمکتا چہرہ ۲۔گُل رنگ، لال
اگرچہ ’ساقی‘ ایک روایتی استعارہ ہے، لیکن ترقی پسند شاعری میں یہ اکثر اِنقلابی رہنما یا نظریے کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘سرخرو’ اور ‘گلفام’ دونوں کے یہاں دو معنی ہیں: ایک کامیابی/خوبصورت ساقی اور دوسرا اشتراکی پرچم کا ’سرخ‘ رنگ۔ یہ اس انقلابی نظریے ہی کی عطا ہے جس سے انسانی زندگی کو اصل عزّت اور وقار نصیب ہوتا ہے۔
۵
لطف تو جب ہے زُبُوں۱ کاریِ۲ ماحول میں بھی
نیک آغاز۳ و خوش انجام کی باتیں کیجے
۱۔بُرا، بیکار، کمزور ۲۔کام، اثر ۳۔شروعات
شاعر بدترین حالات اور ’زبوں کاریِ ماحول‘ (ماحول کی خرابی) میں بھی نااُمید نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ جدّوجہد کا اصل لطف یہی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹِھن کیوں نہ ہوں، انسان ایک ’نیک آغاز‘ اور ایک ’خوش انجام‘ یعنی کامیاب انقلاب کے عزم پر قائم رہے۔
۶
جس میں ایمان کی ہو شرط۱ خلوص۲ انساں
اُس صحیفے۳ کی اُس الہام۴ کی باتیں کیجے
۱۔پابندی ۲۔محبت ۳۔کتاب ۴۔وحی، عرفان، آسمانی پیام
شاعر یہاں ’ایمان‘ کی نئی تعریف پیش کر رہا ہے۔ وہ روایتی مذہبی عقائد کے بجائے ایک ایسے ’صحیفے‘ یا کتاب کی بات کرتا ہے جس میں ایمان کی واحد شرط ’خلوصِ انساں‘ یعنی انسانیت سے سچی محبت ہے۔ ترقی پسند تحریک کا اصل ’الہام‘ یہی ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
۷
جلوۂ۱ طور۲ کے قِصّے ہیں کہاں لطف و سُرُور۳
نئے جلوے کی نئے بام۴ کی باتیں کیجے
۱۔روشنی، ظہور ۲۔کوہِ طور جہاں موسیٰ گئے تھے ۳۔خوشی ۴۔چھت، اونچائی
’جلوۂ طور‘ (موسیٰ کا واقعہ) پرانے مذہبی معجزوں کی علامت ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اب ان قِصّوں میں وہ کشِش نہیں رہی۔ اب ہمیں ایک ’نئے جلوے‘ کی تلاش ہے جو اِنسانی محنت سے ممکن ہونے والی سماجی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہو۔ ’بام‘ (چھت) پر جلوہ افروز ہونا روایتی طور پر محبوب سے منسوب ہے، اور یہاں شاعر کا محبوب ’اشتراکی انقلاب‘ ہے۔
۸
ہر ادا جس کی ہے عنوانِ۱ بہارِ ہستی
ہاں اُسی یار گل اندام۲ کی باتیں کیجے
۱۔موضوع، theme, title ۲۔گُل بدن
اس شعر میں ’انقلاب‘ کو ایک ’یارِ گل اندام‘ (حسین محبوب) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ محبوب جس کی ہر ادا زندگی کی بہار کا عنوان ہے، دراصل اشتراکی آئیڈیل ہے۔ یہ ’بہار‘ برابری اور خوشحالی کے اس دور کی علامت ہے جس کا شاعر خواب دیکھ رہا ہے، اور اسے رومانوی لبادے میں اس لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ پیغام دلکش لگے۔
۹
چھیڑیے کوثر۱ و گنگا کا نہ اب ذکر یہاں
بزمِ شاربؔ میں مے و جام کی باتیں کیجے
۱۔جنّت کی نہر
آخر میں شاعر جنّت کی نہر ’کوثر‘ اور ’گنگا‘ کے مقدس پانی کے ذکر کو رد کرتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں تقسیم یا ماورائی دنیا کی علامت بن چکی ہیں۔ شاربؔ کی اس ’بزم‘ (محفل) میں توجہ ’مے و جام‘ پر ہے، جو یہاں عوامی جدوجہد کے اس نشے اور برابری کے جذبے کی علامت ہے جہاں سب مل کر خوشیاں بانٹتے ہیں۔
ग़म-ए आम की बातें कीजे – मनोहर लाल शारिब
१
वक़्त की गर्दिश-ए अय्याम की बातें कीजे
एक नई सुब्ह नई शाम की बातें कीजे
२
कुफ़्र का ज़िक्र न इस्लाम की बातें कीजे
लोग कहते हैं ग़म-ए आम की बातें कीजे
३
अब शबिस्ताँ की न आराम की बातें कीजे
सुब्ह का वक़्त है कुछ काम की बातें कीजे
४
सुर्ख़रू जिस की अता से हो हयात-ए इंसाँ
अब उसी साक़ी-ए गुल्फ़ाम की बातें कीजे
५
लुत्फ़ तो जब है ज़ुबूँ-कारी-ए माहौल में भी
नेक आग़ाज़ ओ ख़ुश अंजाम की बातें कीजे
६
जिस में ईमान की हो शर्त ख़ुलूस-ए इंसाँ
उस सहीफ़े की उस इल्हाम की बातें कीजे
७
जल्वा-ए तूर के क़िस्से हैं कहाँ लुत्फ़ ओ सुरूर
नए जल्वे की नए बाम की बातें कीजे
८
हर अदा जिस की है उन्वान-ए बहार-ए हस्ती
हाँ उसी यार-ए गुल-अंदाम की बातें कीजे
९
छेड़िए कौसर ओ गंगा का न अब ज़िक्र यहाँ
बज़्म-ए शारिब में मय ओ जाम की बातें कीजे
मनोहर लाल ‘शारिब’ (१९२०-१९६२) ने उर्दू, फ़ारसी और अरबी की शिक्षा घर पर ही प्राप्त की। मैट्रिक करने के बाद उन्होंने हैदराबाद में कृषि विभाग (Agriculture Department) में नौकरी की। वो अपने समय के प्रगतिशील कवियों (Progressive Poets) के गुट का एक सक्रिय हिस्सा थे। वो सांप्रदायिक सद्भाव (communal harmony) के प्रति पूरी तरह प्रतिबद्ध थे। कहा जाता है के मानवीय दुखों और सामाजिक अन्याय के प्रति उनकी संवेदनशीलता ने उन्हें शराब की लत की ओर ढकेल दिया, जिससे उनकी कम उम्र में ही मृत्यु हो गई। उनके जीवनकाल में उनके दो कविता संग्रह प्रकाशित हुए और एक उनकी मृत्यु के बाद छपा।
१
वक़्त की गर्दिश-ए-अय्याम१ की बातें कीजे
एक नई सुब्ह नई शाम की बातें कीजे
१-बदलता ज़माना, ज़िन्दगी की मुसीबतें
शा’एर यहाँ इतिहास की समझ और बदलाव की बात कर रहा है। पुराने और रुके हुए वक़्त को याद करने के बजाए, वो बदलते हुए दौर या ज़िन्दगी की मुश्किलात – ‘गर्दिश-ए अय्याम’ पर चर्चा करने की दावत देता है। समाजवादी संदर्भ में इसका अर्थ एक पुराने, सड़े-गले सिस्टम को छोड़कर एक ‘नई सुब्ह’ की ओर बढ़ना है – जो एक ऐसे क्रांतिकारी समाज का प्रतीक है जहाँ सूरज चुने लोगों के लिये नहीं, बल्कि सबके लिये तुलू’ होगा।
२
कुफ़्र१ का ज़िक्र२ न इस्लाम की बातें कीजे
लोग कहते हैं ग़म-ए-आम३ की बातें कीजे
१-अधर्म २-बात, व्याख्या ३-जनता का दुख
ये एक शुद्ध धर्मनिरपेक्ष और प्रगतिशील नज़रिया है। शा’एर मज़्हबी भेदभाव (कुफ़्र और इस्लाम) को बेकार की बातें मानकर ख़ारिज करता है। वो उन ‘आम लोगों’ के साथ खड़ा है जो ‘ग़म-ए आम’ यानी जनता के साझा दुखों और आर्थिक संघर्षों पर बात करना चाहते हैं। इसका मतलब है के आज के दौर का असली धर्म इंसान की भलाई होना चाहिए।
३
अब शबिस्ताँ१ की न आराम की बातें कीजे
सुब्ह का वक़्त है कुछ काम की बातें कीजे
१-आराम करने का या सोने का कमरा
‘शबिस्ताँ’ (आरामगाह या बेडरूम) यहाँ सामंती विलासिता और पुराने ढर्रे की आलस भरी ज़िंदगी का प्रतीक है। शा’एर कहता है के अब जागने की सुब्ह हो चुकी है, जो मेहनत और अमल का वक़्त है।
४
सुर्ख़रू१ जिस की अता२ से हो हयात३-ए इंसाँ
अब उसी साक़ी-ए गुल्फ़ाम४ की बातें कीजे
१-साल (चमकता हुआ) चेहरा २-देन ३-ज़िन्दगी ४-फूल जैसा बदन
यहाँ ‘साक़ी’ पारंपरिक शराब पिलाने वाला नहीं, बल्के क्रांति का नेता या विचारधारा है। ‘सुर्ख़रू’ (कामयाब या लाल/चमकते चेहरे वाला) के यहाँ दो मा’ने हैं: एक सफ़लता और दूसरा समाजवाद के ‘लाल’ झंडे का रंग। इसी क्रांतिकारी विचारधारा की देन (अता) से ही इंसान की ज़िंदगी को असली सम्मान और कामयाबी मिल सकती है।
५
लुत्फ़१ तो जब है ज़ुबूँ-कारी२-ए माहौल३ में भी
नेक आग़ाज़४ ओ ख़ुश अंजाम५ की बातें कीजे
१-मज़ा २-बेकार काम, असफल काम ३-हालात ४-आरंभ ५-अंत
हालात चाहे कितने ही ख़राब या ‘ज़ुबूँ’ (बदतर) क्यूं न हों, शा’एर उम्मीद नहीं छोड़ता। वो कहता है के असली मज़ा तो तब है जब हम इस कठिन माहौल में भी हार न मानें और एक ‘नेक शुरुआत’ तथा एक ‘सुनहरे भविष्य’ (सफल क्रांति) के लक्ष्य पर अटल रहें।
६
जिस में ईमान१ की हो शर्त२ ख़ुलूस३-ए इंसाँ
उस सहीफ़े४ की उस इल्हाम५ की बातें कीजे
१-धर्म २-पाबंदी, बंधन, वचन ३-मोहब्बत ४-किताब ५-आस्मानी संदेश
शा’एर यहाँ ‘ईमान’ की नई परिभाषा देता है। वो पुरानी लकीर के फ़क़ीर बनने के बजाए एक ऐसे ‘सहीफ़े’ (किताब) की बात करता है जहाँ ईमान की एकमात्र शर्त ‘ख़ुलूस-ए इंसाँ’ या’नी मानवता के प्रति सच्ची निष्ठा है। प्रगतिशील आंदोलन का यही ‘इल्हाम’ (ईश्वरीय संदेश) है के मानवता की सेवा ही सबसे बड़ी सच्चाई है।
७
जल्वा१-ए तूर२ के क़िस्से हैं कहाँ लुत्फ़३ ओ सुरूर४
नए जल्वे की नए बाम५ की बातें कीजे
१-प्रकट होना, महिमा २-पहाढी जहां मूसा भगवान से बात करने गए थे ३-मज़ी ४-ख़ुशी ५-छत, ऊंचाई
‘जल्वा-ए तूर’ (कोह-ए तूर पर मूसा का चमत्कार) पुराने धार्मिक चमत्कारों को दर्शाता है। शा’एर कहता है के इन पुरानी कहानियों में अब वो बात नहीं रही। अब हमें एक ‘नए चमत्कार’ की ज़रूरत है जो सामाजिक बदलाव के रूप में दिखे। यहाँ ‘बाम’ (छत) पर महबूब का आना समाजवाद रूपी क्रांति के आगमन का प्रतीक है।
८
हर अदा१ जिस की है उन्वान२-ए बहार-ए हस्ती३
हाँ उसी यार४-ए गुल-अंदाम५ की बातें कीजे
१-मनोहर भाव, अंदाज़ २-शीर्षक, विषय ३-जीवन ४-दोस्त, प्रेमिका ५-फूल का लाल रंग
इस शे’र में ‘क्रांति’ को ही ‘महबूब’ (यार-ए गुल-अंदाम) बनाकर पेश किया गया है। वो आदर्श जिसकी हर अदा जीवन की वसंत (बहार) का शीर्षक है, दरअस्ल समाजवादी समानता का विचार है। इस ‘बहार’ में सबका समान अधिकार होगा, जिसे शा’एर ने रूमानी अंदाज़ में पेश किया है ताके बात दिल तक पहुँच सके।
९
छेड़िए कौसर१ ओ गंगा का न अब ज़िक्र२ यहाँ
बज़्म३-ए शारिब४ में मय५ ओ जाम६ की बातें कीजे
१-स्वर्ग की नदी २-उल्लेख, विवाद ३-सभा, महफ़िल ४-उपनाम ५-शराब ६-प्याला
अंत में शा’एर स्वर्ग की ‘कौसर’ और ‘गंगा’ जैसे धार्मिक प्रतीकों के ज़िक्र को छोड़ देने की बात करता है, क्यूंके ये अक्सर दूरियों या पारलौकिक दुनिया से जुड़े होते हैं। वो कहता है के ‘शारिब’ (शा’एर) की इस महफ़िल में सिर्फ ‘मय और जाम’ की बात होगी, जो यहाँ आपसी भाईचारे, सामूहिक संघर्ष के नशे और जनता की मिली-जुली खुशियों का प्रतीक हैं।
Gham-e ‘aam ki baateN kiij’e – manohar lal shaarib
manohar lal shaarib (1920-1962) learnt urdu, farsi and arabi at home. After matriculation he worked for the agriculture department in hyderabad. He was very much a part of the progressive circle of shu’ara. He was fully commited to communal harmony. It is said that his sensitivity to human suffering and social injustice led him to drinking and an early death. Two of his collection were published during his lifetime and one posthumously.
1.changing times, vicissitudes to time
The poet opens with a call for historical consciousness. Instead of dwelling on a static past, he urges us to discuss the “gardish-e ayyaam” (changing times or the vicissitudes of time). In a socialist context, this signifies the inevitable transition from an old, decaying system to a “new morning” – a metaphor for the revolution and a classless society where the sun rises for everyone, not just the elite.
1.non-belief 2.mention, commentary 3.common, of people
This is a classic secular-progressive stance. The poet dismisses religious communalism (kufr and islaam) as distractions. He aligns with the “people” (log) who demand a focus on Gham-e ‘aam – the collective suffering and economic struggles of the masses. It suggests that the real “religion” of the time should be the upliftment of the common man.
1.bedchamber
The shabistaaN (bedroom/place of rest) represents the lethargy and decadence of the feudal past or the bourgeoisie. The “morning” has arrived, signaling a time for action and labor. This verse emphasizes the dignity of work and the necessity of active struggle over the idle comforts of the ruling class.
1.glowing/shining face 2.grant 3.life 4.rose-coloured, red
While saaqi (cupbearer) is a traditional trope, in progressive poetry, it often represents the revolutionary leader or the source of ideology. surKh-ruu (red/shining-faced/triumphant) carries a double meaning here: the “red” of the socialist banner. It is through this revolutionary “gift” that human life finds its true honor and vitality.
1.pleasure 2.weakness, failure, useless effort 3.ambience, conditions 3.good, lucky 5.beginning 6.result, ending
Even in a “depraved” or “wretched” environment (zubuuN-kaari-e maahaul), the poet finds hope. He suggests that the true pleasure of the struggle lies in maintaining a commitment to a “noble beginning” and a “happy ending” (the successful revolution), regardless of how oppressive the current conditions may be.
1.faith 2.condition, requirement 3.love 4.book 5.inspiration, revelation
The poet redefines “faith” (imaan). He rejects dogmatic scriptures in favor of a new sahiifa (book/scroll) where the only condition for faith is Khuluus-e insaaN (human sincerity/humanism). This is the “revelation” of the progressive movement: that the service of humanity is the highest form of holiness.
1.manifestation, glory 2.Mount Sinai 3.story 4.pleasure 5.joy 6.rooftop
The “jalva-e tuur” (the epiphany of Moses on Mount Sinai) represents old religious miracles. The poet argues these old stories no longer provide joy or relevance. Instead, he looks for a “new manifestation” on a “new roof” – referring to the modern, materialist miracles of social change and the heights reachable by human effort. The appearance on the rooftop baam is associated with the beloved. In this case the beloved is the socialist revolution.
1.style, gesture 2.theme, title 3.spring, joy 4.life 5.friend, beloved 6.rose-bodied
This verse masks the “Revolution” as the yaar (beloved). The “beloved” whose every gesture is a “theme of the spring of existence” is actually the socialist ideal. The “spring” is the era of equality and prosperity that the poet longs for, personified with traditional romantic imagery to heighten its appeal.
1.river in heaven 2.Ganges 3.mention, conversation 4.gathering 5.pen-name 6.wine 7.cup
The poet concludes by rejecting the mythological waters of kausar (paradise) and the gaNga (sacredness) as symbols of division or otherworldliness. In the bazm (gathering) of the poet (shaarib), the focus is on the mai-o-jaam – the wine and cup – which here symbolize the intoxicating and egalitarian spirit of the communal struggle and the shared joy of the people.
The post Gham-e ‘aam ki baateN kiij’e-manohar lal shaarib appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/yych-musalmaaN-hona-audio.mp3
Recitation
مسلماں ہونا ۔ مرزا واجد حسین یاس یگانہؔ چنگیزی
۱
فخر ہے خانۂ صیّاد میں مہماں ہونا
بے گناہوں کے لیے داخلِ زنداں ہونا
۲
لبِ دریا سے غرض ہے نہ تہِ دریا سے
موج و گرداب سے ہے دست و گریباں ہونا
۳
لذّتِ درد سلامت ہے تو آسان نہیں
جان پر کھیل کے آمادۂ درماں ہونا
۴
نفس سے صلح کا انجام یہی ہونا تھا
اپنی ہر سانس پہ رہ رہ کے پشیماں ہونا
۵
معنیِ وعدۂ موہوم نے صورت پکڑی
بدگمانوں کو مبارک ہو پشیماں ہونا
۶
سہوِ کاتب سے ہے نام اپنا مسلمانوں میں
رنگ لائے گا کسی دن یہ مسلماں ہونا
مرزا واجد حسین یاسؔ یگانہؔ چنگیزی (۱۸۸۴۔۱۹۵۶) عظیم آباد/پٹنا میں پیدا ہوئے۔ شروع میں اپنا تخلص یاسؔ کیا کرتے تھے اور بعد میں یگاناؔ کے تخلص سے شعر کہتے تھے۔ ان کو خود پسند، ضِدّی، ہٹ دھرم اور بد مزاج سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے شعراء سے مانوسیت نہ تھی۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو غالب کے نقّاد کی حیثیت میں ڈھال لیا اور ایک کتابچہ غالب کی تنقید میں لکھا۔ کچھ دن اُمرا کے بچوں کو تعلیم دے کر زندگی گزاری، کچھ دن کلکتّہ میں بھی یہی کام کیا، لیکن جلد ہی لکھنؤ آ گئے اور کچھ مدرسوں میں، رسالوں کے لئے اور سرکاری نوکرییاں کیں۔ لاہور میں بھی کوشش کی اور کچھ رِسالے بھی جاری کئے جو زیادہ نہ چل سکے۔ پھر حیدرآباد میں سرکاری وسطی دفتری نوکری کرتے رہے (۱۹۲۸۔۱۹۴۲)۔ وہاں سے وظیفہ (۱۵ روپئے ماہانہ) لے کر لکھنو میں قیام کیا۔ مالی تنگی برداشت کرتے رہے۔ ۱۹۴۸ میں جوش ملیح آبادی کی سفارش پر ہکومتِ ہند سے ۱۰۰ روپئے ماہانہ اِجرا کئے گئے جو آخر تک ملتے رہے۔ کسی دوست کو چٹھی میں مذہبی حُجّتی، مُباحَثہ طَلَب باتیں لکھیں۔ اُن کے دوست نے فاش کر دیا اور ان کی چِٹھی شائع کر دی۔ اُن کے گھر کے باہر ایک مجمع جمع ہو گیا اور اُن کو پکڑ کر گدھے پہ بٹھا کر منہ کالا کر کے شہر کی گلیوں میں پھرایا گیا۔ انہوں نے اپنی صاف گوئی ہمیشہ برقرار رکھی۔
۱
فخر ہے خانۂ۱ صیّاد۲ میں مہماں ہونا
بے گناہوں کے لیے داخلِ زنداں۳ ہونا
۱۔گھر ۲۔شکاری ۳۔جیل
ایک بے گناہ کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ وہ شکاری کے گھر مہمان بنے اور قید ہونا قبول کر لے۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اُردو شاعری میں ‘صیٓاد’ (شکاری) اکثر محبوب کو کہا جاتا ہے اور ‘گھر’ سے مُراد اُس کا دل ہے۔ تو محبوب کے دل میں قید ہونا باعثِ فخر ہے۔ یہاں ‘بے گناہ’ وہ سیدھے سادے عاشق ہیں جو خوشی خوشی زنداں (قید) میں چلے جاتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ شعر اندھی تقلید اور پرانے خیالات پر سوال اُٹھاتا ہے۔ یہاں صیّاد سے مراد سخت گیر مذہبی طبقہ ہے اور بے گناہ وہ سادہ لوح لوگ ہیں جو بِنا سوچے سمجھے یقین کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے اپنے عقیدے کی یہ پابندی ہی فخر بن جاتی ہے۔
۲
لبِ۱ دریا سے غرض ہے نہ تہِ دریا سے
موج و گرداب۲ سے ہے دست و گریباں۳ ہونا
۱۔کنارا ۲۔بھنور ۳۔ہاتھ سے گریبان پکڑنا، لڑائی کرنا
شاعر یا تلاشِ حق میں نکلا مسافر، سالک نہ تو دریا کے کنارے کا طلب گار ہے اور نہ ہی اُس کی گہرائی کا، بلکہ اس کا اصل مقصد موجوں اور بھنور سے مقابلہ کرنا ہے۔ یہ منظر کشی ایک ایسی زندگی کو دکھاتی ہے جو سکون کے بجائے جدّوجہد اور ہلچل سے عبارت ہے ۔ یعنی مشکل/جدّوجہد کو ہی جینے کا اصل طریقہ مان لینا ہے۔ یہاں دریا کا کنارا آرام طلب زندگی ہے اور دریا کی تہہ میں بیٹھ جانا ذہنی موت، سوچ بچار چھوڑ دینے کے برابر ہے، جبکہ لہروں اور بھنور سے ٹکرانا عقل اور منطق کا استعمال ہے۔
۳
لذّتِ۱ درد سلامت۲ ہے تو آسان نہیں
جان پر کھیل کے آمادۂ۳ درماں۴ ہونا
۱۔لطف، مزا ۲۔برقرار ۳۔راضی، تیّار ۴۔دوا
اس شعر کو سمجھنے کے لیے پہلے اسے سادہ نثر میں، الفاظ بدلے بغیر یوں دیکھتے ہیں: “جان پر کھیل کے لذّتِ درد سلامت ہے، تو آمادۂ درماں ہونا آسان نہیں”۔ یہاں ‘جان پر کھیل کر’ کا تعلق درد کی لذّت کو بچانے سے ہے، یعنی عاشق/سالک اس درد کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ علاج کی طرف مائل ہونا ایسی خواہش نہیں سمجھا جا سکتا کہ جان کی بازی لگا دی جائے، یعنی درماں کے لئے آمادہ ہونے کے لئے جان پر کھیلنے کی ضرورت نہیں۔ غزل کی دنیا میں ‘درد’ سے مراد عشق کا دکھ ہے، اور درماں کو قبول نہ کرنا غالبؔ کے اِس مصرع کی یاد دلاتا ہے ۔۔۔ ‘درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا’۔ لیکن یگانہ کے باغیانہ مزاج کو دیکھیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ‘لذتِ درد’ سے مراد عقل اور وجود کے وہ سوالات ہیں جو انسان کو بے چین رکھتے ہیں، جبکہ ‘علاج’ کا مطلب خاموشی سے ایمان لے آنا ہے۔ ایک بار جب انسان سچ کی تلاش میں سب کچھ داؤ پر لگا دے، تو پھر تسلّی بخش تقلید کی طرف لوٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
۴
نفس۱ سے صلح۲ کا انجام۳ یہی ہونا تھا
اپنی ہر سانس۴ پہ رہ رہ کے پشیماں۵ ہونا
۱۔خودی، ذات ۲۔سمجھوتا، اِقرار، اِتفاق ۳۔نتیجہ ۴۔لمحہ، مِنٹ ۵۔افسوس، شرمندہ
یہاں ‘نفس’ سے مراد انسان کی روح یا اس کی ذات ہے۔ اپنے نفس سے صلح کر لینا ہر سانس اور ہر لمحہ پچھتاوے کا باعث بنتا ہے۔ ایک عام مطلب یہ ہے کہ یہ شعر اپنی اخلاقیات پر سمجھوتہ کرنے کی مخالفت کرتا ہے ۔ یعنی جب انسان اپنی خواہشات کے آگے جھک جاتا ہے، تو اس کا ضمیر اسے ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے۔ ایک گہرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ‘صلح’ کرنے کا مطلب اپنی فکری آزادی کو چھوڑ کر لکیر کا فقیر بن جانا ہے، جو بعد میں افسوس کا سبب بنتا ہے۔
۵
معنیِ وعدۂ موہوم۱ نے صورت پکڑی
بدگمانوں۲ کو مبارک ہو پشیماں ہونا
۱۔فرضی، خیالی، قیاسی ۲۔شکّی، سوالی
ایک فرضی یا خیالی وعدے نے اب ایک ٹھوس شکل اختیار کر لی ہے۔ شک کرنے والوں کو ان کی اس پشیمانی پر مبارکباد۔ یہ ‘وعدۂ موہوم’ کیا ہے؟ عام طور پر اس کا مطلب محبوب کا جھوٹا وعدہ یا دنیا کے دھوکے ہو سکتے ہیں۔ مگر یگانہ کے کلام میں اس کا اشارہ آخرت کے ان وعدوں اور مذہبی رسومات کی طرف بھی ہو سکتا ہے جو محض امیدوں پر ٹکے ہیں۔ اس لحاظ سے ‘بدگمان’ وہ لوگ نہیں جو محض شک کرتے ہیں، بلکہ وہ ہیں جو اس بنے بنائے نظام پر سوال اُٹھاتے ہیں۔ ان کی پشیمانی دراصل اس بات کا احساس ہے کہ وہ پہلے اِن باتوں پر یقین رکھتے تھے۔ شاعر کی مبارکباد دراصل ایک طنز ہے جو اس پچھتاوے کو ایک نئی بیداری اور آزادی کی علامت قرار دیتی ہے۔
۶
سہوِ۱ کاتب۲ سے ہے نام اپنا مسلمانوں میں
رنگ لائے گا۳ کسی دن یہ مسلماں ہونا
۱۔بھول، غلطی ۲۔لکھنے والا ۳۔اثر کرے گا، نتیجہ ہوگا
لکھنے والے (کاتب) کی غلطی سے میرا نام مسلمانوں کی فہرست میں لکھ دیا گیا ہے۔ ایک دن یہ ‘مسلم’ ہونے کا لیبل اپنا رنگ ضرور دکھائے گا۔ میں کاتب کی اس غلطی کو ‘اتفاقِ پیدائش’ سمجھتا ہوں، یعنی کسی خاص گھرانے میں پیدا ہو جانا۔ جیسا کہ میرے دوسرے اشعار ہیں جو اُردو شاہکار پر موجود ہیں ۔۔۔
جس گھر میں ہوا پیدا ہوتا نہ اگر واں تو
تیرے لئے پھر ہوتا، اِک اندھا کنواں اور
ایک اور جگہ ۔۔۔
جس گھر میں ہوا پیدا، گر تُو نہ وہاں ہوتا
ایماں ترا کیا ہوتا، مسلک ترا کیا ہوتا
شاعر/یگانہؔ کہتا ہے کہ مسلمان ہونے کا یہ لیبل ایک دن اثر دکھائے گا، مگر یہ اثر اچھا ہوگا یا برا، یہ واضح نہیں کیا۔ اچھا اثر کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ شاعر اپنے آپ کو ‘مومن’ سمجھتا ہو اور برا اثر معاشرے کی وہ نفرت یا مخالفت ہو سکتی ہے جو یگانہ نے اپنی زندگی میں کھری کہنے کی وجہ سے جھیلی۔
मुसलमाँ होना – मिर्ज़ा वाजिद हुसैन यास यगाना चंगेज़ी
१
२
३
४
५
६
मिर्ज़ा वाजेद हुसैन यस यागना चंगेज़ी (१८८४-१९५६) अज़ीमआबाद/पटना में पैदा हुए। शुरू में अपना तख़ल्लुस यास किया करते थे और बाद में यगाना के तख़ल्लुस से शे’र कहते थे। इन को ख़ुद पसंद, ज़िद्दी, हट धर्मी और बद-मिज़ाज समझा जाता था। दूसरे शो’अरा से दोस्ती ज़्यादा नहीं थी। इन्होंने अपने आप को ग़ालिब के आलोचक/critic की हैसियत में ढाल लिया और एक छोटी किताब ग़ालिब की आलोचना लिखी। कुछ दिन अमीर लोगों के बच्चों को पढ़ा कर ज़िंदगी गुज़ारी, यही काम कल्कत्ते में किया लैकिन जल्द ही लखनऊ आ गये। स्कूल में, रिसाले की औत सरकारी नौकरिया करते रहे। लाहोर में भी कोशिश की। फिर हैदराबाद (१९२८-१९४२) में सरकारी दफ़्तरी नौकरी करते रहे। वहां से वज़ीफ़ा (१५ रुपये माहाना) लेकर लखनऊ में रहने लगे। माली तंगी सहन करते रहे। १९४८ से जोश मलीहाबादी की फ़रमा’एश पर हिन्दुस्तानी सरकार से १०० रूपये माहाना मिलता रहा। किसी दोस्त को चिट्ठी में आपत्तिजनक मज़्हबी/धार्मिक बातें लिखीं। उनके दोस्त ने उनकी चिट्ठी छपवा दी। उन के घर के बाहर एक मज्मा जमा’ हुआ और उन को पकड़ कर गधे पर बिठा दिया गया, मुंह काला करके शहर की गलियों में फिराया गया। उन्होंने अपनी साफ़-गोई हमेशा बरक़रार रखी।
१
१-गर्व २-घर ३-शिकारी ४-प्रवेश करना ५-जेल
एक बेगुनाह के लिये ये बड़े गर्व की बात है के वो शिकारी के घर में मेहमान बने और उसकी क़ैद को स्वीकार कर ले। इसके दो मतलब निकाले जा सकते हैं। पहला, उर्दू शा’एरी में ‘सय्याद’ (शिकारी) अक्सर महबूब को कहा जाता है और ‘घर’ का मतलब उसका दिल हो सकता है। इस तरह महबूब के दिल में क़ैद होना फ़ख़्र की बात है। यहाँ ‘बेगुनाह’ वो भोले-भाले प्रेमी हैं जो ख़ुशी-ख़ुशी ‘ज़िंदां’ (जेल) में चले जाते हैं। दूसरा मतलब ये है के ये शे’र अंधे विश्वास और पुरानी सोच पर सवाल उठाता है। यहाँ शिकारी ख़ुद पुरानी कट्टरपंथी सोच है और बेगुनाह वो सीधे-साधे लोग हैं जो बिना सोचे-समझे हर बात मान लेते हैं। उनके लिये अपने ईमान की ये पाबंदी ही गर्व का विषय बन जाती है।
२
१-किनारा २-चिंता ३-तल, गहराई ४-भंवर ५-हाथ में गरेबान पकढना, लढाई करना, हाथा-पाई
कवि या सत्य की खोज में निकला मुसाफ़िर न तो किनारे की चिंता करता है और न ही गहराई की, बल्के उसका असली मक़्सद लहरों और भंवरों का सामना करना है। ये तस्वीर एक ऐसी ज़िंदगी को दिखाती है जो सुरक्षा के बजाय संघर्ष और उथल-पुथल से पहचानी जाती है – यानी संघर्ष को ही जीवन की असल सच्चाई मान लेना। यहाँ किनारे का मतलब है आरामपरस्त ज़िंदगी चुन लेना, और नदी की गहराई में बैठ जाना सोचने-समझने की हिम्मत हार देना है। वहीं लहरों और भंवरों से टकराना बुद्धि और विचार (logic) का इस्तेमाल करना है।
३
१-मज़ा २-सकुशल, सुरक्षित ३-राज़ी, तय्यार
इस शे’र को समझने के लिये पहले इसे गद्य (prose) में शब्द बदले बग़ैर देखते हैं: “जान पर खेल के लज़्ज़त-ए दर्द सलामत है, तो आमादा-ए दर्मां होना आसान नहीं।” यहाँ ‘जान पर खेल कर’ का इस्तेमाल दर्द के मज़े को बचाए रखने के लिये किया गया है। यानी इंसान इस दर्द को ज़िंदा रखने के लिये अपनी जान तक दांव पर लगा देता है। इलाज स्वीकार करना इतना बड़ा जोखिम नहीं है के जान दांव पर लगाई जाए। शा’एरी की दुनिया में ‘दर्द’ का मतलब अक्सर इश्क़ का दुख होता है। इलाज के लिये तय्यार न होना ग़ालिब के इस मिस्रे की याद दिलाता है – “दर्द मिन्नत-कश-ए दवा न हुआ”। लेकिन यगाना के विद्रोही स्वभाव को देखें तो इसका एक और गहरा मतलब है: ‘ लज़्ज़त-ए दर्द’ का अर्थ है उन तार्किक (logical) और बुनियादी सवालों की बेचैनी, जब के इलाज के लिये तय्यार होने का मतलब है बिना सवाल किये किसी आस्था (faith) को मान लेना। एक बार जब कोई सच्चाई की खोज में सब कुछ दांव पर लगा दे, तो फिर वापस पुराने भरोसे पर वापस आना बहुत मुश्किल होता है।
४
१-आत्मा, स्वयं २-समझौता ३-नतीजा ४-हर एक पल ५-पछतावा
यहाँ ‘नफ़्स’ का मतलब आत्मा या स्वयं (self) से है। अपने ‘नफ़्स’ से समझौता कर लेना हर सांस और हर पल पछतावा लेकर आता है। एक साधारण अर्थ ये है के ये शे’र नैतिक कमज़ोरी की आलोचना करता है – के जब इंसान अपनी स्वार्थी इच्छाओं के सामने झुक जाता है, तो उसका ज़मीर उसे हमेशा कोसता रहता है। एक ज़्यादा बौद्धिक मतलब ये हो सकता है के “शांति” या समझौते का अर्थ अपनी वैचारिक ईमानदारी को छोड़ देना और रस्मों-रिवाजों को अपना लेना है, जिससे अंत में पछतावा ही मिलता है।
५
१-काल्पनिक, सोच का २-प्रकट होना, अंग बना, अस्लियत बना ३-शक्की, सवाल उठाना ४-पछताना
एक काल्पनिक वा’दे ने अब एक ठोस शक्ल ले ली है। शक करने वालों को उनके इस पछतावे पर बधाई। यह “वा’दा-ए मौहूम” (काल्पनिक वा’दा) क्या है? साधारण स्तर पर यह महबूब का धोखा या दुनिया का भ्रम हो सकता है। लेकिन यगाना के शब्दों में इसका इशारा परलोक के उन वा’दों और धार्मिक कर्मकांडों की तरफ़ भी हो सकता है जो केवल उम्मीदों पर टिके हैं। इस नज़रिए से ‘बदगुमान’ केवल शक करने वाले नहीं, बल्के वो लोग हैं जो उस वादे पर ही सवाल उठाने लगते हैं। उनका पछतावा दरअस्ल इस बात का एहसास है के वो कभी इन बातों में यक़ीन रखते थे। कवि की बधाई एक तरह का तंज़ (व्यंग्य) है, जो पछतावे को असफ़लता नहीं बल्के भ्रम से आज़ाद होने का पहला संकेत मानती है।
६
१-भूल, ग़लती २-लिखने वाला, क़िस्मत लिखने वाला ३-नतीजा दिखाएगा
क़िस्मत लिखने वाले (कातिब) की ग़लती से मेरा नाम मुसलमानों की लिस्ट में लिख दिया गया है। एक दिन ‘मुस्लिम’ होने का ये लेबल अपना रंग ज़रूर दिखाएगा। मैं कातिब की इस ग़लती को “जन्म का इत्तेफ़ाक़” मानता हूँ। जैसा के उर्दू शाहकार पर मेरे दो अश’आर हैं —
जिस घर में हुआ पैदा, होता न अगर वां तू
तेरे लिये फिर होता, एक अंधा कुंवां और
एक और ग़ज़ल में —
जिस घर में हुआ पैदा, गर तू न वहां होता
ईमां तेरा क्या होता, मस्लक तेरा क्या होता
फिर कवि/यगाना कहता है के मुसलमान होने का ये ठप्पा एक दिन असर दिखाएगा। ये असर अच्छा होगा या बुरा, ये कवि ने साफ़ नहीं किया। अच्छा असर का मतलब ये हो सकता है के शा’एर इस उम्मीद में है के वो शा’एस ईमान ला ले, और बुरा असर समाज और कट्टरपंथियों की वो नाराज़गी हो सकती है जिसका सामना यगाना को अपनी असल ज़िंदगी में करना पड़ा था।
musalmaaN hona – mirza vaajid husain yas yagaana changezi
mirza vaajid husain yaas yagaaNa changezi (1884-1956), aziimabad/paTna. Early pen-name ‘yaas’ (despair) and later ‘yagaaNa’ (unmatched, unique). Egotistical, uncompromising, brusque and acerbic, he did not get along with fellow poets. For some reason he cast himself as a critic of Ghalib. He got a booklet published in which there is a lengthy preface critical of Ghalib and of his many admirers, followed by many rubaaii deriding Ghalib. He tried to make a living tutoring children of rich people, trying the same thing in kalkatta. But soon he came to lucknow and tried working as a teacher, editor and in the government. He even tried his hand in lahore; tried publishing a magazine. Finally (19228-1942) he moved to hyderabad state working in clerical/administrative positions. Retired on a pension of 15 rupees per month and settled in lukhnau. Financial difficulties continued, until 1948, when on the recommendation of josh malihabadi he was awarded 100 rupees a month by the govt of India, which continued for his lifetime. He made some controversial statements about religious belief in a private letter to a ‘friend’, who exposed him and published the letter. He was attacked by a mob, made to ride a donkey through town, sitting backwards, with his face blackened. He remained outspoken to the end.
1.pride 2.home 3.hunter, birdcatcher 4.enter, admitted to 5.prison, cage
It is a matter of pride for the innocent to be a guest in the house of the hunter/captor and to be admitted to his prison. This can be interpreted in two ways. One, in urdu poetry the sayyaad can often be the beloved and Khaana-home could be the heart. Thus, it is a matter of pride to be a ‘guest’ – to be a captive in the heart of a beloved. The begunaah are the unsuspecting/simpleton lovers who willingly enter the zindaaN – the prison. Two, in the light of several of the following ash’aar, this too can be interpreted as questioning blind belief and orthodoxy. In this interpretation, sayyaad is seen as orthodoxy itself and the begunaah as the guileless, uncritical believers. For them bondage of the belief system becomes a matter of pride in their faith.
1.edge, bank 2.river 3.concern 4.bottom 5.wave 6.whirlpool 7.hand on collar, quarrel, fight
The poet/seeker/swimmer is concerned neither with the riverbank nor its depths, but with the struggle against waves and whirlpools. The imagery reflects a life defined by conflict and turbulence rather than safety or certainty – an embrace of existential struggle as the true condition of being. The riverbank can be interpreted as giving in to a life of comfort and the riverbottom as giving up on the struggle to think, while the turbulence of waves and whirlpools are the use of reason and logic.
1.pleasure 2.preserve, protected 3.agree 4.cure, remedy
To interpret this she‘r, I first rewrite it in prose – without changing any words – as: jaan par khel ke lazzat-e dard salaamat hai to aamaada-e darmaaN hona aasaan nahiN. In this arrangement, the phrase jaan par khel ke is applied to the preservation of lazzat-e dard, suggesting a willingness to wager one’s life to keep this pain alive. Applying the phrase instead to aamaada-e darmaaN hona is less persuasive, since accepting a cure does not ordinarily require such existential risk. Within the conventional world of the Ghazal, dard signifies the pain of love, and the verse may recall Ghalib’s dard minnat-kash-e davaa na hua, where the lover cherishes suffering and refuses the obligation of remedy. Yet, given yagaana’s strident resistance to orthodoxy, the meaning can be extended further: lazzat-e dard may suggest the sustaining intensity of rational or existential questioning, while aamaada-e darmaaN hona gestures toward acquiescence in unquestioned faith. Once one has risked everything to preserve the living tension of uncertainty, return to the consolations of certainty becomes profoundly difficult.
1.soul, self 2.peace, agreement 3.result, consequence 4.breath, moment 5.regret, feel ashamed
Here nafs is interpreted as the soul or the self. nafs se sul’h karna – making peace with the self inevitably leads to regret at every breath/moment. A conventional interpretation may be that the verse criticizes self-compromise and moral weakness – once one yields to selfish desires, constant remorse follows as conscience refuses silence. A more intellectually stimulating interpretation may be that “making peace” may mean compromising intellectual integrity and accepting faith/rituals, which can lead to regrets.
1.promise 2.illusory, imaginary, uncertain 3.take shape 4.skeptic, doubting, questioning 5.felicitations 6.regretful, ashamed
An illusory promise has taken concrete form. Felicitations to the skeptics for their regret. What is vaa’da-e mauhoom – who has promised what to whom. The “illusory promise” may, at a conventional level, suggest the beloved’s deception or the broader pattern of worldly self-delusion. Yet the diction also permits a more unsettling extension: the imagined promise of metaphysical reward – afterlife, paradise, and the structures of faith and ritual that crystallize, take shape, soorat pakaRna, around such hope. In this light, the badgumaan are not merely the distrustful but those who begin to doubt the promise itself. Their pashemaani marks the painful recognition of having once believed, and the poet’s ironic felicitation transforms regret into awakening. Thus remorse becomes not failure but the first sign of liberation from illusion.
1.mistake, forgetfulness 2.scribe, writer of fate 3.have an effect
The oversight/mistake of the scribe has added my name to the list of muslims. One day, this label of muslim will have an effect. I read the scribe’s mistake as the “accident of birth”. My own ash’aar elsewhere on this site, in similar spirit read …
The post musalmaaN hona-yaas yagaana chaNgezi appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/yych-buraa-kya-hai-audio.mp3
Recitation
بُرا کیا ہے ۔ مرزا واجد حسین یاسؔ یگانہؔ چنگیزی
۱
حاصلِ فکرِ نارسا کیا ہے
تُو خدا بن گیا بُرا کیا ہے
۲
کیسے کیسے خدا بنا ڈالے
کھیل بندے کا ہے خدا کیا ہے
۳
آئی کو ٹال دے جبھی جانیں
دم بخود ہے تو پھر خدا کیا ہے
۴
دل ہے اپنی جگہ خدا اپنا
ہم غریبوں کا آسرا کیا ہے
۵
دردِ دل کی کوئی دوا نہ دعا
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے
۶
حسن کے ہتھکنڈے ارے توبہ
درد کیا چیز ہے دوا کیا ہے
۷
لد گئی کل کی بات کل کے ساتھ
یاد آئے تو اب مزہ کیا ہے
۸
نہ سنا ہوگا راگ فطرت کا
جانتے ہو میری صدا کیا ہے
۹
وہی نیرنگیِ طِلسمِ ہوا
موج کیا اور بلبلا کیا ہے
۱۰
دیدۂ دل سے دیکھ اپنی طرف
چشمِ حیراں تجھے ہوا کیا ہے
۱۱
نور ہی نور ہے کہاں کا ظہور
اُٹھ گیا پردہ اب رہا کیا ہے
۱۲
رہنے دے حُسن کا ڈھکا پردہ
وقت بے وقت جھانکتا کیا ہے
۱۳
عکس میرا بھی پڑ گیا ناگاہ
ارے آئینے کی خطا کیا ہے
۱۴
وقت کی بات اور وقت کے ہاتھ
سہو کیا چیز ہے، خطا کیا ہے
۱۵
زہر میٹھا نہ ہو تو زہر ہی کیا
دوست جب دے تو پوچھنا کیا ہے
۱۶
کیا ٹلے گی مشیتِ ازلی
اِک تسلّی سی ہے دعا کیا ہے
۱۷
اپنے ہی عکس پر ہو چیں بہ جبیں
کیوں یگانہؔ یہ ماجرا کیا ہے
مرزا واجد حسین یاسؔ یگانہؔ چنگیزی (۱۸۸۴۔۱۹۵۶) عظیم آباد/پٹنا میں پیدا ہوئے۔ شروع میں اپنا تخلص یاسؔ کیا کرتے تھے اور بعد میں یگاناؔ کے تخلص سے شعر کہتے تھے۔ ان کو خود پسند، ضِدّی، ہٹ دھرم اور بد مزاج سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے شعراء سے مانوسیت نہ تھی۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو غالب کے نقّاد کی حیثیت میں ڈھال لیا اور ایک کتابچہ غالب کی تنقید میں لکھا۔ کچھ دن اُمرا کے بچوں کو تعلیم دے کر زندگی گزاری، کچھ دن کلکتّہ میں بھی یہی کام کیا، لیکن جلد ہی لکھنؤ آ گئے اور کچھ مدرسوں میں، رسالوں کے لئے اور سرکاری نوکرییاں کیں۔ لاہور میں بھی کوشش کی اور کچھ رِسالے بھی جاری کئے جو زیادہ نہ چل سکے۔ پھر حیدرآباد میں سرکاری وسطی دفتری نوکری کرتے رہے (۱۹۲۸۔۱۹۴۲)۔ وہاں سے وظیفہ (۱۵ روپئے ماہانہ) لے کر لکھنو میں قیام کیا۔ مالی تنگی برداشت کرتے رہے۔ ۱۹۴۸ میں جوش ملیح آبادی کی سفارش پر ہکومتِ ہند سے ۱۰۰ روپئے ماہانہ اِجرا کئے گئے جو آخر تک ملتے رہے۔ کسی دوست کو چٹھی میں مذہبی حُجّتی، مُباحَثہ طَلَب باتیں لکھیں۔ اُن کے دوست نے فاش کر دیا اور ان کی چِٹھی شائع کر دی۔ اُن کے گھر کے باہر ایک مجمع جمع ہو گیا اور اُن کو پکڑ کر گدھے پہ بٹھا کر منہ کالا کر کے شہر کی گلیوں میں پھرایا گیا۔ انہوں نے اپنی صاف گوئی ہمیشہ برقرار رکھی۔
۱
حاصلِ۱ فکرِ نارسا۲ کیا ہے
تُو خدا بن گیا بُرا کیا ہے
۱۔فائدہ ۲۔جو پہنچ نہیں سکتی
اس شعر میں لفظ “تُو” کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس سے مُراد کوئی انسان ہے تو یگانہ پوچھتے ہیں کہ ایسی سوچ یا بحث کا کیا فائدہ جس کا کوئی منطقی نتیجہ نہ نکل سکے (فکرِ نارسا)۔ اگر اس عمل میں تمہاری انا تمہیں یہ باور کرا دے کہ تم خود خدا ہو، تو پھر ایسا ہی سہی، اس میں برا کیا ہے؟ اور اگر “تُو” سے مراد کوئی “فرضی” خدا ہے، تو پھر اس کے بارے میں بحث و تکرار ہی فضول ہے۔ اسے خدا مان لیا گیا ہے تو بس ٹھیک ہے، بات ختم۔
۲
کیسے کیسے خدا بنا ڈالے
کھیل بندے کا ہے خدا کیا ہے
یگانہ یہ نکتہ اُٹھاتے ہیں کہ “خدا” محض اِنسان کا تخلیق کردہ تصوُّر ہے، بلکہ انسان نے تو اپنی ضرورت کے مطابق کئی طرح کے خدا بنا ڈالے ہیں۔ یہ سب بندے (تخلیق کار) کا کھیل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان تصورات کے پیچھے چھپا انسانی ذہن خود ان تصورات سے کہیں زیادہ دلچسپ اور پُراسرار ہے۔
۳
آئی کو ٹال دے جبھی جانیں
دم بخود۱ ہے تو پھر خدا کیا ہے
۱۔حیران، خاموش، ساکت
یہاں یگانہ خدائی طاقت کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ خدا کی قدرت کا اعتراف تبھی ممکن ہے جب وہ کسی آنے والی مصیبت یا موت (آئی) کو ٹال سکے۔ اگر خدا مصیبت کے وقت خود ہی حیران و ساکت (دم بخود) رہ جائے، تو پھر ایسی ہستی کو خدا ماننے کا فائدہ کیا ہے؟
۴
دل ہے اپنی جگہ خدا اپنا
ہم غریبوں کا آسرا کیا ہے
شاعر یہاں صوفیانہ رنگ اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دل کی اپنی ایک کائنات ہے اور میرا خدا اسی کے اندر بستا ہے (یہ اس بات کا بالواسطہ اعلان بھی ہو سکتا ہے کہ خدا محض ایک شخصی یا اندرونی تصوُّر ہے)۔ وہ غریب اور بے سہارا لوگ جن کا دنیا میں کوئی پرسانِ حال نہیں، ان کے لیے یہ داخلی روحانی پناہ گاہ ہی سب سے بڑی قوت ہے۔
۵
دردِ دل کی کوئی دوا نہ دعا
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے
دل کے درد کا علاج نہ دوا سے ممکن ہے نہ دعا سے۔ وہ خدا سے فریاد کرتا ہے کہ یہ کیسا عجیب اور ناقابلِ حل معاملہ ہے؟ کیا یہ اس سوچ کا اعادہ ہے کہ خدا خود اس معاملے میں بے بس اور “دم بخود” ہے؟
۶
حسن کے ہتھکنڈے۱ ارے توبہ
درد کیا چیز ہے دوا کیا ہے
۱۔چالاکیاں، چال، ہیر پھیر
یہاں شاعر حسن یا محبوب کے “ہتھکنڈوں” (عیاریوں) پر حیرت زدہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبوب کی چالاکیوں کی وجہ سے درد اور دوا کا فرق ہی مٹ گیا ہے۔ محبوب جو دوا (ایک مسکراہٹ یا نظرِ کرم) دیتا ہے، وہ خود ایک نیا دردِ ہجر بن جاتی ہے۔
۷
لد۱ گئی کل کی بات کل کے ساتھ
یاد آئے تو اب مزہ کیا ہے
۱۔سامان لادنا، سواری پر رکھ دینا
جو کچھ کل ہوا تھا، وہ اسی سواری پر لد کر رخصت ہو گیا جس پر “کل” کا دن لادا گیا تھا۔ اب ان پرانی یادوں کو دہرانے میں نہ کوئی لطف ہے اور نہ ہی کوئی مزہ۔
۸
نہ سنا ہوگا راگ فطرت۱ کا
جانتے ہو میری صدا کیا ہے
۱۔قدرت
یگانہ اپنی منفرد اور شاید غلط سمجھی جانے والی آواز کے بارے میں کہتے ہیں کہ عام لوگوں نے “فطرت کا راگ” (حقیقتِ کائنات) نہیں سنا، اسی لیے وہ میری پکار کی گہرائی یا اس کے اصل مفہوم کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
۹
وہی نیرنگیِ۱ طِلسمِ۲ ہوا
موج کیا اور بلبلا کیا ہے
۱۔دھوکا ۲۔جادو
یہ سب ہوا کا ایک طلسم اور دھوکا ہے، چاہے وہ ہوا کا جھونکا ہو، لہر ہو یا پھوٹتا ہوا بلبلا۔ یہاں شاید یہ اشارہ ہے کہ زندگی بذاتِ خود ایک عارضی اور فانی تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
۱۰
دیدۂ۱ دل سے دیکھ اپنی طرف
چشمِ۲ حیراں تجھے ہوا کیا ہے
۱۔بینائی ۲۔آنکھ
وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں “دیدۂ دل” سے اپنی حقیقت کو دیکھنا چاہیے، جو کہ ایک سچی اور کھری بصیرت ہے۔ وہ ان آنکھوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو باہر کی دنیا میں حیران و پریشان بھٹک رہی ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ جب حقیقت تمہارے اندر چھپی ہے تو باہر کی دنیا سے اتنے متاثر کیوں ہو؟
۱۱
نور۱ ہی نور ہے کہاں کا ظہور۲
اُٹھ گیا پردہ اب رہا کیا ہے
۱۔روشنی، تجلّی ۲۔دکھائی دینا، ظاہر ہونا
اس شعر کی روایتی صوفیانہ تشریح یہ ہے کہ ہر طرف نورِ الٰہی ہے تو ظہور کی کیا ضرورت، لیکن غزل کے اِلہادی atheistic خیالات اور اشعار کے تسلسل میں اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ علم اور عقل کی روشنی ہر طرف پھیل رہی ہے، اور اس روشنی میں کوئی “ظہورِ غیبی” نظر نہیں آتا۔ “کہاں کا ظہور” کا لہجہ طنزیہ ہے اور “اٹھ گیا پردہ” کا مطلب ہے کہ اب راز فاش ہو چکا ہے اور حقیقت سامنے آگئی ہے۔ اب چھپنے کی کوئی جگہ نہیں بچی۔
۱۲
رہنے دے حُسن کا ڈھکا پردہ
وقت بے وقت جھانکتا کیا ہے
اگر اسے غزل کے مسلسل مضمون کے طور پر دیکھا جائے تو شاید شاعر ایک ہمدردانہ اشارہ کر رہا ہے کہ “حسن” (خدائی جاہ و جلال کے وہم) پر پردہ ہی پڑا رہنے دو۔ وہ شاید خود سے مخاطب ہے کہ تم کیوں بار بار بے وقت ان اسرارِ الٰہی میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہو، کچھ رازوں کا ڈھکا رہنا ہی بہتر ہے۔
۱۳
عکس میرا بھی پڑ گیا ناگاہ۱
ارے آئینے کی خطا۲ کیا ہے
۱۔اچانک، بِنا سوچے سمجھے ۲۔غلطی
پہلے مصرے میں “میں” کون ہے واضح نہیں ہے۔ شاعر خود یا سُننے والا۔ دونوں طرح سے دیکھتے ہیں۔ (ا)شاعر خود ۔ یہ یگانہ کی مخصوص خود آگاہی اور طنز و مزاح کا شاہکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آئینہ ٹوٹا یا لرزا تو اس میں آئینے کی کیا خطا؟ یہ تو میری اپنی شخصیت کی تابناکی اور شِدّت تھی جس کا عکس اچانک اس پر پڑ گیا۔ (ب)سُننے والا۔ غزل خود آئینہ ہے جو دنیا کی، سُننے والے کی اصلیت دِکھاتی ہے۔ دیکھنے والے کو آئینے میں بال یا گندگی نظر آئی جو اندھی تقلید کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ اگر آئینہ یہ سچّائی دکھائے اور دیکھنے والے کو یہ سمجھنا ہے کہ یہ آئینے کی غلطی نہیں ہے۔
۱۴
وقت کی بات اور وقت کے ہاتھ
سہو۱ کیا چیز ہے، خطا۲ کیا ہے
۱۔اِتّفاق، بھول ۲۔غلطی
یہاں “وقت” سے مراد وقت کی بے رحم رو، فطرت یا تقدیر ہو سکتی ہے۔ ہم سب وقت اور فطرت کے ہاتھوں میں محض کھلونے ہیں، تو پھر انسانی غلطیوں یا خطاؤں پر کسی کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جائے؟
۱۵
زہر میٹھا نہ ہو تو زہر ہی کیا
دوست جب دے تو پوچھنا کیا ہے
چونکہ یہ ایک مسلسل غزل ہے جس کا موضوع انتہائی متنازع اور دھماکہ خیز ہے، اس لیے یگانہ اصل مفہوم کو چھپانے پر مجبور ہیں۔ یہاں “زہر” سے مراد “اندھی تقلید” کا زہر ہے جو مستقبل کے حسین وعدوں اور واہموں کی وجہ سے “میٹھا” لگتا ہے۔ “دوست” یہاں خود خدا کی ذات ہو سکتی ہے۔ جب ایک “دوست” چینی چڑھا ہوا زہر دے رہا ہو تو کوئی سوال کیسے کر سکتا ہے؟ یوں انسان اندھی تقلید کی دلدل میں گر جاتا ہے۔
۱۶
کیا ٹلے گی مشیتِ۱ ازلی۲
اِک تسلّی سی ہے دعا کیا ہے
۱۔(خدا کی) مرضی ۲۔شروع
شاعر ابدی تقدیر (مشیتِ ازلی) کے اٹل ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دعا دراصل لکھے ہوئے کو بدلتی نہیں، بلکہ یہ تو محض انسانی روح کے لیے ایک عارضی تسلی اور دلاسہ پانے کا ذریعہ ہے۔
۱۷
اپنے ہی عکس پر ہو چیں بہ جبیں۱
کیوں یگانہؔ یہ ماجرا۲ کیا ہے
۱۔پُر شِکن پیشانی، نارازگی، غصہ ۲۔حال، کیفیت
مقطع میں یگانہ خود سے مخاطب ہیں۔ وہ آئینے میں اپنے ہی عکس کو دیکھ کر ماتھے پر بل لائے ہوئے (چین بہ جبیں) اور بیزار ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ انہیں اپنے آپ سے یا اپنی پہچان سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ شاید وہ یہاں سامعین سے مخاطب ہیں جو یگانہ کے کلام میں اپنا عکس (اپنی اندھی تقلید کی حقیقت) دیکھ کر بیزار ہو رہے ہیں۔ وہ طنزاً پوچھتے ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے، تم اتنے پریشان کیوں ہو؟
बुरा क्या है – मिर्ज़ा वाजिद हुसैन यास यगाना चंगेज़ी
१
हासिल-ए फ़िक्र-ए नारसा क्या है
तू ख़ुदा बन गया बुरा क्या है
२
कैसे कैसे ख़ुदा बना डाले
खेल बंदे का है ख़ुदा क्या है
३
आई को टाल दे जब’ही जानें
दम ब-ख़ुद है तो फिर ख़ुदा क्या है
४
दिल है अपनी जगह ख़ुदा अपना
हम ग़रीबों का आसरा क्या है
५
दर्द-ए दिल की कोई दवा न दुआ
या इलाही ये माजरा क्या है
६
हुस्न के हथकंडे अरे तौबा
दर्द क्या चीज़ है दवा क्या है
७
लद गई कल की बात कल के साथ
याद आए तो अब मज़ा क्या है
८
न सुना होगा राग फ़ितरत का
जानते हो मेरी सदा क्या है
९
वही नैरंगी-ए तिलस्म-ए हवा
मौज क्या और बुलबुला क्या है
१०
दीदा-ए दिल से देख अपनी तरफ़
चश्म-ए हैराँ तुझे हुआ क्या है
११
नूर ही नूर है कहाँ का ज़ुहूर
उठ गया पर्दा अब रहा क्या है
१२
रहने दे हुस्न का ढका पर्दा
वक़्त बे-वक़्त झाँकता क्या है
१३
अक्स मेरा भी पड़ गया नागाह
अरे आईने की ख़ता क्या है
१४
वक़्त की बात और वक़्त के हाथ
सहव क्या चीज़ है, ख़ता क्या है
१५
ज़हर मीठा न हो तो ज़हर ही क्या
दोस्त जब दे तो पूछना क्या है
१६
क्या टलेगी मशी’यत-ए अज़ली
एक तसल्ली सी है दुआ क्या है
१७
अपने ही अक्स पर हो चीं-ब-जबीं
क्यूं यगाना ये माजरा क्या है
मिर्ज़ा वाजेद हुसैन यास यागना चंगेज़ी (१८८४-१९५६) अज़ीमआबाद/पटना में पैदा हुए। शुरू में अपना तख़ल्लुस यास किया करते थे और बाद में यगाना के तख़ल्लुस से शे’र कहते थे। इन को ख़ुद पसंद, ज़िद्दी, हट धर्मी और बद-मिज़ाज समझा जाता था। दूसरे शो’अरा से दोस्ती ज़्यादा नहीं थी। इन्होंने अपने आप को ग़ालिब के आलोचक/critic की हैसियत में ढाल लिया और एक छोटी किताब ग़ालिब की आलोचना लिखी। कुछ दिन अमीर लोगों के बच्चों को पढ़ा कर ज़िंदगी गुज़ारी, यही काम कल्कत्ते में किया लैकिन जल्द ही लखनऊ आ गये। स्कूल में, रिसाले की औत सरकारी नौकरिया करते रहे। लाहोर में भी कोशिश की। फिर हैदराबाद (१९२८-१९४२) में सरकारी दफ़्तरी नौकरी करते रहे। वहां से वज़ीफ़ा (१५ रुपये माहाना) लेकर लखनऊ में रहने लगे। माली तंगी सहन करते रहे। १९४८ से जोश मलीहाबादी की फ़रमा’एश पर हिन्दुस्तानी सरकार से १०० रूपये माहाना मिलता रहा। किसी दोस्त को चिट्ठी में आपत्तिजनक मज़्हबी/धार्मिक बातें लिखीं। उनके दोस्त ने उनकी चिट्ठी छपवा दी। उन के घर के बाहर एक मज्मा जमा’ हुआ और उन को पकड़ कर गधे पर बिठा दिया गया, मुंह काला करके शहर की गलियों में फिराया गया। उन्होंने अपनी साफ़-गोई हमेशा बरक़रार रखी।
१
हासिल१-ए फ़िक्र२-ए नारसा३ क्या है
तू ख़ुदा बन गया बुरा क्या है
१-वसूल, लाभ, फ़ा’एदा २-सोच, विचार ३-जो पहुंचती न हो
इस शेर में सबसे ज़रूरी शब्द ‘तू’ है। अगर ‘तू’ से मतलब कोई इंसान है, तो यगाना पूछ रहे हैं के ऐसी सोच का क्या फ़ा’एदा जो किसी नतीजे तक न पहुँच सके (फ़िक्र-ए नारसा)। अगर इस चक्कर में तुम्हारी अना (ego) तुम्हें यह यक़ीन दिला दे कि तुम ख़ुद ख़ुदा हो, तो फिर वैसा ही सही, इसमें बुरा क्या है? और अगर ‘तू’ से मतलब कोई ‘ख़याली’ ख़ुदा है, तो फिर उसके बारे में बहस करना ही बेकार है। उसे ख़ुदा मान लिया गया है तो बस बात ख़त्म।
२
कैसे कैसे ख़ुदा बना डाले
खेल बंदे१ का है ख़ुदा क्या है
१-भक्त, इंसान
यगाना यहाँ ये कह रहे हैं के ‘ख़ुदा’ सिर्फ़ इंसान का बनाया हुआ एक कॉन्सेप्ट है; बल्के इंसान ने तो अपनी ज़रूरत के हिसाब से कई तरह के ख़ुदा बना डाले हैं। ये सब बंदे (इंसान) का ‘खेल’ है। इसका मतलब ये है के इन कॉन्सेप्ट्स के पीछे छिपा इंसानी दिमाग़ ख़ुद इन कॉन्सेप्ट्स से कहीं ज़्यादा दिलचस्प है।
३
आई१ को टाल दे जब’ही जानें
दम-ब-ख़ुद२ है तो फिर ख़ुदा क्या है
१-आई बला, मुसीबत २-चुप, सांध, सक्ता
यहाँ यगाना ख़ुदाई ताक़त को चैलेंज कर रहे हैं। वो कहते हैं के ख़ुदा की ताक़त को तभी माना जा सकता है जब वो आने वाली मुसीबत या मौत (आई) को टाल सके। अगर ख़ुदा मुसीबत के वक़्त ख़ुद ही सन्न या हैरान (दम-ब-ख़ुद) रह जाए, तो फिर ऐसी हस्ती को ख़ुदा मानने का मतलब ही क्या है?
४
दिल है अपनी जगह ख़ुदा अपना
हम ग़रीबों का आसरा क्या है
शा’एर यहाँ सूफ़ी अंदाज़ अपनाते हुए कहते हैं के दिल की अपनी एक जगह है और मेरा ख़ुदा उसी के अंदर रहता है (ये इस बात का इशारा भी हो सकता है के ख़ुदा सिर्फ़ एक पर्सनल या दिमाग़ी सोच है)। वो ग़रीब लोग जिनका दुनिया में कोई सहारा नहीं, उनके लिए ये अंदरूनी रूहानी पनाह ही सबसे बड़ी ताक़त है।
५
दर्द-ए दिल की कोई दवा न दुआ
या इलाही१ ये माजरा२ क्या है
१-भगवान २-हाल
शा’एर दिल के दर्द का ज़िक्र कर रहा है जिसका इलाज न दवा से मुमकिन है न दुआ से। वो ख़ुदा से पूछता है के ये कैसा अजीब मामला है जिसका कोई हल नहीं? क्या ये उसी बात को दोहराना है के ख़ुदा ख़ुद इस मामले में बेबस और ‘दम-ब-ख़ुद’ है?
६
हुस्न१ के हथकंडे२ अरे तौबा३
दर्द क्या चीज़ है दवा क्या है
१-सौंदर्य, महबूब २-चाल, चालाकी ३-भगवान बचाए
यहाँ शा’एर हुस्न या महबूब की ‘चालों/चतुरता’ (हथकंडों) पर हैरान है। वो कहता है के महबूब की चालाकियों की वजह से दर्द और दवा का फ़र्क़ ही मिट गया है। महबूब जो दवा (एक मुस्कुराहट या एक नज़र) देता है, वो ख़ुद एक नया दर्द बन जाती है।
७
लद१ गई कल की बात कल के साथ
याद आए तो अब मज़ा क्या है
१-लादना-उठाना, उठा कर रखना, सवारी पर रखना
जो कुछ कल हुआ था, वो उसी सवारी पर लद कर चला गया जिस पर ‘कल’ का दिन लादा गया था। अब उन पुरानी यादों को दोहराने में न कोई मज़ा है और ना ही कोई स्वाद।
८
न सुना होगा राग फ़ितरत१ का
जानते हो मेरी सदा२ क्या है
१-परकृती २-आवाज़, पुकार
यगाना अपनी अलग और शा’एद ग़लत समझी जाने वाली आवाज़ के बारे में कहते हैं के आम लोगों ने ‘फितरत का राग’ (कुदरत की असलियत) नहीं सुना, इसीलिए वो मेरी पुकार की गहराई को नहीं समझ सकते।
९
वही नैरंगी१-ए तिलस्म२-ए हवा
मौज क्या और बुलबुला क्या है
१-धोखा २-जादू
ये सब हवा का एक जादू और धोखा है, चाहे वो हवा का झोंका हो, लहर हो या फूटता हुआ बुलबुला। यहाँ शा’एद ये इशारा है के ज़िंदगी ख़ुद एक थोड़े समय के धोखे के सिवा कुछ नहीं है।
१०
दीदा१-ए दिल से देख अपनी तरफ़
चश्म२-ए हैराँ३ तुझे हुआ क्या है
१-आंख, नज़र २-आंख ३-आश्चर्य
वो मशविरा देते हैं के हमें ‘दीदा-ए दिल’ (दिल की आँख) से अपनी असलियत को देखना चाहिए। वो उन आँखों का मज़ाक़ उड़ाते हैं जो बाहर की दुनिया में हैरान-परेशान भटक रही हैं, और पूछते हैं के जब सच तुम्हारे अंदर छिपा है तो बाहर की दुनिया से इतने चकराए हुए क्यों हो?
११
नूर१ ही नूर है कहाँ का ज़ुहूर२
उठ गया पर्दा अब रहा क्या है
१-रौशनी, प्रकाश २-प्रकट होना
इस शे’र की पारंपरिक/रिवाजी व्याख्या ये है के हर तरफ़ ख़ुदा का नूर है तो दिखने (ज़ुहूर) की क्या ज़रूरत। लेकिन इस पूरी गज़ल की ‘नास्तिक’ सोच के हिसाब से इसका मतलब ये है के ‘ज्ञान की रोशनी’ हर तरफ़ फैल रही है। इस रोशनी में कोई ‘चमत्कार’ नज़र नहीं आता। ‘कहाँ का ज़ुहूर’ कह कर वो मज़ाक उड़ा रहे हैं और ‘उठ गया पर्दा’ का मतलब है के अब राज़ खुल चुका है और सच सामने आ गया है। अब तुम्हारे पास छिपने की कोई जगह नहीं बची।
१२
रहने दे हुस्न१ का ढका पर्दा
वक़्त बे-वक़्त झाँकता क्या है
१-सौंदर्य, महबूब, परमात्मा
अगर इसे एक ही थीम पर चलती गज़ल के तौर पर देखें, तो शा’एद शा’एर एक हमदर्दी दिखा रहा है के ‘हुस्न’ (ख़ुदा की शान के वहम) पर पर्दा ही पड़ा रहने दो। वो शायद ख़ुद से कह रहा है के तुम क्यूं बार-बार ग़लत वक़्त पर इन ख़ुदाई रहस्यों में झाँकने की कोशिश करते हो, कुछ राज़ों का ढका रहना ही बेहतर है।
१३
अक्स मेरा भी पड़ गया नागाह
अरे आईने की ख़ता क्या है
पहले मिसरे में “मेरा” कौन है स्पष्ट नहीं है। शा’एर ख़ुद या सुनने वाला। दोनों तरह से समझते हैं। (अ)शा’एर ख़ुद – ये यगाना की अपनी पहचान और तंज़ (व्यंग्य) का बेहतरीन नमूना है। वो कहते हैं के आईना टूटा या चटका तो इसमें आईने की क्या ग़लती? ये तो मेरी अपनी शख़्सियत की चमक और ताक़त थी जिसका अक्स (परछाई) अचानक उस पर पड़ गया। (ब)सुनने वाला – ग़ज़ल ख़ुद एक आईना है जो दुनिया की और दुनिया वालौं की अस्लियत दिखाती है। देखने वाले को अगर इस में अपनी बदसूरती – अंघ विश्वास की गंद दिखाई दे तो इस में आईने का क्या दोष हो सकता है।
१४
वक़्त की बात और वक़्त के हाथ
सहव१ क्या चीज़ है, ख़ता२ क्या है
१-भुल २-ग़लती
यहाँ ‘वक़्त’ का मतलब वक़्त की बेरहम चाल, क़ुदरत या क़िस्मत हो सकता है। हम सब वक़्त और क़ुदरत के हाथों में महज़ खिलौने हैं, तो फिर इंसानी ग़लतियों या ख़ताओं के लिये किसी इंसान को क़ुसूरवार क्यूं ठहराया जाए?
१५
ज़हर मीठा न हो तो ज़हर ही क्या
दोस्त जब दे तो पूछना क्या है
चूंके ये एक ही विषय पर लिखी गज़ल है जिसका मुद्द’आ बहुत विवादित है, इसलिए यगाना असल मतलब को छिपाने पर मज्बूर हैं। यहाँ ‘ज़हर’ का मतलब ‘अंधी श्रद्धा’ (blind belief) का ज़हर है जो जन्नत के वादों की वजह से ‘मीठा’ लगता है। ‘दोस्त’ यहाँ ख़ुद ख़ुदा हो सकता है। जब एक ‘दोस्त’ चीनी चढ़ा हुआ ज़हर दे रहा हो तो कोई सवाल कैसे कर सकता है? इस तरह इंसान अंधी श्रद्धा के जाल में गिर जाता है।
१६
क्या टलेगी मशी’यत१-ए अज़ली२
एक तसल्ली३ सी है दुआ क्या है
१-भगवान की इच्छा, क़िस्मत का लिखा २-अमर, शुरू हि से ३-दिलासा
शा’एर अटल क़िस्मत (मशियत-ए अज़ली) के सच को स्वीकार करता है। वो कहता है के दुआ दरअस्ल लिखे हुए को बदलती नहीं, बल्के ये तो महज़ इंसान के दिल को एक थोड़े समय की तसल्ली और दिलासा देने का ज़रिया है।
१७
अपने ही अक्स पर हो चीं-ब-जबीं१
क्यूं यगाना२ ये माजरा३ क्या है
१-पेशानी पर झुर्रियां, ग़ुस्सा २-उपनाम ३-हाल
आख़िरी शेर में यगाना ख़ुद से बात कर रहे हैं। वो आईने में अपनी ही परछाई को देखकर माथे पर बल लाए हुए (नाराज़) हैं। वो पूछते हैं के उन्हें अपनी ही पहचान से इतनी उलझन क्यूं है? शा’एद वो यहाँ सुनने वालों (audience) से कह रहे हैं जो यगाना की बातों (आईना) में अपनी असलियत (अंधी श्रद्धा) देख कर चिढ़ रहे हैं। वो मज़ाक़ में पूछते हैं के आख़िर मामला क्या है, तुम अपनी ही असलियत देख कर इतने परेशान क्यूं हो?
buraa kya hai – mirza vaajid husain yaas yaganaa chaNgezi
mirza vaajid husain yaas yagaana changezi (1884-1956), aziimabad/paTna. Early pen-name ‘yaas’ (despair) and later ‘yagaana’ (unmatched, unique). Egotistical, uncompromising, brusque and acerbic, he did not get along with fellow poets. For some reason he cast himself as a critic of Ghalib. He got a booklet published in which there is a lengthy preface critical of Ghalib and of his many admirers, followed by many rubaaii deriding Ghalib. He tried to make a living tutoring children of rich people, trying the same thing in kalkatta. But soon he came to lucknow and tried working as a teacher, editor and in the government. He even tried his hand in lahore; tried publishing a magazine. Finally (1928-1942) he moved to hyderabad state working in clerical/administrative positions. Retired on a pension of 15 rupees per month and settled in lukhnau. Financial difficulties continued, until 1948, when on the recommendation of josh malihabadi he was awarded 100 rupees a month by the govt of India, which continued for his lifetime. He made some controversial statements about religious belief in a private letter to a ‘friend’, who exposed him and published the letter. He was attacked by a mob, made to ride a donkey through town, sitting backwards, with his face blackened. He remained outspoken to the end.
The “key word” is “tuu” in the second misra. Who is it? If by “tuu” is meant a fellow human being, then … what is the use of continuing to think/argue about something that is fikr-e raa-rasaa – reason/thought that cannot reach a conclusion. If in the process your ego leads you to think that you are god, then “so be it” – what’s wrong with that. If by “tuu” is meant an “imaginary” god, then what is the use of thinking/arguing about it. He has become/has been declared god, then “so be it”.
1.servant, devotee
yagaana suggests that “god” is just a concept created by humans; in fact he has created many gods of all shapes and forms. It is a “game” played by the devotee, implying that the creators of these concepts are more fascinating than the concepts themselves.
1.avert, avoid 2.only then 3.stunned, speechless, overwhelmed
yagaana challenges the power of divinity. He argues that one truly knows “god” only if that power can avert an impending misfortune or death (aa’ii). If god remains stunned/overwhelmed (dam ba-Khud) when in the face of misfortune, then what is the point of such a deity?
1.support
The poet shifts to a more internal, sufi-like perspective. He claims that the heart is its own space and his god resides within it (this may be an oblique declaration that god is only a subjective concept). For the poor and marginalized, who have no worldly support, this internal spiritual refuge is their only true strength.
1.god 2.situation
The poet faces a heartache that neither medicine (dava) nor prayer (dua) can cure. He cries out to the almighty, asking what this strange, unsolvable situation is supposed to be. Is this a restatement of the thought that god is dam ba-Khud/stunned and is helpless.
1.beauty, beloved 2.sleight of hand, tricks 3.pardon me, heaven help me
Here, the poet marvels at the “tricks” of beauty/beloved. He suggests that because of the trickery of the beloved, the distinction between the pain of longing and the cure for that pain disappears; the cure that she offers (a smile or a glance) itself becomes a pain of longing.
1.loaded, heavy
Whatever happened yesterday was loaded on the same vehicle on which yesterday traveled and went away. Re-living those memories now is not pleasurably, has no taste.
1.nature 2.voice, call
yagaana speaks to his own unique, perhaps misunderstood, voice. He suggests that common people haven’t heard the true “melody of nature,” and therefore, they cannot possibly understand the depth or the meaning of his particular cry or call.
1.deception, trickery 2.illusion, magic 3.bubble
It is the same trickery, the same illusion of reality/permanence whether it be a gust of wind, a ripple on water or a bursting bubble. Perhaps what is implied is that life itself is fleeting like this deceptive illusion.
1.eyeball 2.towards 3.eye 4.amazed
He suggests that we look inward using the “eye of the heart”, a sincere truthful look. He mocks the “startled eye” that looks outward in confusion, asking why it is so distracted by the external world when the truth lies within.
1.light, effulgence 2.manifestation, appearance
This she’r can be interpreted in a sufi sense … divine light is everywhere, why is there a need for manifestation. The veil is lifted and we realize that the observer and the observed are one. But this interpretation is anachronistic with the opening ash’aar and the flow of thought in the Ghazal (which can be considered a musalsil Ghazal or a nazm). Here is an alternate interpretation. The light of knowledge/reason is spreading all around. In this light we see no manifestation … “kahaaN ka zuhuur” can have a mocking tone to it and “uTh gaya parda” can imply that the secret is out … now we know the truth. What else remains – ab kya raha can imply – what else is there to see or you have nowhere to hide. Thus, yagaana creates a double and opposing interpretation.
1.beauty, beloved, divine 2.random, inappropriate, again and again
If this is taken in the spirit of a continuous theme then perhaps the poet is making a gesture of kindness … there is no need to life the veil off “beauty” – the illusion of divine glory. Perhaps the second misra is addressing himself – why to you constantly “peek” or pry into the mysteries of the divine or the beautiful at inappropriate times, suggesting some mysteries are better left covered.
1.reflection 2.unexpectedly 3.fault
In the first misra “mera” is not defined. It can the poet himself or one of his listeners. Let us look at two interpretations. (a)the poet himself – This is a classic yagaana moment of sarcastic self-awareness and wit. He says his own reflection accidentally fell upon the mirror; if the mirror “cracked” or reacted, it wasn’t the mirror’s fault – it was the intensity of the poet’s own presence. (b)the audience. In this interpretation the Ghazal itself is the mirror. It reflects the world as it is. It shows the listener what he is. To him the mirror looks “cracked” – reflecting the ugly truth of blind belief. How can this be the fault of the mirror.
1.mistake 2.fault
Perhaps “vaqt” means the unrelenting fow of time/nature/fate. We are all tools in the hands of time/nature/fate, why blame humans for what happens.
This is a musalsil or thematic Ghazal in which ash’aar maintain a thematic relationship/flow. The theme is highly controversial/explosive. Given the anticipated reaction of the orthodoxy, yagaana is forced to hide its real meaning. The she’r has to be interpreted beyond the literal translation. Here zahr is the poison of blind belief and it is miiTha because it is coated with illusions and promises of a sublime future and dost can be the divine itself. When a friend offers you sugar coated poison, how can you even question it. Thus, we fall into blind belief.
1.pass by, avoid, escape 2.ordained fate 3.eternal, inevitable 4.consolation
The poet acknowledges the inevitability of eternal fate (mashii’yyat-e-azali). He suggests that prayer (dua) doesn’t actually change what is written; rather, it is just a way for the human soul to find a little bit of comfort and consolation.
1.reflection 2.furrowed brow, frown 3.pen-name 4.condition, situation
In the closing signature couplet, yagaana addresses himself. He finds himself frowning or annoyed at his own reflection in the mirror. He asks himself why he is so conflicted with his own image, highlighting his lifelong struggle with his own identity and ego. Perhaps he is addressing the audience … they see their own image in the words of yagaana and are annoyed at what they see – their own blind belief. What’s the matter – he asks.
The post buraa kya hai-mirza vaajid husain yaas yagaana chaNgezi appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/02/bnch-subh-ko-aazaad-kiya-audio.mp3
Recitation
صبح کو آزاد کیا ۔ پنڈت برج نرائن چکبستؔ
۱
باغباں نے یہ انوکھا سِتم ایجاد کیا
آشیاں پھونک کے پانی کو بہت یاد کیا
۲
درِ زنداں پہ لکھا ہے کسی دیوانے نے
وہی آزاد ہے جس نے اِسے آباد کیا
۳
یاد رہ جائے گا ارمانِ اسیری میرا
جِس نے اِس باغ میں صیّاد کو صیّاد کیا
۴
نیند کیا آئے شہادت کے طلبگاروں کو
فکر رہتی ہے ستمگر نے کسے یاد کیا
۵
ڈر گیا نالۂ شبگیر سے میرا صیّاد
شام کو قید کیا صبح کو آزاد کیا
۶
لذّتِ درد کی معراج دکھانے کے لیے
مجھ کو بِسمل تجھے اللہ نے جلّاد کیا
۷
جِس پہ احباب بہت روئے فقط اِتنا تھا
گھر کو ویران کیا قبر کو آباد کیا
۸
عقل کیا چیز ہے اِک وضع کی پابندی ہے
دل کو مُدّت ہوئی اِس قید سے آزاد کیا
۹
جس کفِ پاک کو آنکھوں پہ فرشتوں نے لیا
کیوں خراباتِ جہاں میں اُسے برباد کیا
۱۰
دم نہیں ہے رگِ سودا میں بہار آخر ہے
کیا کروں گا جو مجھے قید سے آزاد کیا
۱۱
اِس کو ناقدریِ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
پنڈت برج نرائن چکبست (۱۸۸۲۔۱۹۲۶) فیضآباد میں کشمیری برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ۳۔۴ سال کی عمر میں ہی والد کا اِنتقال ہو گیا اور اِن کی ماں کو بھائی کے ساتھ لکھنؤ میں سکونت اِختیار کرنا پڑا۔ گھر میں مولوی صاحب سے اُردو، فاررسی اور عربی کی تعلیم ہوئی اور اسکول، کالج سے بی۔اے (۱۹۰۵) کرنے کے بعد اِلہ آباد سے ایل۔ایل۔بی (۱۹۰۷) کامیاب کیا اور لکھنؤ میں وکالت کرنے لگے۔ وکالت بہت کامیاب رہی اور ہائی کورٹ میں کام کرنے لگے۔ افسوس کہ رائے بریلی میں ایک قانونی مقدمہ سے واپسی کے دوران ریلوے اسٹیشن پر ہی فالج کا دَورا پڑا اور اُسی شام کم عمر میں اِنتقال کر گئے۔ سیساسی مسائل اور کارناموں میں سرگرم رہا کرتے تھے۔ قومی اِتّحاد کے لئے بہت محنت کی اور کشمیر میں نوجوانوں کی تنظیم قائم کی۔ اپنے پیشے، سیاسی سرگرمی اور خاندانی ذمّہ داریوں کی وجہ سے کلام زیادہ ضخیم نہیں ہے۔ اُن کا کلام اِنتقال کے بعد جمع کر کے شائع کیا گیا۔
۱
باغباں نے یہ انوکھا سِتم ایجاد کیا
آشیاں۱ پھونک۲ کے پانی کو بہت یاد کیا
۱۔گھونسلا ۲۔جلا کر
یہ انوکھا سِتم ہے کہ پہلے خود آشیاں کو آگ لگائے اور خود ہی پانی کی تلاش کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اِشارہ کیا ہے۔ اُردو شاعری میں شاعر اکثر اپنے آپ کو پرند/طائر سے تشبیہ دیتا ہے اور یہ اُس کا آشیاں ہے جو جل گیا ہے۔ لیکن باغباں کون ہو سکتا ہے؟ محبوب کا باغباں ہونا غیر رِوائتی بات ہوگی۔ سیاسی نکتۂ نظر سے دیکھا جائے تو باغباں حاکم ہو سکتا ہے (زمانے کے حساب سے انگریز سرکار)۔ یہ تعصب کا فساد لگا کر آشیاں جلاتے ہیں اور پھر خود ہی آگ بجھانے کے لئے پانی طلب کرتے ہیں۔ اگر باغباں کو محبوب سمجھا جائے تو وہ دل (آشیاں) میں محبّت کی آگ لگاتی ہے اور تسلّی دے کر آگ بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔
۲
درِ۱ زنداں۲ پہ لکھا ہے کسی دیوانے نے
وہی آزاد ہے جس نے اِسے آباد کیا
۱۔دروازہ ۲۔قید خانہ، جیل
کوئی دیوانہ قید کر دیا گیا ہے لیکن قید خانے کا دروازے پر لکھتا ہے کہ اصلیت میں وہی آزاد جس نے اِس قید خانے کو آباد کیا ہے، جو باہر ہیں وہ اصلاً آزاد نہیں ہیں۔ یہ دیوانہ کون ہو سکتا ہے؟ (۱)شائد شاعر یا کوئی باغی ہو جس نے اقتدار کے خلاف اِحتجاج کیا اور قید کر دیا گیا۔ اُس کے خیال میں اِس اِحتجاج ہی میں آزادی ہے۔ (۲)شائد کوئی عاشق ہو جو محبّت کے زنداں میں قید کیا گیا ہے۔ محبّت کی قید کو تسلیم کرنے میں ہی آزادی ہے۔ (۳)شائد کوئی صوفی ہو جس کے خیال میں یہ دنیوی زندگی ایک قید ہے جس سے آزادی صرف فنا سے مِل سکتی ہے۔
۳
یاد رہ جائے گا ارمانِ۱ اسیری۲ میرا
جِس نے اِس باغ میں صیّاد۳ کو صیّاد کیا
۱۔آرزو، تمنّا ۲۔قید، گرفت ۳۔شکاری، قید کرنے والا، محبوب
عاشق کی محبّت کامل اور پاک ہے۔ اُس کا اسیری کا ارمان قوی اور نیک ہے۔ وہ عشق میں محبوب کا اسیر ہونے کی تمنّا کرتا ہے۔ یہی تمنّا کا اثر ہے جس سے محبوب کو صیّاد کا اعزاز مِلا۔
۴
نیند کیا آئے شہادت کے طلبگاروں۱ کو
فکر رہتی ہے ستمگر۲ نے کسے یاد کیا
۱۔خوہش مند، آرزو مند ۲۔ستم کرنے والا، محبوب
عاشق کے لئے محبوب کے ہاتھوں شہید ہونا عشق کی معراج ہے۔ اُس کے سب چاہنے والے یہی تمنّا میں بیچین رہتے ہیں کہ محبوب اُن کا اِنتقاب کرے، قتل کرنے کے لئے اُن کو یاد کرے۔ اِس بیچینی میں، اِس طلب میں بھلا اُن کو نیند کیسے آ سکتی ہے۔
۵
ڈر گیا نالۂ۱ شبگیر۲ سے میرا صیّاد۳
شام کو قید کیا صبح کو آزاد کیا
۱۔فغاں، فریاد ۲۔رات پر غالب ہونے والی/فتح پانے والی ۳۔شکاری
یہاں صیّاد سے مُراد محبوب ہے جو عاشق کو عشق کے زنداں میں قید کئے ہے۔ لیکن رات میں قیدی اِتنا بیتاب ہو جاتا اور ایسا نالہ کرنے لگتا ہے کہ محبّت کا راز فاش ہو جانے کا ڈر ہے۔ اِسی اندیشے سے صیّاد/محبوب رات عاشق کو رات بھر قید رکھتا ہے اور صبح کو آزاد کر دیتا ہے۔ اگر رات کی قید اور دن کی رہائی کچھ اِستعارہ ہے تو فی الحال میرے سمجھ سے باہر ہے۔
۶
لذّتِ۱ درد کی معراج۲ دکھانے کے لیے
مجھ کو بِسمل۳ تجھے اللہ نے جلّاد۴ کیا
۱۔مزہ، لطف ۲۔عروج، اونچا مرتبہ ۳۔جس کا گلا کاٹا گیا، ذبیحہ ۴۔گلا کاٹنے والا، محبوب
محبوب کے ہاتھوں قتل ہونے میں درد تو ہو سکتا ہے، لیکن اِس درد میں اک عجیب لذّت ہے۔ اِسی لذّت کا عروج دکھانے کے لئے اللہ نے عاشق کو بِسمل اور محبوب کو جلّاد بنایا۔ یعنی دونوں میں اپنی اپنی صِفت قدرتی ہے۔
۷
جِس پہ احباب۱ بہت روئے فقط اِتنا تھا
گھر کو ویران۲ کیا قبر کو آباد۳ کیا
۱۔دوست ۲۔خالی، سُونا ۳۔بسانا
شاعر زندگی اور موت کو رہائش/سکونت کی تبدیلی قرار دیتا ہے۔ گھر چھوڑ دیا، خالی کر دیا اور قبر میں بس گئے، قبر آباد کی۔ بس اِتنی سی بات پر دوست/احباب رو رہے ہیں۔ شاعر کو اِس بات پر بڑی حیرت ہو رہی ہے۔
۸
عقل کیا چیز ہے اِک وضع۱ کی پابندی۲ ہے
دل کو مُدّت۳ ہوئی اِس قید سے آزاد کیا
۱۔طریقہ ۲۔فرماں بردار، مجبور ۳۔طویل عرصہ
یہاں پر عقل کا یوں مطلب ہے کہ سوچ سمجھ کر، مصلحت اندیش ہو کر کام کیا جائے۔ طور/طریقہ کا پابند رہنا۔ اِس کے برعکس دل سے محبّت ہوتی ہے جو طور/طریقہ/رواج کے حدود کی پابند بہیں ہوتی۔ شاعر نے اپنے دل کو اک طویل عرصہ سے آزاد کر رکھا ہے۔ اقبال نے کہا ۔۔۔
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
جس کفِ۱ پاک کو آنکھوں پہ فرشتوں نے لیا
کیوں خراباتِ۲ جہاں میں اُسے برباد کیا
۱۔ہاتھ، پنجہ، مُٹّھی بھر ۲۔بربادی کی جگہ، مے خانہ
اِنسان کو مُٹّھی بھر خاک سے تخلیق کیا گیا اور فرشتوں کو حکم ہو کہ اِس کو سجدہ کریں۔ اِس کفِ پاک سے مطلب وہ مُٹّھی بھر خاک جس سے اِنسان بنا ہے اور فرشتوں نے آنکھوں پہ لیا سے مُـراد ہے کہ سجدہ کیا۔ اِنسان کا جنّت میں ایسا اعلیٰ مرتبہ تھا۔ شاعر شکائت کر رہا ہے کہ جب میرا ایسا اونچا مرتبہ تھا تو مجھ کو کیوں اِس مادّی دنیا میں، خرابات کی، حِرص و ہوس کی دنیا میں بھیج کر برباد کیا۔ غالبؔ کہتے ہیں ۔۔۔
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
۱۰
دم۱ نہیں ہے رگِ۲ سودا۳ میں بہار آخر ہے
کیا کروں گا جو مجھے قید سے آزاد کیا
۱۔طاقت، جان ۲۔رگِ گُلو، رگِ جاں، (jugular vein) ۳۔جنون، تمنّا کی اِنتہا
یہاں پر سودا جنون (obsession) کے معنی میں اِستمعال کیا گیا ہے اور رگ، رگِ جاں کے معنی میں۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ اب اتنا نا اُمّید ہو گیا ہے کہ اُس کے جنون کی رگِ جاں میں کچھ دم باقی نہیں ہے اور بہار بھی آخر آخر ہے۔ ایسے میں اگر شاعر (قفس کا پرند) کو آزاد بھی کر دیا گیا تو وہ کیا کر سکتا ہے۔
۱۱
اِس کو ناقدریِ۱ عالم۲ کا صلہ۳ کہتے ہیں
مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
۱۔بے وقعتی، داد نہ دینا، قدر نہ کرنا ۲۔دنیا ۳۔بدلہ، جزا، قیمت
جیتے جی شاعر کو اُس کے فن کی کوئی داد نہیں ملی لیکن مرنے کے بعد لوگوں نے اُسے بہت یاد کیا۔ شائد یہی زندگی بھر کی ناقدری کا صلہ ہے۔ غالبؔ نے کہا ۔۔۔
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہد شُدن
ترجمہ ۔ شاہد
عروج پر تھا سخن جب ملکِ عدم میں میرا
بعد مرنے کے ہی دنیا میں یہ شہرت پائے گا
सुब्ह को आज़ाद किया – पंडित ब्रिज नरायण चकबस्त
१
२
३
४
५
६
७
८
९
१०
११
पंडित ब्रिज नरायण चकबस्त (१८८२-१९२६) फ़ैज़ाबाद में कशमीरी ब्रहमन ख़ानदान में पैदा हुए। ३-४ साल का उमर में बाप का देहांत हो गया और मां को भाई के घर , लखनऊ में रहना पढा। घर में मौलवी साहब से उर्दू, फ़ार्सी और अरबी की शिक्षा हुई और स्कूल फिर कॉलेज। बी-ए करने के बाद इलाहाबाद से एल-एल-बी किया और लखनऊ में वकालत करने लगे। वकालत बहुत अच्छी चली और हाई कोर्ट में काम करने लगे। अफ़्सोस के राए बरेली में एक क़ानूनी केस के बाद वापसी में रेल्वे स्टेशन पर ही फ़ालिज का दौरो पढा और उसी रात देहांत कर गये। आज़ादी की तहरीक और समाजी काम भी करते थे। क़ौमी एकता के लिये बहुत काम किया और कश्मीर में युवा समाज क़ा’एम किया। इन सब कामौं के कारण, वकालत और संयुक्त परिवार की ज़िम्मेदारी के कारण शा’एरी कम ही कर सके। उन के नज़्म और ग़ज़ल का मज्मुआ उन के मरने के बाद ही छपा।
१
१-ज़ुल्म, पीढा २-गढ़ना, निर्माण करना ३-घोंसला, घर ४-जलाना
ये एक अजीब ज़ुल्म है के पहले ख़ुद ही घोंसले में आग लगा दी और फिर ख़ुद ही पानी ढूँढने लगे। अब सवाल ये है के इशारा किस तरफ़ है। उर्दू शा’एरी में शा’एर अक्सर ख़ुद को परिंदा बताता है और उस का घोंसला उस का दिल है, जो जल गया है। अब माली कौन हो सकता है? अगर माली को महबूब माना जाए तो ये आम बात नहीं है। सियासी नज़रिये से देखें तो माली हाकिम हो सकता है (उस दौर में अंग्रेज़ सरकार)। ये लोग नफ़्रत और भेदभाव फैलाकर घर जलाते हैं और फिर ख़ुद ही आग बुझाने की बात करते हैं। अगर माली को महबूबा मानें तो वो दिल में मोहब्बत की आग लगाती है और फिर दिलासा देकर उसे बुझाने की कोशिश करती है।
२
१-दरवाज़ा, द्वार २-जेल-ख़ाना ३-बसाना
कोई दीवाना क़ैद कर दिया गया है, लेकिन वो जेल के दरवाज़े पर लिखता है के असल में वही आज़ाद है जिसने इस जेल को आबाद किया है। जो बाहर हैं, वे असली आज़ाद नहीं हैं। ये दीवाना कौन हो सकता है? (१)शा’एद कोई शा’एर या बाग़ी, जिसने सत्ता के ख़िलाफ़ आवाज़ उठाई और क़ैद हो गया। उसके लिये यही विरोध ही आज़ादी है। (२)शा’एद कोई आशिक़, जो मोहब्बत की क़ैद में है। इस क़ैद को पूरी तरह स्वीकार करना ही उसके लिये आज़ादी है। (३)या कोई सूफ़ी, जिसके लिये ये दुनियावी ज़िंदगी एक क़ैद है और असली आज़ादी सिर्फ़ फ़ना में है।
३
१-इच्छा, तमन्ना २-क़ैद, बंधन ३-शिकारी, क़ैद करने वाला
आशिक़ की मोहब्बत पाक और पूरी होती है। उसका क़ैद होने का अर्मान मज़्बूत और नेक है। वो चाहता है के वो महबूब की मोहब्बत में क़ैद हो जाए। इसी चाहत की वजह से महबूब को शिकारी कहलाने का दर्जा मिला।
४
१-बलिदान २-इच्छुक, ख़्वाहिशमंद ३-चिंता ४-महबूब के लिये प्रयोग किया गया है
आशिक़ के लिये महबूब के हाथों मारा जाना मोहब्बत की सबसे ऊँची मंज़िल है। सारे चाहने वाले इसी बेचैनी में रहते हैं के महबूब उन्हें चुने, उन्हें याद करे। इस इंतेज़ार और तड़प में भला नींद कैसे आ सकती है।
५
१-दुख का रोना, फ़र्याद २-रात से जीतने वाली, रात से ज़्यादा भयानक ३-शिकारी, महबूब
यहाँ शिकारी से मतलब महबूब है, जिसने आशिक़ को मोहब्बत में क़ैद कर रक्खा है। लेकिन रात में आशिक़ इतना बेचैन हो जाता है और इतनी ज़ोर से फ़र्याद करता है के डर होता है के कहीं मोहब्बत का राज़ खुल न जाए। इसी डर से महबूब उसे रात भर क़ैद में रखता है और सुब्ह छोड़ देता है। अगर रात की क़ैद और दिन की आज़ादी कोई रूपक है, तो वो अभी मेरी समझ से बाहर है।
६
१-मज़ा, आनंद २-चोटी, ऊंचाई ३-बली ४-क़ातिल
महबूब के हाथों मारे जाने में दर्द तो है, लेकिन उस दर्द में एक अजीब सी मिठास भी है। उसी मिठास की ऊँचाई दिखाने के लिये अल्लाह ने आशिक़ को बलिदान का बलि बनाया और महबूब को क़ातिल बनाया। यानी दोनों की अपनी-अपनी फ़ितरत है।
७
१-दोस्त २-सिर्फ़, केवल ३-छोढ देना, ख़ाली करना ४-बसाना
शा’एर ज़िंदगी और मौत को बस रहने की जगह बदलना मानता है। घर छोड़ दिया, उसे ख़ाली कर दिया और क़ब्र में बस गए। बस इतनी सी बात पर दोस्त रो रहे हैं। शा’एर को इस पर हैरानी हो रही है।
८
१-तरीक़ा २-सीमित करना, रोकना ३-ज़माना, बहुत दिन
यहाँ अक़्ल का मतलब है सोच-समझकर, हिसाब-किताब से काम करना और तय किये हुए तरीक़ों का पालन मे सीमित रहना। इस से उलटा दिल से मोहब्बत होती है, जो नियमों और रिवाजौं की पाबंद नहीं होती। शा’एर ने अपने दिल को बहुत पहले ही इस क़ैद से आज़ाद कर दिया है। एक़्बाल ने भी यही कहा है —
पोख़्ता होती है अगर मस्लेहत अंदेश हो अक़्ल
इश्क़ हो मस्लेहत अंदेश हो है ख़ाम अभी
९
१-हाथ, मुट्ठी २-शुद्ध ३-खंडर ४-दुनिया ५-तबाह
इंसान को मुट्ठी भर मिट्टी से बनाया गया और फ़रिश्तों को हुक्म दिया गया के उसे सज्दा करें। यहाँ कफ़-ए पाक से मतलब वो मुट्ठी भर ख़ाक जिस से इंसान बनाया गया है और फ़रिश्तों का आँखों पर लेना यानी सज्दा करना है। इंसान का दर्जा जन्नत में बहुत ऊँचा था। शा’एर शिका’एत करता है के जब मेरा इतना ऊँचा मक़ाम था, तो मुझे इस लालच और बर्बादी वाली दुनिया में क्यूं भेजा गया।
१०
१-ताक़त, जान, ज़िन्दगी २-गले की रग, ग्रीवा शिरा ३-तमन्ना, जुनून
यहाँ ‘सौदा’ का मतलब जुनून है और ‘रग’ से मतलब जान की नस। शा’एर कहता है के अब उस के जुनून में जान बाक़ी नहीं रही और बहार भी आख़िरी दौर में है। ऐसे हाल में अगर उसे क़ैद से आज़ाद भी कर दिया जाए, तो वो कर ही क्या पाएगा।
११
१-मोल न देना, आदर न करना २-दुनिया ३-मोल, सम्मान
ज़िंदा रहते शा’एर को उसके हुनर की कोई क़द्र नहीं मिली, लेकिन मरने के बाद लोग उसे बहुत याद करने लगे। शा’एद यही दुनिया की बेरुख़ी का बदला है। ग़ालिब का फ़ार्सी शे’र —
कौकबम रा दर अदम औज-ए क़ुबूली बूदा-अस्त
शोहरत-ए शे’रम ब-गेती बा’द-ए मन ख़्वाहद शुदन
तर्जुमा – शाहिद
उरूज पर था सुख़न जब मुल्क-ए अदम में मेरा
बा’द मरने के ही दुनिया में ये शोहरत पाएगा
sub’h ko aazaad kiya – pandit brij narain chakbast
brij narain chakbast (1882-1926) was born in faizabad into a kashmiri brahmin family who moved to lakhnau soon after his father’s death when chakbast was still very young. He received his early education at home from a maulvi, learning urdu, arabi and faarsi. Later, he got a law degree (1907) from allahabad and then practised law in lakhnau. Unfortunately, he died very young of a stroke he suffered while returning by train after arguing a case in bareily. He was politically very acutely aware and wrote many nationalistic poems also promoting communal harmony. He was very active in the formation of Kashmiri Young Men’s Association. His legal profession, the need to support a large joint family and short life span did not allow him much time for poetry. His work was collected and published posthumously.
1.gardener 2.novel 3.torture 4.invent 5.nest 6.set fire to
The gardener has invented a novel/unusual cruelty. He sets fire to the nest and then remembers/asks for water. Of course, it is too late now, and the nest is burnt to ashes. Let us look at possible symbolisms … in urdu poetry the poet often portrays himself as a bird. This is his aashiyaaN that has been set on fire. Who is the baaGhbaaN? It is unlikely to be the beloved. baaGhbaaN – the caretaker of the garden in a political interpretation could be the colonial government, that sets the home on fire, through sowing seeds of communal disharmony and then looks for ways to control it. IF we take baaGhbaaN to be the beloved, then she could be setting fire to the passionate heart of the lover and then seeking to console him and looking for water (of consolation) to put out the fire.
1.door 2.prison 3.inhabit, settle in, make prosperous
Some madman has written on the door of the prison that only they have attained freedom who have made this place their home, have made it prosper. Let us look at symbolisms. (a)the mad man could be one (perhaps a poet or revolutionary or unorthodox) who has rebelled against the establishment and by being imprisoned has spread the word of justice and in this act lies true freedom (b)the mad man could be a passionate lover who is imprisoned in the metaphorical prison of love, has submitted completely to the call of love (could be divine love) and thus freed himself of all other temptations (c)the mad man could be a sufi who by the very definition of his existence is in prison. He lives in the prison (aabaad karna) but attains freedom through intense desire of unity with the divine.
1.desire, longing 2.captivity, bondage 3.hunter, bird-catcher
By yaad rah jaa’ega is implied – it will be remembered long after I am gone. What will be remembered? His armaan-e asiiri desire for bondage. It is because of his bondage that the sayyaad became known/famous as a sayyaad. Symbolically, the sayyaad could be the beloved and the lover claims that his true love is what gives dignity/recognition to the beloved.
1.martyrdom 2.seekers, desirous 3.concern, worry 4.tyrant, beloved
Here sitamgar is the beloved and getting slaughtered, achieving martyrdom shahaadat at the hands of the beloved is the ultimate honour for the lover. The beloved has numerous admirers and it is uncertain who she will favour with the strike of her sword the next morning. There is a touch of jealousy here. So the lover (talabgaar-e shahaadat) is unable to sleep at night wondering who the beloved will favour – kise yaad karegi.
1.wail, lament 2.night shattering 3.hunter, captor 4.imprison, bind
The sayyaad is the beloved and the lover distressed by the long night of separation lets out such “night-shattering wails” naala-e shabgiir that the sayyaad is scared. This could be because the lover’s nightly wails might reveal the secret – his love for her. In order to prevent that she imprisons him every night and sets him free in the morning. If there is a symbolism to the nightly imprisonment and daily setting free, I cannot figure it out.
1.pleasure 2.pain 3.apex, height, summit 4.sacrificial animal 5.executioner
Getting slaughtered at the hands of the beloved is the apex of the “pleasure of pain”. god wanted to demonstrate this apex so he designed the lover to be a bismil – a sacrificial animal and designed the beloved to be a jallaad – executioner i.e., it is in the nature of love relationships for the lover to completely surrender to the beloved.
1.friends 2.only 3.desolation, abandon 4.grave 5.inhabit, reside
The scenario is that poet has died, his friends have buried him and are weeping. The (dead) poet suggests that this is no big deal; no need to weep the loss; all he has done is abandoned his home (making it viiraan-desolate) and settled in a new home-the qabr, and they weep for this little thing.
1.mind, reason 2.way, ritual 3.limited to, bound by 4.long time 5.bondage, restriction
What is reason except being bound by, being subservient to certain ways (rules, traditions, expectations). It has been a long time since I freed my heart of these restrictions. Love is not bound by the rules of reason. This is a traditional poetic tug between the heart and the mind. Said mohammed iqbal …
1.fistful 2.pure, clean 3.ruins, ruinous 4.world 5.destroy
kaf-e paak is the primordial handful of dust from which aadam was formed. It is believed that god ordered all angels to bow down before aadam. They all did (except shaitaan/Satan). This bowing before aadam is what the poet calls aaNkhoN pe farishtoN ne liya. Having given me such honour, why did you destroy me by sending me to this Kharaabat-e jahaaN – ruins of this (material) world. Ghalib too wondered …
1.strength, power, life 2.jugular vein 3.desire, obsession 4.spring
Here sauda is used in its other meaning – intense desire/longing and rag-e sauda is analogous to the jugular vein of desire. The poet represented as a caged bird, has lost all hope and has no strength left in his desire. The spring is towards its end. What will I do if I am released from the cage now. He seems to be resigned to life in a cage and is not eager to be set free. I am not sure what this symbolizes other than an expression of hopelessness.
1.devalue, not appreciate 2.world 3.compensation 4.world
The world does not value the poet/appreciate his poetry while he is alive. But after he dies, the world remembers/honours him. This is the compensation for the naaqadri/unappreciation of the world. Said Ghalib …
The post sub’h ko aazaad kiya-panDit brij narain chakbast appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/01/ypl-baam-par-aane-ka-naam-audio.mp3
Recitation
بام پر آنے کا نام ۔ پرمود لال یکتاؔ
۱
زندگی ہے حسرتوں سے دل کو بہلانے کا نام
یعنی دانِسہ فریبِ آرزو کھانے کا نام
۲
دور کیسے ہوں غم و آلام کی یہ ظلمتیں
گیسوئے ہستی نہیں لیتے سنور جانے کا نام
۳
دیکھ دنیا میں کہیں اُلفت تری رسوا نہ ہو
لے ذرا محتاط ہو کر اپنے دیوانے کا نام
۴
ہم نے افسانوں کو بدلا ہے حقیقت میں، مگر
ہر حقیقت کو دیا ہے تم نے افسانے کا نام
۵
فخر کرتے ہیں اسی میراث پر اہلِ جنوں
تم حقارت سے نہ لو للہ ویرانے کا نام
۶
ہم خزاں دیدہ غریبانِ چمن کے واسطے
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
پرمود لعل یکتاؔ (۱۹۴۰۔۲۰۱۷) انگریزی ادب میں پی۔ایچ۔ڈی کی اور مدھیہ پردیش میں کالج میں پڑھاتے رہے۔ نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد دہرہ دون میں بسیرا کیا۔ اِن کے والد وِنود طالبؔ سرکاری ملاظمت کرتے تھے اور اُردو کے شاعر تھے۔ اِن کے دو چھوٹے بھائی سُبودھ لعل اور اشوک لعل بھی پائے کے شعرا ہیں۔ غالبؔ کے چہیتے شاگرد مُنشی ہرگوپال تفتہ ان کے جدّ امجد ہیں۔ خاندان میں شاعری کا تسلسل جب سے جاری ہے۔ یہ غزل سے شاعر فیض احمد فیضؔ کو خِراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
۱
زندگی ہے حسرتوں۱ سے دل کو بہلانے کا نام
یعنی دانِسہ۲ فریبِ۳ آرزو کھانے کا نام
۱۔ناتمام تمنّا ۲۔جان بوجھ کر ۳۔دھوکا
عاشق پوری طرح جانتا ہے کہ اُس کی تمنّا کبھی پوری نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی دِل کو بہلانے کے لئے، زندگی کے لئے، اپنی حسرتوں کو برقرار رکھتا ہے۔ جان بوجھ کر اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔ جیسے کہ غالب نے کہا ۔۔۔
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
۲
دور کیسے ہوں غم و آلام۱ کی یہ ظلمتیں۲
گیسوئے۳ ہستی۴ نہیں لیتے سنور جانے کا نام
۱۔ مشکلیں، تکالیف ۲۔اندھیرا ۳۔زُلف، بال ۴۔زندگی، وجود
زندگی یوں پیچیدہ ہے جیسے پُر خم بال پیچیدہ ہوں۔ بال سنوارنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن سنورتے ہی نہیں۔ اگر یہی حال رہا تو درد و غم کا اندھیرا کیسے دور ہو سکتا ہے۔ غالب کہتے ہیں ۔۔۔
آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک
۳
دیکھ دنیا میں کہیں اُلفت تری رُسوا۱ نہ ہو
لے ذرا محتاط۲ ہو کر اپنے دیوانے کا نام
۱۔ بدنام ۲۔چوکنّا، دیکھ سمجھ کر، خبردار
عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ کہیں تیرا نام نہ بدنام ہو جائے، جب بھی اپنے دیوانے (میرا) نام لینا ذرا سوچ سمجھ کے لینا کہ کس سے ذکر ہو رہا ہے۔ فیض احمد فیضؔ کہتے ہیں ۔۔۔
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
۴
ہم نے افسانوں۱ کو بدلا ہے حقیقت۲ میں، مگر
ہر حقیقت کو دیا ہے تم نے افسانے کا نام
۱۔کہانیاں ۲۔سچ، اصلیت
لیلیٰ مجنوں کی صرف کہانیاں ہیں، صداقت کچھ نہیں۔ لیکن عاشق نے ایسی سچّی محبت کی ہے کہ ایسے قصّے حقیقت میں بدل گئے۔ لیکن محبوب ہمیشہ بدگمان ہی رہا، عاشق کی صداقت کا یقیں نہیں کیا اور اِسے افسانہ کہہ کر برطرف کر دیا۔ لیکن اِس شعر میں “ہم” اور “تم” واضح نہیں ہے۔ “ہم۔تم” اِن تینوں میں سے کچھ بھی لیا جا سکتا ہے ۔ “عاشق۔محبوب” یا “عوام۔سرکار” یا “شاعر۔سامعین”۔ عاشق نے محبت کی مصیبتیں جھیلیں، محبوب نے فسانہ قرار دیا۔ عوام نے نااِنصافی اور تشدُّد کا بیان کیا، سرکار نے گڑھے قصّے کہہ کر برطرف کر دیا۔ شاعر نے اپنے دل کا درد اشعار میں بیان کیا، سامعین نے اِسے خوبصورت کہانی سمجھ کر سُنا۔
۵
فخر کرتے ہیں اسی میراث۱ پر اہلِ جنوں
تم حقارت۲ سے نہ لو للہ ویرانے کا نام
۱۔وِرثہ، inheritance ۲۔نفرت
اہلِ جنوں، پاگل عاشق (مجنوں) ہیں جو ویرانے میں/ریگستان میں محبوب (لیلیٰ) کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اُن کو اپنے وِرثہ پر بڑا فخر ہے۔ شاعر/عاشق محبوب یا معاشرے سے مخاطب ہے کہ مجھے اِس پر جخر ہے، خدارا میرے اِس بھٹکنے کو نفرت سے دیکھو۔ فیضؔ کہتے ہیں ۔۔۔
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
۶
ہم خزاں دیدہ۱ غریبانِ۲ چمن کے واسطے
موسمِ گل۳ ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
۱۔جن کی نظروں میں خزاں ہی ہے بہار نہیں ۲۔چمن سے نکلے یا نکالے ہوئے ۳۔پھول کِھلنے کا موسم، بہار
عاشق “خزاں دیدہ” ہے یعنی اُس نے کبھی بہار کی خوشیاں نہیں دیکھیں، ہمیشہ درد و غم کا ہی سامنا کرتا رہا ہے۔ چمن/وطن سے دور بیابان میں ہے۔ ایسے میں اُس کے لئے بہار کیا ہے ۔۔۔ محبوب کا بام پر آنا۔ یہ نظارہ اُس کے لئے بہار کے نظارے کی طرح ہے۔ فیض احمد فیضؔ ۔۔۔
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
बाम पर आने का नाम – प्रमोद लाल यकता
१
२
३
४
५
६
प्रमोद लाल यकता (१९४०-२०१७) अंग्रेज़ी साहित्य में पी-एच-डी की और मध्य प्रदेश के कॉलेज में पढ़ाते रहे। रिटाएर होने के बाद देहरा दून में बस गए। इन के पिता विनोद तालिब सरकारी नौकरी करते थे और उर्दू के शा’एर थे। इन के दो छोटे भी सुबोध लाल और अशोक लाल भी पाए के शा’एर हैं। ग़ालिब के चहीते शागिर्द मुंशी हरगोपाल तुफ़्ता इन के पूर्वज हैं। परिवार में शा’एरी का सिल्सिला जब से चला आ रहा है।
१
१-ख़्वाहिश जो पूरी न हो २-समझाना, तसल्ली देना ३-जोन बूझ कर ४-धोका ५-इच्छा
आशिक़ अच्छी तरह जानता है के उसकी चाहत कभी पूरी नहीं होगी। फिर भी दिल को समझाने के लिये, ज़िंदगी को चलाने के लिये, वो अपनी चाहतों को ज़िंदा रखता है। वो जान बूझ कर ख़ुद को धोखा देता है। जैसे ग़ालिब ने कहा है —
२
१-दुख दर्द २-अंधेरे ३-बाल, ज़ुल्फ़ ४-ज़िंदगी, अस्तित्व
ज़िंदगी उतनी ही उलझी हुई है, जैसे घुँघराले और पेचीदा बाल। बाल सँवारने की कोशिश हो रही है, लेकिन वो सँवर ही नहीं रहे हैं। अगर यही हालत रही, तो दर्द और ग़म का अँधेरा कैसे दूर होगा? ग़ालिब कहते हैं —
३
१-मोहब्बत २-बदनाम ३-सोच समझ कर
आशिक़ अपने महबूब से कहता है, सावधान करता है – कहीं तुम्हारा नाम बदनाम न हो जाए, जब भी मेरे (दीवाने के) नाम का ज़िक्र करना, तो सोच-समझ कर करना के किस का नाम ले रही हो। फ़ैज़ अहमद फ़ैज़ कहते हैं —
४
१-कहानी २-सच
लैला–मजनूँ सिर्फ़ कहानियाँ मानी जाती हैं, उन्हें सच नहीं समझा जाता। लेकिन आशिक़ ने इतनी सच्ची मोहब्बत की के ये कहानियाँ हक़ीक़त बन गईं। फिर भी महबूब को हमेशा शक ही रहा – उस ने आशिक़ की सच्चाई पर भरोसा नहीं किया और इसे कहानी कहकर ठुकरा दिया। इस शेर में “हम” और “तुम” साफ़ नहीं हैं। इन्हें कई तरह से समझा जा सकता है – आशिक़–महबूब, आम लोग–सरकार, या शा’एर–सुनने वाले। आशिक़ ने मोहब्बत की तकलीफ़ें झेलीं, महबूब ने उसे कहानी कह दिया।
५
१-गर्व २-विर्सा, विरासत ३-नफ़्रत
अहल-ए-जुनूं वो पागल आशिक़ हैं, जो वीरानों और रेगिस्तानों में अपनी महबूबा की तलाश में जंगल जंगल भटकते रहते हैं। उन्हें अपनी इस हालत, अपने इस विरसे पर गर्व है। शा’एर या आशिक़ महबूब या समाज से कहता है – मुझे अपने इस भटकने पर फ़ख़्र है, मेहरबानी कर के इसे नफ़्रत की नज़र से मत देखो। फ़ैज़ कहते हैं –
तुम कोई अच्छा सा रख लो अपने वीराने का नाम
६
१- जिनकी नज़र में बस पतझड़ है, बसंत नहीं, दुख दर्द देखने वाला २-चमन से दूर ३-छत
आशिक़ “ख़िज़ाँ-दीदा” है – यानी उसने कभी बसंत की ख़ुशियाँ नहीं देखीं। वो हमेशा दर्द और ग़म से ही गुज़रा है। वो अपने बाग़ या वतन से दूर, वीराने में रहता है। ऐसे में उसके लिये बसंत क्या है? बस इतना के महबूब छत पर आ जाए, और उसे नज़ारा मिल जाए। यही नज़ारा उसके लिये बसंत जैसा है। फ़ैज़ अहमद फ़ैज़ कहते हैं —
मौसम-ए-गुल है तुम्हारे बाम पर आने का नाम
baam par aane ka naam – pramod lal yakta
pramod lal yakta (1940-2017), dehra dun. He had a PhD in English literature and taught various colleges in madhya pradesh before settling down in dehra dun. His father vinod taalib worked for the government and was an urdu shaa’er. Two of his younger brothers also were shu’ara. His collection was published in 2016. The family traces its heritage to Ghalib’s shaagird, munshi hargopal tufta. This Ghazal is in the style of faiz ahmed faiz’s – deevaane ka naam – which is also posted on this site.
1.longing, unfulfilled desire 2.soothe, console 3.knowingly, consciously 4.deception, illusion 5.desire
That which we call life, is nothing more than the art of consoling the heart with longings, a kind of deliberate self-deception. We know our desires will mislead us, yet we consciously feed on their illusions. Of course, the content of the yearning can be anything – love, career, learning, freedom – whatever. Said Ghalib …
1.banished, driven away 2.sorrows and suffering 3.darkness, gloom 4.hari, tresses 5.existence, life 6.get arranged, to be set right
How can the darkness of grief and pain fade away, when the tangled ‘hair’ of existence itself refuses to be straightened? The imagery likens life to disheveled hair that never settles; also the juxtaposition of dark hair with darkness is noteworthy. Says Ghalib …
1.love, affection 2.disgraced, disreputed 3.cautious, careful 4.mad lover
The poet/lover cautions/warns the beloved: take care that your love does not become infamous because of your lover’s madness. When you mention your lover’s name, do so with caution. There’s an irony here – the beloved, usually proud and aloof, is being advised by the lover to be careful lest lover’s madness bring dishonor. Says faiz ahmed faiz …
1.tale, fiction, story 2.truth, reality
The afsaana here is probably a fable like that of laila-majnuN or shiiriiN-farhaad. The poet/lover, through his devotion has turned such a fiction into reality i.e., he has demonstrated sincere, undying love. But the beloved dismisses every truth as mere storytelling. But since the ham and tum is not defined and the content of the afsaana is left open it can be interpreted as a wide range of things … the ham could be lovers, poets, workers and the tum could be the beloved, society, rulers; the afsaana could be about love or injustice.
1.pride 2.inheritance 3.people of madness, passionate lovers 4.contempt, disdain 5.desolation, wilderness
In the love tradition of urdu poetry, the mad passionate lover wanders through the wilderness looking for his beloved like majnuN looked for laila. Thus, mad passionate lovers consider the wilderness to be their inheritence by rights. He is addressing either the beloved or the society at large – by god, do not look upon the wilderness with contempt; this is sacred ground for us; this is our home.
1.seeing only autumn, dry/withered prospects 2.exiled, banished 3.garden 4.for 5.springtime, season of flowers 6.rooftop
The poet/lover considers himself in the desolation of the desert, banished from the garden. All he sees is dry, barren lands. For him spring is the sight of the beloved coming to the rooftop. This final misra is taken directly from faiz ahmed faiz’s Ghazal which is also posted on this site. faiz ahmed faiz …
The post baam par aan’e ka naam-pramod lal yakta appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/01/sav-kamaal-e-goyaaii-audio.mp3
Recitation
کمالِ گویائی ۔ سکندر علی وجدؔ
۱
زندگی جب اجل سے ٹکرائی
دیر تک روشنی نظر آئی
۲
شب نوازوں کا دور ختم ہوا
آ رہے ہیں سحر کے شیدائی
۳
ہر ادا شعر، ہر سخن نغمہ
نوجوانی، تمام رعنائی
۴
اُس نے جب مُسکُرا کے منہ پھیرا
ایک بجلی سی دِل پہ لہرائی
۵
وجدؔ حُسنِ بیاں پہ ناز نہ کر
خامُشی ہے کمالِ گویائی
سکندر علی وجدؔ (۱۹۱۴۔۱۹۸۳) اورنگآباد/حیدرآباد، ترقّی پسند، ذہانت آمیز کلام کا شاعر، مخدوم کے ہم عصر۔ جامع عثمانیہ کے طالبِ علمی کے دوران ہی اُن کی شاعری عروج پر پہنچی اور مُلک بھر میں شہرت پائی۔ حیدرآباد سِوِل سروِس کے امتحان کامیاب کرنے کے بعد منسف مجسٹریٹ اور پھر سِشّن جج مقرّر ہوئے۔ ۱۹۵۶ کے لِسانی ریاستی بٹوارے کے دوران مہاراشٹر ریاست سے منسوب کئے گئے۔ وہاں نوکری سے سُبُکدوش ہونے کے بعد ۱۹۷۲ میں راجیہ سبھا کے ممبر چنے گئے۔ ۱۹۷۰ میں پدم شری کا اعزاز ملا۔ وجدؔ کا کلام ترقی پسند بھی ہے اور صوفیانہ بھی۔
۱
زندگی جب اَجل۱ سے ٹکرائی
دیر تک روشنی نظر آئی
۱۔موت
جب زندگی کا موت سے سامنا ہوا تو بڑی دیر تک، دور تک روشنی نظر آتی رہی۔ یعنی موت کا سامنا ہونے پر زندگی کا مطلب/مقصد سمجھ میں آیا۔ یہ بات یاد آئی کہ زندگی ختم ہونے والی ہے اور ابھی کام بہت بڑا ہے۔
۲
شب نوازوں۱ کا دور ختم ہوا
آ رہے ہیں سحر۲ کے شیدائی۳
۱۔رات/اندھیر کی پرورش کرنے والے ۲۔صبح ۳۔پسند کرنے والے
نا انصافی اور جبر کو رات سے تشبیہ دی جاتی ہے اور طلوعِ اشتراکیت کو سحر سے۔ شب نواز وہ ہیں جو تشدُّد پسند ہیں۔ اب اُن کا زمانہ ختم ہونے والا ہے اور صبح اشتراکیت کے شیدا/چاہنے والے زمانہ بدلنے کے لیے آ رہے ہیں۔
۳
ہر ادا شعر، ہر سخن نغمہ
نوجوانی، تمام رعنائی۱
۱۔حُسن، جمال، جوبن
یہ محبوب کی خوبصورتی کا بیان ہے، لیکن بہت ممکن ہے کہ محبوب اشتراکیت ہی ہے۔ اُس کی ہر ادا ایک شعر جیسی ہے، اُس کی ہر بات، ہر سخن یوں ہے کہ جیسے نغمہ ہو۔ یعنی اِس محبوب میں بڑی کشِش ہے نوجوانی ہے اور سر تابہ قدم رعنائی ہے۔
۴
اُس نے جب مُسکُرا کے منہ پھیرا
ایک بجلی سی دِل پہ لہرائی
محبوب (اِشتراکیت) نے اپنے چاہنے والوں پر مُسکُرا کر ایک نظر ڈالی اور منہ پھیرا تو اُس کے چاہنے والوں کے دل پر ایک بجلی سی لہرا گئی۔ اگر اشتراکیت کی تشبیہ محبوب سے لی جائے تو محبوب شرارتاً مسکرا کر منہ پھیر کر اپنے چاہنے والوں کو اُس کے پیچھے آنے کی دعوت دے رہا ہے۔
۵
وجدؔ حُسنِ بیاں پہ ناز نہ کر
خامُشی ہے کمالِ۱ گویائی۲
۱۔اوج، مہارت ۲۔سخنوری، خوش گفتاری
اے وجدؔ اپنی سخنوری پر اِتنا ناز نہ کر۔ سخنوری کی مہارت تو خاموشی میں ہے۔ بات آنکھوں سے ہوتی ہے۔
कमाल-ए गोयाई-सिकंदर अली वज्द
१
ज़िन्दगी जब अजल से टकराई
देर तक रौशनी नज़र आई
२
शब-नवाज़ौं का दौर ख़त्म हुआ
आ रहे हैं सहर के शैदाई
३
हर अदा शे’र, हर सुख़न नग़्मा
नौजवानी, तमाम रानाई
४
उस ने जब मुस्कुरा के मुंह फेरा
एक बिजली सी दिल पे लहराई
५
वज्द हुस्न-ए बयाँ पे नाज़ न कर
ख़ामुशी है कमाल-ए गोयाई
सिकंदर अली वज्द (१९१४-१९८३) औरंगाबाद/हैदराबाद, तरक़्क़ी पसंद, गूढ़ सोच-विचार का, मख़्दूम के ज़माने का शा’एर। उस्मानिया विश्वविद्यालय के ज़माने इन की शा’एरी चोटी पर पहुंची और देश भर में प्रसिद्ध हुई। हैदराबाद सिविल सर्विस की परीक्षा सफ़ल करने के बाद मुंसिफ़ मजिस्ट्रेट और बाद में सेश्शन जज की पदवी मिली। १९५२ के भाषा पर पुनर्गठन में महाराष्ट्र में पोस्टिंग posting हुई। रिटाएर होने के बाद १९७२ राज्य सभा के मेम्बर चुने गए। १९७० में पद्म श्री का सम्मान मिला। वज्द की शा’एरी प्रगति शील भी है और सूफ़ियाना भी।
१
ज़िन्दगी जब अजल१ से टकराई
देर तक रौशनी नज़र२ आई
१-मौत २-दिखाई देना
जब मौत का सामना हुआ तो देर तक दूर तक रोशनी दिखाई देती रही। यानी समझ में आया के जीवन का लक्ष्य क्या है, समझ में आया के अभी कितना काम बाक़ी है।
२
शब-नवाज़ौं१ का दौर२ ख़त्म हुआ
आ रहे हैं सहर३ के शैदाई४
१-रात के अंधेरे को पालने वाले २-ज़माना ३-सुब्ह ४-चाहने वाले
उर्दू शा’एरी में अक्सर शब/रात को अन्याय और अत्याचार का रूपक दिखाया जाता है और सुब्ह/सहर को समाजवाद का आरंभ समझा जाता है। शब-नवाज़ वो होते हैं जो अन्याय और अत्याचार की पालना करते हैं। अब उनका दौर/ज़माना ख़त्म हो रहा है और समाजवाद/सुब्ह के चाहने वाले ज़माना बदलने के लिये आ रहे हैं।
३
हर अदा शे’र, हर सुख़न नग़्मा
नौजवानी, तमाम रा’नाई१
१-ख़ूबसूरती, बांकपन
यहां पर बड़ी ख़ूबसूरती से प्रेमिका का वर्णन किया गया है, लेकिन प्रेमिका समाजवाद का रूपक ही हो सकती है। उस की हर अदा ऐसी है के जैसे कोई शे’र कह रहा हो। उसकी हर बात ऐसी है के कोई गीत गा रहा हो। और उस में नौजवानी और सौंदर्य/चंचलता है।
४
उस ने जब मुस्कुरा के मुंह फेरा
एक बिजली सी दिल पे लहराई
प्रेमिका/समाजवाद ने मुस्कुरा कर अपने चाहने वालों की तरफ़ देखा और मुंह फेर लिया, तो उनके दिल पर जैसे एक बिजली कड़की और लहराई प्रेमिका/समाजवाद अपने चाहने वालों को संकेत करती है के उसके पीछे चलें।
५
वज्द१ हुस्न२-ए बयाँ३ पे नाज़४ न कर
ख़ामुशी है कमाल५-ए गोयाई६
१-उपनाम, तख़ल्लुस २-क़ाबिलियत, कुशलता ३-पाठ, पढ़ना ३-गर्व ५-महारत ६-भाषण, बोलना, पढ़ना
वजद शा’एर का उपनाम/तख़ल्लुस है। अपने आप से कहता है के अपनी शा’एरी पर हुस्न-ए बयान पर गर्व न कर। भाषण का सब से उत्तम कमाल/महारत तो ख़ामोशी है। आंखों से बात होती है।
kamaal-e goyaaii-sikandar ali vajd
sikandar ali vajd (1914-1983) auraNgabad/hyderabad was a progressive, thoughtful poet with bulk of his college education in hyderabad, a contemporary of maKhdoom. He qualified for the Hyderabad Civil Service and served as munsif magistrate and later as sessions judge. He got absorbed into the maharashTra state service when auraNgabad was split away from the erstwhile hyderabad state into maharashTra. He was elected to the rajya sabha (1972) and awarded padma shri (1970). His writings are politically sensitive and have healthy sufiyaana content.
1.death 2.light, brilliance 3.visible
When life came face to face with death, the poet/protagonist saw light for a long time, perhaps this means that facing death he realizes how much more needs to be done. Perhaps it means that he understood the real meaning of life when faced with death.
1.night worshippers, cherishers of the night 2.times, domain, era 3.dawn, independence, socialist revolution 4.admirers
Here night/darkness is symbolic of injustice and oppression and sahar/dawn is symbolic of social justice. The era of those who nurtured injustice is at an end. The admirers of the dawn of independence/revolution/social justice are on their way to take over.
1.style, gesture 2.verse, couplet 3.word 4.song 5.totality, embodiment 6.grace, beauty
This is a description of the beloved and the beloved is independence and/or socialist revolution. Her every style is meaningful like a she’r/couplet. Her every word is a Ghazal/song. She is full of the vigour of youth, the embodiment of grace.
1.turn away 2.lightning 3.waving, rising
The beloved (socialist revolution) coyly looks at her admirers, smiles and turns away, as if tempting them to move forward and chase her. When the admirers see this a wave, like a lightning strike, runs through their hearts.
1.pen-name, taKhallus 2.beauty 3.recitation 4.pride, vanity 5.apex, excellence 6.speech
O, vajd, do not be vain about the beauty of your recitation/versification. Silence is the crowning glory of speech.
The post kamaal-e goyaaii-sikandar ali vajd appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/01/sav-haqiiqat-dikhaane-ko-jii-chaahta-hai-audio.mp3
Recitation
حقیقت دکھانے کو جی چاہتا ہے ۔ سکندر علی وجدؔ
۱
ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے
نئے زخم کھانے کو جی چاہتا ہے
۲
ادھر آئے شاید وہ موجِ ترنُّم
کوئی گیت گانے کو جی چاہتا ہے
۳
تری راہ میں رہ نوردِ محبت
ستارے بِچھانے کو جی چاہتا ہے
۴
زمانہ مرا آزمایا ہوا ہے
تجھے اّزمانے کو جی چاہتا ہے
۵
وہی بات رہ رہ کے یاد آرہی ہے
جسے بھول جانے کو جی چاہتا ہے
۶
لبوں پر مرے کھیلتا ہے تبسُّم
جب آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے
۷
کئی مرتبہ دل پہ بِجلی گِری ہے
مگر مُسکُرانے کو جی چاہتا ہے
۸
تکلُّف نہ کر آج برقِ تجلّی
نشیمن جلانے کو جی چاہتا ہے
۹
رُخِ زندگی سے نقابیں اُلٹ کر
حقیقت دکھانے کو جی چاہتا ہے
سکندر علی وجدؔ (۱۹۱۴۔۱۹۸۳) اورنگآباد/حیدرآباد، ترقّی پسند، ذہانت آمیز کلام کا شاعر، مخدوم کے ہم عصر۔ جامع عثمانیہ کے طالبِ علمی کے دوران ہی اُن کی شاعری عروج پر پہنچی اور مُلک بھر میں شہرت پائی۔ حیدرآباد سِوِل سروِس کے امتحان کامیاب کرنے کے بعد منسف مجسٹریٹ اور پھر سِشّن جج مقرّر ہوئے۔ ۱۹۵۶ کے لِسانی ریاستی بٹوارے کے دوران مہاراشٹر ریاست سے منسوب کئے گئے۔ وہاں نوکری سے سُبُکدوش ہونے کے بعد ۱۹۷۲ میں راجیہ سبھا کے ممبر چنے گئے۔ ۱۹۷۰ میں پدم شری کا اعزاز ملا۔ وجدؔ کا کلام ترقی پسند بھی ہے اور صوفیانہ بھی۔
۱
ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے
نئے زخم کھانے کو جی چاہتا ہے
اس غزل کی گہرائی سمجھنے کے لیے یہ سوچنا پڑے گا کہ ‘تیرے’ کون ہے۔ اِس شعر، اِس غزل میں خطاب کس سے ہے۔ ایک تو یہ محبوب ہو سکتا ہے، عشق مجازی ہو سکتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اِس سے اچھا خیال یہ ہے کہ خِطاب شاعر کے اِلہام سے ہے، اُس کی شاعری کی تمنّا سے ہے۔ شاعر اپنے اِلہام کے قریب آنا چاہتا ہے، یعنی اِس الہام کی مدد سے شاعری کرنا چاہتا ہے۔ اور اس دوران ہو سکتا ہے کہ اُس کو نئے زخم لگیں۔ یہ زخم کربِ سخنوری، اپنی قابلیت پر غیر اعتمادی کہ زخم ہو سکتے ہیں۔
۲
ادھر آئے شاید وہ موجِ ترنُّم
کوئی گیت گانے کو جی چاہتا ہے
شاید یہ موجِ ترنُّم میری طرف آ جائے، شاید اسی لیے میں ایک نیا گیت گانا چاہتا ہوں، نئی غزل لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ موجِ ترنُّم بھی اِلہام کے ساتھ ساتھ ہو سکتی ہے۔
۳
تری راہ۱ میں رہنوردِ۲ محبت
ستارے بِچھانے کو جی چاہتا ہے
۱۔راستہ ۲۔راستہ چلنے والا، راہی، سالک
اس شعر میں لسانیاتی قوائد grammar اُتنے صاف نہیں ہے۔ یہاں پر رہنوردِ محبّت، محبّت کی راہ کا مسافر/سالک شاعر خود ہے۔ یہ محبّت کی راہ کا سالک چاہتا ہے کہ “تیری” راہ میں، “تیرے” قدموں تلے ستارے بچھا دے۔ پِھر سے سوال اُٹھتا ہے کہ “تیرے” کون ہیں محبوب بھی ہو سکتا ہے اور شاعر کی شاعری کا اِلہام بھی۔ اُس کے قدموں تلے تارے بچھانے سے مُراد جگمگاتے اشعار لکھنا۔
۴
زمانہ مرا آزمایا۱ ہوا ہے
تجھے اّزمانے کو جی چاہتا ہے
۱۔پرکھنا، جانچنا
میں نے زمانے کو آزما لیا ہے۔ اب تجھے آزمانا چاہتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کو آزمانے میں مجھے زندگی کے غم سہنے پڑے کچھ خوشیاں بھی ملیں۔ میں یہ سب کچھ سمجھتا ہوں، لیکن اب تجھے آزمانا چاہتا ہوں۔ یعنی جو زندگی کا تجربہ رہا ہے، جو میں نے دیکھا ہے سمجھا ہے اُسے اپنے اشعار میں ڈھال لوں۔ یہ ‘تجھے’ آزمانا اپنی شاعری کی قابلیت کو آزمانا، اپنے اِلہام کو آزمانے کی طرف اشارہ ہے۔
۵
وہی بات رہ رہ کے یاد آرہی ہے
جِسے بھول جانے کو جی چاہتا ہے
کچھ بات ہوئی ہے جو شاعر بھول جانا چاہتا ہے۔ لیکن وہی بات رہ رہ کر یاد آ رہی ہےأ ممکن ہے کہ یہ زندگی کے تجربے ہوں یا محبوب کا ظلم ہو۔ یہ بات رہ رہ کے یوں یاد آ رہی ہے کہ وہ بُھلا نہیں سکتا اور اِس بات کو اپنی شاعری میں ڈھالے بغیر رہ نہیں سکتا۔
۶
لبوں پر مرے کھیلتا ہے تبسُّم۱
جب آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے
۱۔مُسکُراہٹ
لبوں پر مسکراہٹ پھیلتی ہے جب کہ میرا دل چاہتا ہے کہ آنسو بہاؤں۔ اِس کا مطلب میں یوں سمجھتا ہوں کہ مسکرانا سطحی خوشی ہے، قافیہ بندی ہے، ترنُّم کا لہن ہے، مجمع کو خوش کرنے کے اشعار ہیں۔ جبکہ شاعر کا دل چاہتا ہے کہ زندگی کے غم کے بارے میں لکھے چاہے آنسو نکل پڑیں، اُسے داد ملنا بند ہو جائے۔
۷
کئی مرتبہ دل پہ بِجلی گِری ہے
مگر مُسکُرانے کو جی چاہتا ہے
یہاں پر بِجلی گرنے کا مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے ۔ اشعار لکھنے کی کوشش میں جل جانا۔ شاعر پہ یہ کیفیت کئی بار گزری ہے۔ لیکن وہ مسکراتے رہنا چاہتا ہے کوشش جاری رکھنا چاہتا ہے اس امید میں کہ اُس کا اِلہام اُس کا ساتھ دے گا۔
۸
تکلُّف۱ نہ کر آج برقِ تجلّی۲
نشیمن۳ جلانے کو جی چاہتا ہے
۱۔رعائت، جھجک ۲۔بجلی کی چمک
اب یہ برقِ تجلّی یعنی اِلہام کی روشنی کو دعوت دیتے ہیں کہ ہاتھ نہ روکے، تکلُّف نہ کرے۔ شاعر اپنا نشیمن جلانے کے لیے تیار ہے کیونکہ یہ بجلی بڑی تیز ہوگی یہ اپنا نام خراب کرنے کے لیے تیار ہے۔ سطحی الفاظ کی، مجمع کو خوش کرنے والی غزل ترک کر کے وہ لِکھنا چاہتا ہے جو لکھنا ضروری ہے۔
۹
رُخِ زندگی سے نقابیں اُلٹ کر
حقیقت دکھانے کو جی چاہتا ہے
یہی بات غزل کے آخری شعر میں بڑی نفاست سے کہی گئی ہے۔ شاعر یہ چاہتا ہے کہ زندگی کے رُخ سے نقاب اُلٹ دے، زندگی کی اصل صورت، اُس کی حقیقت کا اظہار کرے اپنے اشعار میں۔
हक़ीक़त दिखाने को जी चाहता है – सिकंदर अली वज्द
१
२
३
४
५
६
७
८
९
सिकंदर अली वज्द (१९१४-१९८३) औरंगाबाद/हैदराबाद, तरक़्क़ी पसंद, गूढ़ सोच-विचार का, मख़्दूम के ज़माने का शा’एर। उस्मानिया विश्वविद्यालय के ज़माने इन की शा’एरी चोटी पर पहुंची और देश भर में प्रसिद्ध हुई। हैदराबाद सिविल सर्विस की परीक्षा सफ़ल करने के बाद मुंसिफ़ मजिस्ट्रेट और बाद में सेश्शन जज की पदवी मिली। १९५२ के भाषा पर पुनर्गठन में महाराष्ट्र में पोस्टिंग posting हुई। रिटाएर होने के बाद १९७२ राज्य सभा के मेम्बर चुने गए। १९७० में पद्म श्री का सम्मान मिला। वज्द की शा’एरी प्रगति शील भी है और सूफ़ियाना भी।
१
इस ग़ज़ल की गहराई समझने के लिये ये सोचना पड़ेगा के “तेरे” कौन है। इस शे’र, इस ग़ज़ल में किस से बात हो रही है। एक तो ये प्रेमिका हो सकती है, सांसारिक इश्क़ का क़िस्सा हो सकता है। लेकिन मेरा ख़्याल है के “तेरे” से मतलब शा’एरी का inspiration प्रेरणा है। शा’एर अपनी प्रेरणी/उमंग के पास आ कर अच्छे शे’र कहना चाहता है। इस में उस को नए जख़्म लग सकते हैं। वो इस के लिये तय्यार है। यहां पर जख़्म लगने का मतलब शा’एरी की बेचैनी, अपनी योग्यता/महारत पर भरोसा न होने का डर – ये भी दर्द/जख़्म हो सकता है।
२
तरन्नुम का मतलब गायकी/राग। तरन्नुम की मौज और शा’एरी की प्रेरणा inspiration साथ-साथ हो सकते हैं। शा’एर ये महसूस करता है के तरन्नुम की एक मौज आ रही है और वो गीत गाना, ग़ज़ल कहना चाहता है।
३
यहां व्याकरण grammar उतनी साफ़ नहीं है लेकिन मेरी समझ में रहनवर्द-ए मोहब्बत – मोहब्बत के रास्ते का राही – शा’एर ख़ुद है और वो “तेरी” राह में “तेरे” रास्ते में सितारे बिछाना चाहता है। तो ये “तेरा” कौन है? प्रेमिका हो सकती है याशा’एरी की प्रेरणा/उमंग inspiration। पैरों तले तारे बिछाने का मतलब अच्छे अश’आर भेंट करना।
४
शा’एर ज़माने को देख समझ चुका है, परख चुका है। ज़माने के दुख दर्द सहन करने पड़े हैं। वो ये सब कुछ तो समझता है लेकिन कहता है के अब “तुझे” आज़्माना चाहता हूं। यहां पर भी “तुझे” का मतलब शा’एरी की प्रेरणा/उमंग हो सकता है, और इसे आज़्माने का मतलब दुनिया के जो कुछ दुख दर्द देखे समझे हैं उनको अश’आर में ढालना/लिखना।
५
कुछ बात हुई है जो शा’एर भूल जाना चाहता है। लेकिन वही बात रह-रह कर याद आ रही है। मुमकिन है के ये बात उस की ज़िंदगी के तज्रुबे हों, ज़िंदगी का दुख दर्द हो। प्रेमिका ज़ुल्म भी हो सकता है। ये बात रह-रह कर यूं याद आ रही है के वो भूल नहीं सकता और इस बात को अपनी शा’एरी में ढाले बग़ैर रह नहीं सकता।
६
होंठों पर मुस्कुराहट खेलती है जब के दिल चाहता है के आंसू बहाए। इसका मतलब मैं यूं समझता हूं के मुस्कुराना ऊपरी/सतही ख़ुशी है। गुढ शे’र नहीं शब्द-माला, शब्द जोड़ना है। तरन्नुम का राग है। सभा को ख़ुश करने के अश’आर हैं। जब के शा’एर का दिल चाहता है के ज़िंदगी के ग़म के बारे में लिखे चाहे आंसू निकल पढें।
७
यहां पर बिजली गिरने का ये मतलब निकाला जा सकता हैअश्वर लिखने की कोशिश में जल जानाशेयर पर ये कैफियत कई बार गुजरी है लेकिन वो मुस्कुराते रहना चाहता है कोशिश जारी रखना चाहता है इस उम्मीद में के उसका इंस्पिरेशन उसका साथ देगा
८
अब शा’एर बर्क़-ए तजल्ली – शा’एरी की उमंग inspiration को दावत देता है के हाथ ना रोके, कोई झिझक न हो। शा’एर अपना नशेमन/घोंसला/घर जलाने के लिये तय्यार है। घर जल सकता है क्यूंके ये बिजली बड़ी तेज़ हो सकती है – उमंग बढी ऊंची हो सकती है। ये अपनी मानता का जोखिम लेने के लिये तय्यार है। सतही शब्द-माला की, सभा को ख़ुश करने की ग़ज़ल छोड़ कर वो लिखना चाहता है जो लिखना जरूरी है।
९
यही बात ग़ज़ल के आख़री शे’र में बड़ी सफ़ाई से कही गई है। शा’एर ये चाहता है के ज़िंदगी के रुख़ से – चेहरे से – नक़ाब उलट दे। जिंदगी की असल सूरत – सही रूप – उसकी हक़ीक़त को अपने अश’आर में प्रकट करे।
haqiiqat dikhaane ko jii chaahta hai – sikandar ali vajd
sikandar ali vajd (1914-1983) auraNgabad/hyderabad was a progressive, thoughtful poet with bulk of his college education in hyderabad, a contemporary of maKhdoom. He qualified for the Hyderabad Civil Service and served as munsif magistrate and later as sessions judge. He got absorbed into the maharashTra state service when auraNgabad was split away from the erstwhile hyderabad state into maharashTra. He was elected to the rajya sabha (1972) and awarded padma shri (1970). His writings are politically sensitive and have healthy sufiyaana content.
1.wound
In order to understand the deeper meaning of this Ghazal we have to resolve who “ter’e” is. At first reading it might appear to be the conventional romantic beloved. Yes, that can apply but I suggest that a richer alternative is – poetic inspiration, the muse of the poet. He wants to come nearer his muse i.e., he wants to attempt to write poetry and in the process experience new wounds. These wounds could be the pain of creativity, the uncertainty of having produced a beautiful Ghazal/nazm.
1.wave 2.rhythm, harmony
Perhaps the wave of musical expression might come towards him (the musicality of his verse). He is impelled by this inspiration to compose and sing a song.
1.path 2.traveller, seeker
Here the grammar is not very clean but the subject is the rahnavard-e muhabbat the poet himself. He is the seeker in the path of love and the teri continues to be addressed to the muse/inspiration. The traveller in the path of love wants to spread stars in the path of the muse/inspiration.
1.the world, life 2.tried and tested, experienced
I have tried and tested the world i.e., I have experienced the joys and sorrows that the world has to offer. I know that field well. Now I want to try my hand at testing you i.e., test the muse and see if he can write good verse.
The very experience that I am trying to forget, comes back to my memory again and again. What is it that the poet is trying to forget – the pain, the trials and tribulations that he has experienced in testing the world. It is that which rises in his memory and it is that which he feels compelled to compose verse about.
1.lips 2.smile
A smile plays on my lips, when the eyes wish to shed tears. I read the deeper meaning as tabassum being the superficial joy, wordsmithing, musicality, crowd pleasing verse, when his heart really wants to write to the pain of life (which may mean that he has to forgo crowd pleasing, forgo popular acceptance).
1.times, instances, often
bijli girna can be interpreted as attempts to write verse and failing. The poet has gone through this many times, yet he wants to keep smiling, keep trying and implies that he hopes the muse will stay with him.
1.formality, hesitation 2.lightning 3.flash, brilliance 4.nest
The poet invites the blaze of inspiration barq-e tajalli to not hold back, not hesitate. He is prepared to have his nasheman burnt; he is ready to sacrifice his comfort, reputation and safe conventions of superficial crowd pleasing verse and write about what needs to be really written about.
1.face 2.veil 3.truth, reality
The poet wants to the lift the veil from the face of life, not hide the ugly truth about the pain of life and show the truth through his verse.
The post haqiiqat dikhaane ko jii chaahta hai-sikandar ali vajd appeared first on UrduShahkar.
https://urdushahkar.org/wp-content/uploads/2026/01/shpvjf-vafa-ka-mazaar-tha-audio.mp3
Recitation
وفا کا مزار تھا ۔ شِو پرشاد وشِشٹ جاویدؔ فتح پوری
۱
وہ جو داغِ عشق تھا خوش نما، جو امانتِ دلِ زار تھا
سرِ بزم تھا تو چراغ تھا، سر راہ تھا تو غبار تھا
۲
اسے میں ہی جانوں ہوں دوستو، کسو وقت اپنا بھی یار تھا
کبھو موم تھا، کبھو سنگ تھا، کبھو پھول تھا، کبھو خار تھا
۳
تیری یاد ہے کہ بجھی بجھی، تیرا ذکر ہے کہ رُکا رُکا
تیری یاد سے تو سکون تھا، تیرے ذکر سے تو قرار تھا
۴
یہ تو وقت وقت کی بات ہے، ہمیں اُن سے کوئی گلہ نہیں
وہ ہوں آج ہم سے خفا خفا، کبھو ہم سے اُن کو بھی پیار تھا
۵
وہ نگر تو کب کا اُجڑ گیا ہم اُسی نگر سے تو آئے ہیں
کہیں مقبرا تھا خلوص کا، تو کہیں وفا کا مزار تھا
۶
جسے شوق تھا تیری دید کا، جسے پیاس تھی تیرے پیار کی
جو تیری گلی میں مقیم تھا، وہی اجنبی سرِ دار تھا
۷
تیرے دل سے میرا خلوصِ دل نہ جھلک سکا تو میں کیا کروں
میرے عکس کی تو خطا نہ تھی تیرے آئینے پہ غبار تھا
جاویدؔ فتح پوری، شِو پرشاد وشِشٹ (۱۹۲۰۔۱۹۹۴)۔ ایم۔اے کی تعلیم کے دوران ہی دہلی کالج میں اُردو کے لکچرر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ کچھ دن حیدرآباد میں مُلاّ وجہی پر تحقیق کی، مقالہ لکّھا اور پی۔ایچ۔ڈی حاصل کی۔ مولوی عبدالحق کے ساتھ بھی کام کیا۔ شمیم کرمانی کے شاگرد رہے۔ جاویدؔ وششٹ کی تصانیف میں نظم اور غزل کے مجموؤں کے علاوہ دکھنی تاریخی کتابیں، دکھنی اُردو کا لغت اور ادبی تاریخ بھی شامل ہے۔ ذاکر حسین کالج کے شعبۂ اُردو میں کام کرتے تھے۔ یہ غزل میر تقی میرؔ کی ” وہی آفتِ دلِ عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا” کی طرح میں کہی گئی ہے۔
۱
وہ جو داغِ عشق تھا خوش نما، جو امانتِ دلِ زار تھا
سرِ بزم۱ تھا تو چراغ تھا، سر راہ۲ تھا تو غبار۳ تھا
۱۔محفل کا اعلیٰ مقام ۲۔عام راستے کے کنارے ۳۔گرد، بے مصرف، بے قدر
غم کا مارا دل، دلِ زار میں جو عشق کا داغ تھا، جو اُس دل کی امانت تھا، جب تک کہ بزم میں نظر آتا رہا محبوب کے سامنے رہا، اُس وقت تک بڑا خوشنُما تھا۔ چراغ کی طرح روشن تھا۔ لیکن جب سرِ راہ آ گیا، جب کھلے عام نظر آنے لگا تو پھر غُبار ہو گیا، بے آبرو ہو گیا۔ یعنی اپنے عشق کا داغ احتیاط سے چھپائے رکھو منظرِ عام پر نہ لاؤ۔ مہیندر پرتاپ چاند کا کہنا ہے ۔۔۔
متاع غم کو بچا رکھ چھپا کے سینے میں
تو اس خزانے کو اوروں میں بانٹتا کیا ہے
۲
اسے میں ہی جانوں ہوں دوستو، کسو وقت اپنا بھی یار تھا
کبھو موم تھا، کبھو سنگ۱ تھا، کبھو پھول تھا، کبھو خار۲ تھا
۱۔پتّھر ۲۔کانٹا
اس شعر میں شاعر محبوب کی بات کر رہا ہے، کہ دوستو میں ہی ایسا ہوں جو اُسے خوب جانتا ہوں، کیونکہ کسی وقت وہ بھی مجھے اپنا یار سمجھتا تھا۔ وہ کبھی موم کی طرح نرم ہے، کبھی پتھر کی طرح سخت، کبھی پھول کی طرح خوشگوار اور کبھی کانٹے کی طرح چبھتا۔ محبوب اِن سب تضادات کا پتلا ہے۔
۳
تیری یاد ہے کہ بُجھی بُجھی، تیرا ذکر ہے کہ رُکا رُکا
تیری یاد سے تو سکون تھا، تیرے ذکر سے تو قرار تھا
عاشق کا حال اب یوں ہے کہ محبوب کو دیکھے اتنے دن ہو گئے ہین کہ اُس کی یاد دھندلی پڑ رہی ہے۔ اُس کا ذکر اب کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ یاد سے جو سکون ملا کرتا تھا، ذکر سے جو قرار ہوتا تھا، اب یہ بھی میسّر نہیں ہے۔
۴
یہ تو وقت وقت کی بات ہے، ہمیں اُن سے کوئی گلہ نہیں
وہ ہوں آج ہم سے خفا خفا، کبھو ہم سے اُن کو بھی پیار تھا
عاشق اپنے آپ کو تسلّی دے رہا ہے کہ یہ تو وقت کی بات ہے، ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ اُس سے (محبوب سے) مجھے کوئی گِلہ/شکائت نہیں ہے۔ محبوب آج ہم سے خفا ہے لیکن کبھی ہم پہ مہربان بھی تھا۔ یہی خیال عاشق کی تسلّی کے لیے کافی ہے۔
۵
وہ نگر تو کب کا اُجڑ گیا ہم اُسی نگر سے تو آئے ہیں
کہیں مقبرا تھا خلوص۱ کا، تو کہیں وفا کا مزار تھا
۱۔صاف دلی، دوستی، وفاداری
جس شہر میں، جس نگر میں ہم رہتے تھے وہ تو اب اُجڑ گیا۔ ہم اسی اُجڑے نگر سے آئے ہیں جہاں پر کہیں خلوص کا مقبرہ ہے اور کہیں وفا کا مزار ہے۔ خلوص و وفا کا مقبرہ/مزار بننا تمدُّن کی خرابی کی نشانی ہے۔ یہ دو شعر جو عموماً میر تقی میرؔ سے منسوب ہیں لیکن اِس کی پوری صداقت نہیں ہے ۔۔۔
دِلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اُس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی اُجڑے دیار کے
۶
جسے شوق تھا تیری دید۱ کا، جسے پیاس تھی تیرے پیار کی
جو تیری گلی میں مقیم۲ تھا، وہی اجنبی سرِ دار۳ تھا
۱۔نظر آنا، دکھائی دینا ۲۔رہنے والا، بسنے والا ۳۔پھانسی کا تختہ
شاعر/عاشق اپنی ہی بات کر رہا ہے کہ مجھے محبوب کی دید کا شوق تھا، اُسے دیکھنے کی خواہش تھی اور اُس کے پیار کی پیاس تھی۔ اِسی وجہ سے وہ محبوب کی گلی میں اپنی زندگی بسر کرتا تھا کہ اک جھلک ہی مل جائے۔ اُسے محبوب نے اجنبی جانا اور اب وہ اجنبی پھانسی کے تختے پر کھڑا کیا گیا ہے۔ اُس کو محبّت کے اِلزام میں موت کی سزا ملی ہے۔
۷
تیرے دل سے میرا خلوصِ۱ دل نہ جھلک سکا تو میں کیا کروں
میرے عکس۲ کی تو خطا۳ نہ تھی تیرے آئینے پہ غبار۴ تھا
۱۔صاف دلی، دوستی، وفاداری ۲۔آئینے میں شکل/تصویر ۳۔غلطی، کمی ۴۔گرد، میل
شاعر/عاشق محبوب سے مخاطب ہے کہ اگر تیرے دل میں میرے خلوص کی جھلک نظر نہیں آتی تو اِس میں میرے خلوص کے عکس کی کوئی خطا نہیں ہے، میرے خلوص میں کوئی نقص نہیں ہے۔ تیرے آئینے پر ہی غبار ہوگا یعنی تو میری سچی محبت سمجھنے سے قاصر ہے۔
वफ़ा का मज़ार था – शिव प्रसाद वशिष्ट जावेद फ़तहपूरी
१
वो जो दाग़-ए इश्क़ था ख़ुश-नुमा, जो अमानत-ए दिल-ए ज़ार था
सर-ए बज़्म था तो चराग़ था, सर-ए राह था तो ग़ुबार था
२
उसे मैं ही जानूं हूँ दोस्तो, कसू वक़्त अपना भी यार था
कभी मोम था, कभी संग था, कभी फूल था, कभी ख़ार था
३
तेरी याद है के बुझी बुझी, तेरा ज़िक्र है के रुका रुका
तेरी याद से तो सुकून था, तेरे ज़िक्र से तो क़रार था
४
ये तो वक़्त वक़्त की बात है, हमें उन से कोई गिला नहीं
वो हैं आज हम से ख़फ़ा ख़फ़ा, कभी हम से उन को भी प्यार था
५
वो नगर तो कब का उजढ गया, हम उसी नगर से तो आए हैं
कहीं मक़्बरा था ख़ुलूस का, तो कहीं वफ़ा का मज़ार था
६
जिसे शौक़ था तेरी दीद का, जिसे प्यास थी तेरे प्यार की
जो तेरी गली में मुक़ीम था, वही अजनबी सर-ए दार था
७
तेरे दिल से मेरा ख़ुलूस-ए दिल न झलक सका तो मैं क्या करूं
मेरे अक्स की तो ख़ता न थी तेरे आइने पे ग़ुबार था
शिव प्रशाद वशिष्ट जावेद फ़तहपूरी (१९२०-१९९४)। एम-ए कि पढ़ाई के साथ साथ देहली कॉलेज में उर्दू के लेक्चरर का काम करते रहे। कुछ साल हैदराबाद में मुल्ला वज’ही की ज़िंदगी और काम पर तहक़ीक़ की, थीसिस लिखी और पी-एच-डी हासिल की। मौलवी अब्दुल हक़ के साथ काम किया और शमीम किर्मानी के शागिर्द रहे। जावेद वशिष्ट की किताबौं में नज़्म और ग़ज़ल के अलावा दक्खनी इतिहास, दक्खनी उर्दू का शब्दकोश और साहित्यिक इतिहास भी शामिल है। ये ज़ाकेर हुसैन कॉलेज, देहली का उर्दू विभाग में काम करते थे। ये ग़ज़ल मीर तक़ी मीर कि ग़ज़ल “वही आफ़त‐ए दिल‐ए आशिक़ाँ किसू वक़्त हम से भी यार था” की तरह में कही गई है।
१
वो जो दाग़१-ए इश्क़ था ख़ुश-नुमा, जो अमानत२-ए दिल-ए ज़ार३ था
सर-ए-बज़्म४ था तो चराग़ था, सर-ए-राह५ था तो ग़ुबार था
१-घाव का निशान २-सुरक्षित रखना ३-दुखी ४-महफ़िल का उच्च स्थान ५-सब का रास्ता
ग़म का मारा दिल-दिल-ए ज़ार में जो इश्क़ का दाग़ था, जो उस दिल की अमानत था, जो सुरक्षा के लिये दिल को दिया गया था, जब तक के बज़्म/महफ़िल में नज़र आता रहा, महबूब के सामने रहा, उस वक़्त तक बढा ख़ुश-नुमा/सुंदर था। चिराग़ की तरह रौशन था। लेकिन जब सर-ए राह आ गया, जब खुले आ’म नज़र आने लगा तो फिर वो ग़ुबार हो गया, यानी बे-आब्रू हो गया, उस का कोई सम्मान नगीं रहा। शा’एर/आशिक़ का मतलब है के अपने इश्क़ का दाग़ एहतियात से छुपाए रखो। मंज़र-आ’म पर मत लाओ। महेंद्र प्रताप चांद का कहना है —
मता-ए ग़म को बचा रख छुपा के सीने में
तू इस ख़ज़ाने को औरों में बाँटता क्या है
२
उसे मैं ही जानूं हूँ दोस्तो, कसू वक़्त अपना भी यार था
कभी मोम था, कभी संग१ था, कभी फूल था, कभी ख़ार२ था
१-पत्थर २-कांटा
इस शे’र में शा’एर/आशिक़ महबूब के बारे में बात कर रहा है के दोस्तो, मैं ही ऐसा हूं जो उसे ख़ूब जानता हूं, क्यूंके किसी वक़्त वह भी मुझे अपना यार समझता था। वो कभी मोम की तरह नर्म है, कभी पत्थर की तरह सख़्त, कभी फूलों की तरह ख़ुश-गवार और कभी कांटे की तरह चुभता। महबूब इन सब आंतरिक विरोध का पुतला है।
३
तेरी याद है के बुझी बुझी, तेरा ज़िक्र१ है के रुका रुका
तेरी याद से तो सुकून२ था, तेरे ज़िक्र से तो क़रार३ था
१-वर्णन, चर्चा, तारीफ़ २-सुख, शांती ३-चैन, आराम
आशिक़ का हाल अब यूं है के महबूब को देखे इतने दिन हो गए हैं के याद भी धुंधली पड़ रही है। उस का ज़िक्र भी अब कभी-कभी ही होता है। अब तो ये आलम है के याद से जो सुकून मिला करता था, ज़िक्र से जो क़रार होता था, अब वो भी नहीं मिलता।
४
ये तो वक़्त वक़्त की बात है, हमें उन से कोई गिला१ नहीं
वो हैं आज हम से ख़फ़ा२ ख़फ़ा, कभी हम से उन को भी प्यार था
१-शिका’एत, निंदा २-नाराज़, ग़ुस्से में
आशिक़ अपने आप को तसल्ली दे रहा है के ये तो वक़्त की बात है, ऐसा तो होता ही रहता है। उस से/महबूब से मुझे कोई गिला/शिका’एत नहीं है। महबूब आज हम से ख़फा है लेकिन कभी हम पर मेहरबान भी था। यही ख़याल आशिक़ की तसल्ली के लिये काफ़ी है।
५
वो नगर तो कब का उजढ गया, हम उसी नगर से तो आए हैं
कहीं मक़्बरा१ था ख़ुलूस२ का, तो कहीं वफ़ा का मज़ार२ था
१-क़ब्र २-साफ़-दिली, दोस्ती, मोहब्बत ३-समाधी
जिस शहर में, जिस नगर में हम रहते थे वो तो अब उजड़ गया है। हम उस उजड़े नगर से आए हैं जहां पर कहीं ख़ुलूस का मक़्बरा है और कहीं वफ़ा का मज़ार है – ख़ुलूस/वफ़ा का मज़ार/मक़्बरा बन’ना तमद्दुन/संसक्रती की तबाही की निशानी है। ये दो शे’र आ’म तौर पर मीर तक़ी मीर से मंसूब/संबोधित हैं लेकिन इसकी पूरी सदाक़त/जांच नहीं है —
दिल्ली जो एक शहर था ‘आलम में इंतेख़ाब
रहते थे मुंतख़ब ही जहाँ रोज़गार के
उस को फ़लक ने लूट के वीरान कर दिया
हम रहने वाले हैं उसी उजड़े दयार के
६
जिसे शौक़ था तेरी दीद१ का, जिसे प्यास थी तेरे प्यार की
जो तेरी गली में मुक़ीम२ था, वही अजनबी३ सर-ए-दार४ था
१-देखना २-रहने वाला ३-अपरिचित ४-फांसी का तख़्ता
शा’एर/आशिक़ अपनी ही बात कर रहा है के मुझे महबूब की दीद का शौक था, उसे देखने की ख़्वाहिश थी, उस के प्यार की प्यास थी। इसी वजह से वो महबूब की गली में रहता था, वहीं ज़िंदगी बसर करता था के एक झलक ही मिल जाए। उसे महबूब ने अजनबी समझा और अब वो अजनबी फांसी के तख़्ते पर खड़ा है। उस को मोहब्बत के इल्ज़ाम में मौत की सज़ा मिली है।
७
तेरे दिल से मेरा ख़ुलूस१-ए दिल न झलक सका तो मैं क्या करूं
मेरे अक्स२ की तो ख़ता३ न थी तेरे आइने पे ग़ुबार४ था
१-साफ़-दिली, दोस्ती, मोहब्बत २-आईने में तस्वीर ३-ग़लती ४-गर्द, मैल
शा’एर/आशिक़ महबूब से मुख़ातिब है के अगर तेरे दिल में मेरे ख़ुलूस की झलक नज़र नहीं आती तो इस में मेरे ख़ुलूस के अक्स की कोई ख़ता/दोष नहीं है मेरे ख़ुलूस में कोई नुक़्स/कमी नहीं है। तेरे आईने पर ही कोई ग़ुबार होगा यानी तू मेरी सच्ची मोहब्बत समझने से क़ाबिल नहीं है।
vafa ka mazaar tha – shiv prashad vashishT jaaved fatehpuri
jaaved fatehpuri, shiv prasad vashishT (1920-1994). Started out as lecturer in dehli college while still an MA student. PhD on mulla vaj’hi, working for a while in hyderabad. Studied under maulvi abdul haq for some time. Later shaagird of shamiim kirmaani. There are several collections of his historical and literary works as well as his nazm and Ghazal. Faculty, urdu department, zakir husain college.
1.scar 2.beautiful 3.entrusted 4.sorrowful 5.head of the gathering 6.side of the road
When the scar of love on your heart, entrusted to your sorrowful heart, was displayed at the head of the beloved’s gathering, then it was like the shining lamp but when it was displayed by the side of the road then it was like dust, of no value. Said mahendra pratap chaand ….
1.stone, rock 2.thorn
I know her well friends, for at one time she was my beloved. Sometimes she was soft like wax, at others hard like a rock; sometimes pleasant like flower, at others, sharp like a thorn.
1.extinguished, faint 2.narrative 3.hesitant 4.tranquility 5.peace
The lover has been shunned by the beloved for so long that even her memory has faded, mention of her happens rarely. But there was a time when her memory brought tranquility, talking about her brought peace of mind.
1.complaint 2.annoyed
The lover seems to be consoling himself … this happens from time to time, I have no complaint against her, he says. She is annoyed with me today, but at one time she favoured me. Is he hoping that times will change and that he might win back favours.
1.ruined 2.tomb 3.sincerity, love 4.fidelity 5.grave
The city which is in ruins, I have from that city. There, sincerity was entombed here and fidelity was buried over there. The killing and burial of sincerity and fidelity is a sign of cultural decay. These two ash’aar are generally attributed to mir taqi mir but there is not authentication …
1.sight, glimpse 2.resident, living in 3.stranger 4.gallows, hanging platform
The who desired a glimpse of you, the one who was thirsty for your love, the one who lived in your street (in the hope of catching a glimpse), the one who you were oblivious of, who was a stranger to you, is now on the gallows, charged with loving you. Of course, this is figurative – meaning that the lover is dying of neglect and indifference.
1.sincerity, love 2.reflection 3.fault 4.dust
In urdu poetic tradition the heart is like a mirror. Says the lover – if the sincerity of the love in my heart could not leave an impression on your heart, what can I do. This was not a fault of the reflection of my love, the mirror of your heart was covered with dust i.e., you were unable to see/feel the sincerity of my love.
The post vafaa ka mazaar tha-shiv prashaad vashishT jaaved fatehpuri appeared first on UrduShahkar.